کابینہ کے اجلاس میں دو وفاقی وزیروں کو کیوں اٹھایا گیا ۔اندرونی کہانی روف کلاسرا نے بتادی

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اہم اجلاس میں دو وفاقی وزیروں کو اجلاس کے دوران باہر کیوں بھیج دیا گیا اس حوالے سے سینئر صحافی روف کلاسرا نے اجلاس کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دو وزیروں کو اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی وہ عبدالرزاق داؤد اور ندیم بابر تھے اجلاس میں اسد عمر نے آئی پی پی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنی تھی جس پر بحث ہونی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ وزیر بینیفیشری میں شامل ہیں ۔

رؤف کلاسرا نے کہاکہ یہ حیران کن بات ہے کہ ندیم بابر کا اپنا پلانٹ ہے اور وہ لندن میں حکومت پاکستان پر ماضی میں 11 ارب روپے کا کیس کر چکے ہیں آج وہ کابینہ کا حصہ ہیں اور کتنی حیران کن بات ہے تحریک انصاف کی کابینہ میں بعض ایسے وزیر شامل ہیں جن کے سامنے کھلی بحث نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ بینیفشری ہیں اور یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے کہ وہاں ایسے موضوع پر بات ہو رہی ہے جن کے بینیفیشری کابینہ کا حصہ ہے ۔
رؤف کلاسرا نے کہا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب وزیراعظم عمران خان کو پتہ چل گیا کہ کون کون لوگ بینیفیشری ہیں تو پھر ان کو استیفا لے کر گھر بھیج دینا چاہیے تھا تھا لیکن ابھی تک یہ لوگ کابینہ کا حصہ ہی کمال کی بات ہے ۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خیال رکھیں اور محتاط رہیں کہ حقیقی سرمایہ کار متاثر نہ ہو اور دوسرا یہ کہ چین کا معاملہ ہے اس پر محتاط گفتگو کریں ۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ آج کسی وزیر کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کابینہ کے اجلاس میں پوچھتا کہ جو بینیفیشری وزیر ہیں وہ کابینہ کا حصہ کیوں ہے ۔
ماضی کی باتیں یاد کرتے ہوئے رؤف کلاسرا نے بتایا کہ جب نواز شریف کی حکومت آئی تو اسحاق ڈار نے پاور کمپنیوں کو 480 ارب روپے کی ادائیگی فوری طور پر کرائی تھی مجھے اچھی طرح یاد ہے 27جون کا دن تھا میں نے اسٹوری بریک کی تھی ایک دن میں سارا کام کرادیا گیا تھا لاہور کے نیشنل بینک برانچ میں پیسے ٹرانسفر ہوئے تھے اور گیارہ ایپی کمپنیوں میں پیسے چلے گئے تھے جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان رانا اختر بلند نے اعتراض کیا تو ان کے خلاف انکوائری شروع کرادی گئی تھی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر عارف علوی کو وہ انکوائری سونپی گئی تھی آج وہی ڈاکٹر عارف علوی صدر پاکستان ہیں ۔
آج پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور 500 ارب سے زیادہ کی پیمنٹ آئی پی پی کمپنیوں کو کی جاچکی ہے آج بھی یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کیا یہ رقم آڈٹ کرانے کے بعد دی گئی یا ڈائریکٹ کر دی گئی مراد سعید جیسے وزیر کو اس صورتحال کا خود نوٹس لینا چاہیے کیونکہ ایسے معاملے میں وہ بیان دیتے رہے ہیں ۔