تیل اور بجلی مہنگی رکھ کر خزانہ بھرنے کی پالیسی درست نہیں۔میاں زاہد حسین

بجلی سستی اور مہنگائی کم کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
سستی توانائی سے پیداوار، روزگار اور برآمدات بڑھائی جائیں۔
تیل اور بجلی مہنگی رکھ کر خزانہ بھرنے کی پالیسی درست نہیں۔میاں زاہد حسین

(24اپریل2020)
ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں حیران کن حد تک گر گئی ہیں اورتیل پیدا کرنے والے ممالک کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اسکی قیمتیں فوری بڑھنے کا امکان نہیں ہے جس سے بہت سے ممالک بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔حکومت بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں کم کر کے پیداوار، روزگار اور برآمدات بڑھائے تاکہ ملکی معیشت سنبھل سکے اور جی ڈی پی کی گرتی ہوئی شرح پر قابو پایا جا سکے۔

میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بجلی اور تیل کی قیمتیں کم کرنے سے مہنگائی کم ہو جائے گی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمدنی سے محروم ہونے والے کروڑوں غریبوں کو ریلیف ملے گا جن کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ زرمبادلہ کا بڑا حصہ تیل کی خریداری پر لگایا جاتا رہا ہے مگر اب ملک کا آئل امپورٹ بل بہت کم ہو گیا ہے جس سے ادائیگیوں کا توازن بہتر ہو رہا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں 73 فیصد کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال نو ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.284 ارب ڈالر تھا جو اب 2.768 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔سال بھر کے خسارے کا اندازہ چھ ارب ڈالر تھا مگر اب یہ ساڑھے چار ارب ڈالر تک گر سکتا ہے جو 2018 میں بیس ارب ڈالر تھا۔اس صورتحال میں بجلی کی قیمت خطے کے تمام ممالک سے زیادہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ عالمی حالات کی وجہ سے برآمدات گر رہی ہیں جبکہ عالمی بینک نے ترسیلات میں 23 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان مخدوش حالات میں تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی پاکستان اور اس جیسے دیگر تیل درآمد کرنے والے ملکوں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ تیل اور بجلی کی قیمت زیادہ رکھ کر خزانہ بھرنے کی پالیسی درست نہیں ہے کیونکہ اس کا سارا فائدہ بائیس کروڑعوام کے بجائے چند افراد تک منتقل ہو جائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ تیل سستا ہو چکا ہے اس لئے تیل درآمد کرنے کے طویل المیعاد معاہدے کئے جائیں اور ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے جو کہ عالمی اوسط اور پڑوسی ممالک کے مقابلہ میں بہت زیادہ کم ہے اور کسی غیر متوقع صورتحال کی وجہ سے ملک بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔