نیشنل اسٹیڈیم کراچی ،پاکستانی کرکٹ کا قلعہ

نیشنل اسٹیڈیم کراچی ،پاکستانی کرکٹ کا قلعہ
تحریرشاہ ولی اللہ جنیدی

کراچی میں کھیلوں کے عالی شان گھر نیشنل اسٹیڈیم کا شمار ملک کے چند اہم کھیل کے میدانوں میں ہوتا ہے جہان پچاس سالوں کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دنیا کی نامور ٹیموں کے ساتھ سنسنی خیز ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹاکرے ہوچکے ہیں ۔ گلشن اقبال میں سرشاہ سلیمان روڈ اور پیر صبغت اللہ شاہ روڈ کے سنگھم پرواقع نیشنل اسٹیڈیم کراچی 26 فروری 1955 کو کرکٹ کلب آف انڈیا بمبئی کی طرز پر بنایا گیا ۔ اس کا نقشہ بمبئی میں برابورن اسٹیڈیم کے آرکیٹیکٹ نے تیار کیا تھا ۔ نیشنل اسٹیڈیم کی تعمیرتین ماہ کے عرصے میں مکمل کی گئی ۔ ابتدا میں کھیلوں کے اس بڑے میدان میں چالیس ہزار لوگوں کے میچ دیکھنے کی گنجائش رکھی گئی تھی اسٹیڈیم کو جدید برقی لائٹیں اور دیو ہیکل ٹیلی اسکرین نصب کرکے مزید بہتر بنایا گیا ہے ، جس کی وجہ سے اب اسٹیڈیم کا شمار دنیا کے جدید ترین گراؤنڈز میں ہوتا ہے ۔ نیشنل اسٹیڈیم کی تعمیر کا سہرا چیف کمشنر کراچی سید ابوطالب نقوی اور تعمیرات عامہ کے سربراہ چیف انجنئر کفیل احمد کے سر ہے۔ ان دنوں یہ میدان پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت ہے جب کہ کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن نے کافی عرصے تک نیشنل اسٹیڈیم کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں تاہم عملا ایسوسی ایشن کی سرگرمیاں کرکٹ بورڈ کی جانب نئے حکم نامے تک معطل ہیں۔ کھیل کے اس بڑے میدان کے دو کنارے پویلین اینڈ اور یونیورسٹی اینڈ کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں ۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پہلا ٹیسٹ میچ 26 فروری تا یکم مارچ1955 کے دوران پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا ۔ جبکہ آخری بار پاکستان اورسری لنکا کی ٹیمیں دسمبر2019میں ایک دوسرے کے مدمقابل ایکشن میں دکھائی دیں۔

پاکستان کرکٹ ٹیم مجموعی طورپر نیشنل کرکٹ اسٹڈیم کراچی میں اب تک 42 ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہے ۔ جس میں اسے 22میچ میں فتح اور صرف 2میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ قومی ٹیم کو اسی میدان میں 1955سے لے کر 2000 یعنی کہ 45 سال تک ناقابل شکست رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے ۔ سال 2000میں انگلینڈ جبکہ 2007 میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ میچ میں شکست دی تھی۔ سال 2009 نو میں سری لنکن ٹیم پرلاہور میں ہونے والے دہشت گردی کی حملے کے تقریبا 10سال کے بعد دسمبر 2019میں نیشنل اسٹیڈٰیم کراچی پاکستان اور سری لنکا کےٹیمیں مدمقابل آئیں ۔ فتح پاکستان کےحصے میں آئی جبکہ 5اپریل سے 9 اپریل 2020 تک شیڈول بنگلا دیش کیخلاف ٹیسٹ میچ کورونا وبا کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا ۔

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے1982میں اسی اسٹیڈیم میں بھارت کیخلاف میچ میں مجموعی طورپر 11وکٹیں لے کر منفرد اعزاز حاصل کیا۔ لیجنڈ بھارتی بلےباز سیچن ٹنڈولکر نے 1989میں اپنا ڈبییو ٹیسٹ میچ بھی نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا تھا۔ سابق کپتان یونس خان نے2009میں سری لنکا کیخلاف 313رنز کی یادگار اننگز بھی اسی تاریخی اسٹیڈیم میں کھیلی

نیشنل اسٹڈیم کراچی میں پہلا ایک روزہ کرکٹ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان 21 نومبر 1980 جبکہ آخری مقابلہ 2اکتوبر2019کو سری لنکا کیخلاف کھیلا گیا ۔ عالمی کورونا وائرس کے وبا کےباعث یکم اپریل 2020 کو بنگلا دیش کیخلاف واحد ایک روزہ میچ ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسی گرا ؤ نڈ پر ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ 20 اپریل2008میں ہوا پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، پاکستان نے میچ کا نتیجہ 102 رنز سے اپنے نام کیا۔ جبکہ2018 میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں( پاکستان سپر لیگ ) پی ایس ایل کا فائنل میچ ہوا تھا جس کے دو روز بعد پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سریز کا انعقاد ہوا ۔ تین میچز پر مشتمل سیریز پاکستان نے جیت لی ۔ ملک کے سب سے بڑے سٹیڈیم کو اب تک ورلڈ کپ1987 اور عالمی کپ 1996 کے6میچز کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اسی گراونڈ میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ میں 765 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے اور آسٹریلیا کو 80 کے سب سے کم اسکور پر پویلین کی راہ دکھانے سمیت متعدد ریکارڈز بنانے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔ اس اسٹیڈیم میں کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 1982 میں انڈیا کے خلاف میچ میں اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی 200 وکٹیں مکمل کیں تھیں ۔ 2005کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے موقع ہنگامہ آرائی کے دوران اسٹیڈیم کو نقصان پہنچا تھا۔ اسٹیڈیم کی متعدد مرتبہ مرمت، تزئین و آرائش کا کام ہوچکا ہے تاہم 2018میں پی ایس ایل کے میچوں اور فائنل میچ کونیشنل اسٹیڈیم میں کرانے کے لئے ڈیڑھ ارب سےزائد خطیر رقم سے ازسر نو مرمت، تزئین و آرائش کرکے اس کواپ گریڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اسٹیڈیم میں تقریباً 30سے 33 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوچکی ہے یہاں لگی پرانی چھتیں ہٹا کر جرمنی سے منگوائے گئے شیڈ لگوائے گئے ہیں ۔ نیشل اسٹیڈیم میں اب تک کئی میچیز منسوخ ہوچکے ہیں پہلا میچ 1982 میں آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ کے شائقین کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے منسوخ ہوا۔دوسرا میچ بھی آسٹریلیا کے خلاف 1988 میں ہنگامہ آرائی کے باعث منسوخ ہوا جب کہ تیسرا میچ بھارت کے خلاف 1989 میں منسوخ ہوا۔اس کے علاوہ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے دو ٹیسٹ میچز بھی 1984 اور 2002 میں منسوخ ہو چکے ہیں اسی طرح ستمبر2019 کوپاکستان اور سری لنکا کے درمیان منسوخ ہونے والا میچ نیشنل اسٹیڈیم کی تاریخ کا پہلا میچ ہے جو بارش کے باعث منسوخ ہوا۔ پہلا ایک روزہ میچ کوجمعہ 27 سستمبر کی دوپہر شروع ہونا تھا، ۔کراچی کے اس تاریخی کھیلوں کے میدان میں۲۳ جنوری ۱۹۵۸ کو اسماعیلی فرقے کے ۴۹وین امام پرنس کریم آغا خان کی رسم تخت نشینی ادا کی گئی تھی ، تقریب میں صدر اسکندر مرزا اور وزیراعظم فیروز خان نون نے بھی شرکت کی تھی ۔ تقریب میں دنیا بھر سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد آغاخانی برادری کے افراد نے شرکت کی ۔ ۱۶فروری۱۹۸۱ءکو پاپ جان پال دوئم کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ پوپ جان پال کی نیشنل اسٹیڈیم آمد سے پہلے استٰڈیم کے باہر سڑک پر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا 9 جولائی 2016 کو اسٹیڈیم میں انسانیت کے خدمت گارعبدالستار ایدھی کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی نماز جنازہ میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، صدرمملکت ممنون حسین، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، نیول چیف،کور کمانڈر،ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور وزیرداخلہ سمیت دیگر اہم سماجی ، سیاسی اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اورایدھی سے محبت کرنے والے عوام بھی شریک ہو ئے تھے،