30 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے مبشرلقمان نے کیسے ملک ریاض کی ناک میں دم کر رکھا تھا ۔

ملک ریاض کی جانب سے اپنا ٹی وی چینل آپ ٹی وی بند کیے جانے کے بعد سے نئے نئے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے مختلف شخصیات اور اداروں کے حوالے سے نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور لوگ بتارہے ہیں کہ آپ ٹی وی کا ڈسپلن کس طرح اور کس نے تباہ کر رکھا تھا اور ملک ریاض یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ میں کس سیاپے میں پڑ گیا ہو ں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک وی لاگ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مبشر لقمان آپ ٹی وی میں ملک ریاض انتظامیہ سے ماہانہ تیس لاکھ روپے تنخواہ لے رہے تھے اور اپنے ایگزیکٹو پروڈیوسر کو تین لاکھ روپے کی بجائے پانچ لاکھ روپے دلانے پر بضد رہے جس پر ان کا جھگڑا بھی ہوا اور ایک موقع پر انہوں نے ستر لاکھ روپے کا چیک وصول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ پہلے میرے ایگزیکٹو پروڈیوسر کو پانچ لاکھ روپے کے حساب سے پیمنٹ کی جائے

لیکن اکاؤنٹ افسر نے انہیں بتایا کہ ملک صاحب نے آپ سے درخواست کی ہے کہ پہلے آپ اپنا چیک وصول کرلیں پھر ایکٹیو سر کا معاملہ بھی دیکھ لیں گے لیکن ملک ریاض کو انتہائی غصے میں فون ملا کر مبشر لقمان نے سب کے سامنے یہ کہا کہ اگر ملک ریاض آپ کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں تو پورا چینل مجھے دے دیں میں چلا لوں گا مبشر لقمان کی غصے میں کی گئی بات یولیگ ریاض کو بہت بری لگی اور انہوں نے کہا کہ میں کس سیاپے میں پڑ گیا ہو ں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2019 میں ملک ریاض نے جب آپ ٹی وی کے معاملات کو سنبھالا تو ان کی نظر میں رات 10 بجے کی سلاٹ کے لیے مبشر لقمان موزوں آدمی تھے ماضی میں دنیا ٹی وی پر وہ ایک خصوصی پروگرام بھی کر چکے تھے جس کی آڈیو تفصیلات لیک ہو گئی تھی تب سے سب لوگ جانتے ہیں کہ ملک ریاض اور مبشرلقمان کے درمیان کتنے اچھے تعلقات تھے اور ملک ریاض کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتے بلکہ ہر اس شخص کو بھی نواز دیتے ہیں جو ان کے لیے کام کرنے پر صرف رضامندی کا اظہار کرتا ہے ۔مبشر لقمان 24 چینل چھوڑ کر اپنا یوٹیوب چینل چلا رہے تھے ملک ریاض انہیں آپ ٹی وی میں لے آئے ۔

آپ ٹی وی میں مبشر لقمان کا سب سے پہلا جھگڑا ڈائریکٹر عبدالرؤف سے ہوا دوسرا اور تیسرا جھگڑا بھی انہی سے ہوا اور پھر یہ معمول بن گیا اونچی آواز میں وہ گالیاں دیتے اور آسمان سر پر اٹھا لیتے ۔آپ ٹی وی میں چار مہینے کے مختصر دورانیے میں مبشر لقمان کی ملک ریاض سمیت کافی لوگوں سے منہ ماری ہوئی ۔

مبشر لقمان کا عبدالرؤف سے یا عبدالروف کا مبشرلقمان سے مسئلہ کیا تھا اس حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مبشرلقمان یہ چاہتے تھے کہ ان کی ٹیم صرف ان کو جواب دے ہونی چاہیے کوئی اور ناتوان کی ٹیم سے سوال کرے نہ ہی کسی چیز کا پابند بنائے ۔

مبشر لقمان کے پروڈیوسر نوید اور ایگزیکٹو اویس دو گھنٹے پہلے آفس آتے تھے تمام اسٹاف کے لئے روزانہ آٹھ گھنٹے آفس کو دینا لازمی تھا ڈائریکٹر عبدالرؤف نے مبشر لقمان کی ٹیم کی میٹنگ بلائی اور پابند کیا کے آٹھ گھنٹے دفتر کو ضرور دیں مبشرلقمان کو جب یہ بات پتہ چلی تو وہ غصے میں آفس آئے اور سیدھا عبدالرؤف کے کمرے میں جاکر ان کو گالیاں دینے لگے اور کہا کہ آئندہ کوئی میری ٹیم کو کوئی ہدایت نہ دے وہ صرف مجھے جواب دے ہیں ۔

دوسرا مسئلہ ہفتے میں چھ دن ڈیوٹی کا تھا مبشر لقمان کا موقف تھا کہ ان کی ٹیم چار دن دفتر آئے گی اور دو دن ان کے ذاتی دفتر یوٹیوب آفس میں بیٹھے گی اور ایسا ہو بھی رہا تھا مبشر لقمان کے ریسرچر میاں مبشر اور باقی ٹیم ممبران مبشرلقمان کے یوٹیوب آفس میں بیٹھ کر کام کرتے تھے اس وجہ سے آپ ٹیوی کا نظم و نسق خراب ہو رہا تھا جس کی عبدالرؤف مخالفت کر رہے تھے عبدالرؤف کو یہ اعتراض بھی تھا کہ مبشر لقمان نے ان کی اتھارٹی کو چیلنج کر رکھا ہے وہ کسی کی نہ کوئی بات سنتے ہیں نہ کچھ بتاتے ہیں نہ ہی ملک ریاض کی منہ بولی بیٹی ثانیہ ملک کو خاطر میں لاتے تھے ۔مبشرلقمان چاہتے تھے کہ ان کے ایگزیکٹو پروڈیوسر کو پانچ لاکھ روپے تنخواہ دی جائے جبکہ مینجمنٹ کو اعتراض تھا ایچ آر والے کہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ تنخواہ تین لاکھ بنتی ہے ورنہ سارا پے اسکیل خراب ہو جائے گا ۔مبشر لقمان اس تمام عرصے میں دفتر میں مسائل پیدا کرتے رہے یہاں تک کہ چینل بند ہوگیا ۔

Salik-Majeed-for jeeveypakistan.com