حاکم وقت کی مدح سرائی کیوں؟ کیا شراب خانے بند اور سود ختم کردیا گیا ؟کیا بے حیائی ختم کرا دی؟

وزیراعظم کے احساس پروگرام کی فنڈ ریزنگ کے دوران مولانا طارق جمیل کی باتوں پر سوشل میڈیا میں تنقید کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مولانا طارق جمیل حاکم وقت کی مدح سرائی کیوں کر رہے ہیں ۔کیا حکمران نے ملک میں بے حیائی ختم کرادی ہے کیا حکمران نے ملک میں سود ختم کردیا ہے ۔کیا حکمران نے ملک میں شراب خانے بند کرادیئے ہیں پھر مولانا طارق جمیل عمران خان کی تعریفیں کیوں کر رہے ہیں کیا 22 کروڑ عوام اور میڈیا والے سب جھوٹے ہیں ۔لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انہیں نہیں معلوم کہ کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی کی دل آزاری کرنا ہے ۔لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم سب کی مائیں بہنیں بیٹیاں ہم سب ایسے ہیں جیسے طارق جمیل نے بتایا ہے کیا کوئی اچھا نہیں ہے ۔انہوں نے 22 کروڑ عوام میں سب کو کیوں لپیٹ لیا میڈیا فوج سب 22کروڑ میں آتے ہی انہوں نے کو سب کو جھوٹا قرار دے دیا ۔کیا پورے ملک میں صرف عمران خان ہی صادق اور امین انہیں نظر آتے ہیں ۔

ان سوالات پر سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین نے کہا ہے کہ جس طرح حاکمِ وقت کو فرشتہ صفت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے یہ بہت بڑی سیاسی حماقت ہے جو نیک ہوتا ہے وہ سب کو نظر اتا ہے کسی سے کہلوانے سے نیک نہیں ہو سکتا نہ ہی کسی کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کے ایمان کے درجے کا تعین کرے یہ ترازو ہم میں سے کسی کے پاس نہیں اللہ نے یہ ترازو اپنے پاس رکھا ہے ۔حق میں وقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دوسروں کو کمتر پیش کرنا انتہائی معیوب بات ہے تاریخ میں مدح سرائی کی مثالیں ملتی ہیں کیمرہ بہت بڑا احتسابی آلہ ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے کے درجات کو بلند یا پست کرکے نہیں بتا سکتا ۔دین کو سیاسی نااہلی پر چادر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔
لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اجڑا ہوا پاکستان ملا ۔یہ بتایا جائے کہ پہلے سے اجڑا ہوا تھا یا انہوں نے آکر اجاڑدیا ۔پہلے دوائیوں کی قیمت بڑھانے کا اسکینڈل آیا پھر آٹا مہنگا گندم مہنگی پھر چینی مہنگی اور اب مہنگی بجلی کا اسکینڈل آیا سب رپورٹوں میں ان کے اپنے وزیر اور ساتھی سامنے آرہے ہیں کیا یہ حکومت صحیح سمت میں جا رہی ہے ۔
لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ چندے والی سرکار کی مولانا طارق جمیل لکھنی تعریف کیوں کر رہے ہیں ۔ان سوالات پر طلعت حسین کا جواب ہے کہ چندو ں کے ذریعے فلاحی تنظیم تو چلائی جا سکتی ہیں محدود پیمانے پر کچھ عرصہ کے لیے لوگوں کی مدد اور کفالت تو کی جاسکتی ہے لیکن قومی پالیسیاں اور فیصلے چندے کے ذریعے نہیں چلائے جاسکتے پوری دنیا اس وقت ایک وبا کی لپیٹ میں آئی ہوئی ہے تین یا چار ملک ایسے ہونگے جہاں یہ نہیں ہے میرے نزدیک چندہ مہم ایک پبلسٹی اسٹنٹ سے زیادہ کچھ نہیں تمام تر حربوں کے باوجود جتنی رقم جمع ہوئی ہے اتنے میں تو کراچی میں چار پانچ بنگلے آتے ہیں ۔پوری دنیا میں کہیں پر بھی اس قسم کا سرکس نہیں لگایا گیا صرف اپنی تشہیر کی جارہی ہے اس کا قوم کو کوئی فائدہ نہیں جن لوگوں سے آپ پیسہ مانگ رہے ہیں وہ خود لاکھ ڈاؤن میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن ساری زندگی کام ہی یہ کیا ہے جس طرح جاوید میانداد نے سب کو بتا دیا ہے ۔بس انہوں نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔