ماہ رمضان میں دعوت افطار نہیں ہوگی

ماہ رمضان میں دعوت افطار نہیں ہوگی ۔ وزیر اطلاعات سندھ
کراچی۔24اپریل: صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے موجودہ حالات کے پیش نظر سرکاری سطح پر کوئی بھی دعوت افطار منعقد نہیں ہوگی اور عوام کوبھی چاہئے کہ اس مرتبہ وبائی مرض کورونا کے پیش نظر دعوت افطار کا اہتما م نہ کریں ۔ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے واضح طور پر ہدایت ہے کہ اس دفعہ افطار کی تقریبات منعقد نہ کی جائیں بلکہ اس پر جو رقم خرچ ہوتی ہے اسے غریب اور مستحق لوگوں کی مدد کرنے پر خرچ کیا جائے اور ماہ صیام میں غریب اور ضرورت مند لوگوں تک راشن پہنچایا جائے ۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ سندھ اور وفاق میں کوئی بھی تنازعہ نہیں ہے اور نہ سندھ حکومت لڑنا چاہتی ہے بلکہ آفت کی اس گھڑی میں ہم وفاق کی چھتری میں چلنا چاہتے ہیں تاکہ کورونا کی وباءسے چھٹکارا پا سکیں انہوں نے کہا کہ کچھ وفاقی وزراءاور ترجمان بیانات کے تیر چلا رہے ہیں اور اس پر ہمیں کچھ نہ کچھ جواب دینا پڑتا ہے ہم نہیں چاہتے کہ ہم اختلافات کو مزید بڑھائیں حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم مل کر کورونا جیسے وبائی مرض سے چھٹکارا پائیں نہ کہ ایک دوسرے کے خلاف بیانات کے وار کرتے رہیں ۔

سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم نے تاجروں کی نمائندہ تنظیموں سے بھی میٹنگ کی ہے اور رمضان المبارک کے دوران کاروبار سے متعلق محکمہ داخلہ ایس او پی اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرے گا انہوں نے کہا کہ احترام رمضان آرڈیننس جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے وزیر اعظم انتہائی قابل احترام ہیں لیکن اگر وہ سندھ حکومت کے لاک ڈاﺅن اور پالیسی کے بارے میں طنزاًکچھ کہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوزیشن واضح کرنی پڑتی ہے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ میں سب سے پہلا کیس 26فروری کو آیا تھا ۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے اسی رات کو اجلاس بلایا اور اس معاملے پر ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دے دی لیکن وزیر اعظم نے 13مارچ کو اس معاملہ پر پہلی میٹنگ کی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس معاملہ پر شروع سے ہی کہا تھا کہ 15دن کا سخت لاک ڈاﺅن ہوجاتا تو صورتحال اس طرح کی نہیں ہوتی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جب پاکستان میڈیکل ایسو ایشن سندھ چیپٹر کے ڈاکٹر زپریس کانفرنس کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ سندھ حکومت نے پریس کانفرنس کروائی ہے اور جب اگلے دن پنجاب میں ڈاکٹرز پریس کانفرنس کرتے ہیں تو اس کی تعریف کی جاتی ہے بات در اصل یہ ہے کہ یہ کھلا تضاد ہے اور جب لوگ وزیر اعلیٰ سندھ کی تعریف کرتے ہیں تو وفاق کو پسند نہیں آتا۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ فضائی اور ٹرین سروس کون معطل کرتا ہے ۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہم پھر یہ بات دہرانا چاہتے ہیں کہ یہ وقت لڑائی کا نہیں ہے ۔ ہم مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خدارا سند ھ حکومت کو ایک ولن کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ حقیقت یہی ہے کہ سندھ سمیت پورا پاکستان اس وقت کورونا کی لپیٹ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارے اقدامات ہمارے لئے بھی تکلیف دہ ہیں ۔ ہم علماءکرام سے بھی مذاکرات کر رہے ہیں ہم یہ نہیں کہ رہے کہ مساجد سے کورونا پھیلے گا بلکہ یہ کہ رہے ہیں کہ اجتماعات سے کورونا پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس لئے اس پر نظر ثانی کی جائے ۔

ہینڈ آﺅٹ نمبر357