یہ کونسی مدینے کی ریاست ہے جہاں حکمران عوام کے آگے جوابدہ نہیں ؟کیا ایوان صدر سرکاری ادارہ نہیں ؟

سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ عام شہریوں کو ایوان صدر سے معلومات تک رسائی کا حق کیوں نہیں ۔کیا ایوان صدر سرکاری ادارہ نہیں ہے ۔یہ کونسی مدینے کی ریاست ہے جہاں حکمران عوام کے آگے جواب دے نہیں ہے ۔ایک شہری نے ایوان صدر میں ملازمین کے متعلق معلومات مانگی تھی سوال اٹھایا تھا کہ کتنے ملازمین ہیں کتنا بجٹ ہے کس بارے میں جواب نہیں دیا گیا ۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں اس حوالے سے بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور اب یہ بات عدالت میں جائے گی ضرور ۔مسلمانوں کی تاریخ تو یہ ہے کہ خلیفہ وقت بھی سوال کرنے پر جواب دیتا تھا۔

نجم سیٹھی نے ذکر کیا کہ عمر چیمہ نے اس حوالے سے لکھ بھی دیا ہے اور خود عمران خان کی مرتبہ ریاست مدینہ کے حوالے دے چکے ہیں لہذا جب شہری نے ایوان صدر سے ملازمین کی تعداد اور بجٹ کے اخراجات وغیرہ کی تفصیلات مانگی تو جواب ملنا چاہیے تھا لیکن حیران کن طور پر یہ جواب دیا گیا کہ یہ قانون ہم پر لاگو نہیں ہوتا ہم جواب نہیں دیں گے یہ معاملہ 6مہینے تک چل رہا تھا پہلے تو جواب نہیں دیا گیا پھر دھمکی دی پھر معاملہ عدالت میں چلا گیا اب سوال یہ ہے کہ صدر علوی نے جواب دیا ہے یا بیوروکریسی نے ؟
نجم سیٹھی نے کہا میرا خیال ہے صدر علوی کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔شاید یہ جواب ان کے علم میں بھی نہیں ہوگا اور ایوان صدر کے سیکرٹری نے خود ہی فیصلہ کر لیا ہوگا کہ ہم کیوں جواب دیں ورنہ کل یہ اور سوال پوچھ لیں گے ۔

نجم سیٹھی نے کہاکہ قانون کیا کہتا ہے اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہو جائے گا لیکن ایوان صدر کو پبلک کے لئے اوپن رکھنا چاہیے کل کو یہ سوال تو پارلیمنٹ میں بھی کوئی پوچھ سکتا ہے اگر کوئی منتخب ممبر قومی اسمبلی یا سینیٹر یہ سوال پوچھے گا تو پھر سیکٹری ایوان صدر کیا کریں گے پھر تو یہ پر ویلیج کا مسئلہ بن جائے گا ۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ ہمارے یہاں بیوروکریٹس پبلک سرونٹ ہونے کے باوجود پبلک سروس نہیں کرتے بلکہ سول سروس کرتے ہیں اور باتوں کو چھپاتے ہیں ۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی ایک اچھی طبیعت ہے انسان ہے شریف آدمی ہیں ان کے پاس چھپانے کے لیے کیا ہے ۔نہ تو وہ شاہانہ اخراجات کرتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ انہیں ایوان صدر کی معلومات کو عوام تک اوپن کر دینا چاہیے