ملک اور قوم کے مفاد میں استعمال شدہ کاروں کو آنے والے بجٹ میں درآمد کرنے کی اجازت دی جائے

کراچی(اسٹاف رپورٹر )آل پاکستان موٹر ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہمیں استعمال شدہ کاروں کو آنے والے بجٹ میں درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی اپنے رشتہ داروں کو ملک میں گفٹ کے نام پر استعمال شدہ کاریں بھجواتے ہیں لیکن یہ بہت محدود ہوتی ہے لیکن اگر کار ڈیلروں کو اجازت دی جائے تو ہم ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے ملکی خزانے میں جمع کرائیں گے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ اگر ماضی کی طرح کار ڈیلر کو استعمال شدہ کاروں کو درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تو ڈیوٹی کی مد میں خاصی بڑی رقم ملکی خزانے میں جمع ہو سکتی ہے

دوسرے طرف اسمگلنگ اور دو نمبر طریقے سے کاروں کی درآمد کو روکا جا سکتا ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ ملک میں کاریں بنانے کے کارخانے ایک عرصے سے ملک اور عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ سوزوکی کمپنی نے پاکستان میں پہلے پلانٹ لگایا تھا جبکہ بھارت میں ماروتی کے نام سے سوزوکی کمپنی نے ہمارے بعد فیکٹری لگائی لیکن بھارت نے یہ شرط لگائی تھی کہ پانچ سال کے اندر تمام ٹیکنالوجی ملک میں منتقل کر دی جائے گی۔آج بھارت میں تمام کاریں مکمل طور پر ان کے اپنے ملک میں تیار کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ملک میں 95 فیصد کاروں کے پرزہ جات درآمد کیئے جاتے ہیں اور پھر یہاں انہیں اسمبلنگ یعنی صرف جوڑا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام حالات میں اگر یہ پرزے درآمد کیئے جائیں تو 35 فیصد ڈیوٹی دینی پڑتی ہے لیکن اگر کاریں بنانے والی فیکٹری کے مالکان فیکٹری کے نام پر منگوائیں تو صرف 5 فیصد ڈیوٹی دینی پڑتی ہے اس طرح اربوں روپے بچا کر ایک عرصے سے ملکی خزانے کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔انہوں نےکہا کہ یہ نام نہاد کار بنانے والے فیکٹری مالکان ایک طرف ملکی خزانے کو ہر سال اربوں روپے کا چونا لگا رہے ہیں تو دوسری طرف عوام کو انتہائی مہنگی کاریں فروخت کر رہے ہیں۔پھر اون کے نام پر ان کے ایجنٹ عوام سے بھاری رقوم الگ وصول کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہی کاریں ہم امپورٹ کر کے عوام کو انتہائی سستے داموں فروخت کر سکتے ہیں جو ملک میں بننے والی کاروں کے مقابلے میں اعلی کوالٹی اسٹینڈرڈ،روڈ سیفٹی اسٹینڈرڈ اور قمیت کے لحاظ انتہائی سستی ہو گی۔اس طرح ایک عام آدمی بھی ان کاروں کو خرید سکتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ کار بنانے والے فیکٹری مالکان کی جانب سے ایک عرصے سے ملکی خزانے کو شدید نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور عام آدمی کے مفاد میں کار ڈیلروں کو استعمال شدہ کاروں کو موجودہ بجٹ میں درآمد کی اجازت دی جائے۔