شہباز شریف کی وزیر اعظم بننے کی ڈیل کہاں اور کیسے ختم ہوئی ؟ سہیل وڑائچ حقائق سامنے لے آئے

اکستان کے دو سینئر صحافیوں نجم سیٹھی اور رؤف کلاسرا نے سہیل وڑائچ کے حوالے سے شہباز شریف کی وہ کہانی بیان کر دی ہے جو کافی عرصے سے ایک معمہ بنی ہوئی تھی ۔شہباز شریف کی واپسی کے بعد سہیل وڑائچ نے جو کالم لکھے ہیں اس میں انہوں نے اور کے درمیان ہونے والی ڈیل کی مکمل روداد بیان کردی ہے نجم سیٹھی اور رؤف کلاسرا نے اپنے پروگرام اسی حوالے سے کئے ہیں اور سہیل وڑائچ کی بہت تعریف کی ہے ۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کرسٹو پر مار لو ایک انگلش ڈرامہ نگار تھے شکسپیئر کے دور میں ہیں ان کا بھی ذکر آتا ہے انہوں نے اپنی روح کا سودا کرنے کی جو کہانی لکھیں وہی کہانی ہمیں پاکستانی سیاست میں نظر آتی ہے ۔آپ خود تصور کریں الیکشن سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان اور شہباز شریف سے کیا الگ الگ ڈیل ہو رہی تھی دونوں کو الگ الگ بٹھا کر ان کی کابینہ بنائی جارہی تھی اور آگے معاملہ کیسے چلانے ہیں یہ طے ہو رہا تھا ۔شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے پر اتفاق کرنے والوں کا کہنا تھا کہ کابینہ کے وزیروں کے نام پر کلیئرنس ہو رہی ہے یہی کچھ عمران خان سے بھی بات ہو رہی تھی ۔

شہباز شریف کے مطابق ہمارا بیانیہ ساتھ نہیں دے رہا تھا ووٹ کو عزت دو ۔کے معاملے پر ہمارا لب و لہجہ بہت سخت تھا اور پھر لوگ باتیں کر رہے تھے کہ بوٹ پالش نہیں کریں گے وغیرہ وغیرہ ۔
جو لوگ اس شہباز شریف کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی بات کرا رہے تھے انہیں نوازشریف کے لب و لہجے اور بیانیاں سے اختلاف تھا ۔شہباز شریف نے اپنے بھائی کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہیں کی اور عمران خان کی ڈیل ہوگئی ۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اب شہبازشریف کی وطن واپسی پر چوہدری برادران کے ساتھ اچھے تعلقات ہوگئے ہیں اور پہلے جیسی تلخی نہیں رہی ۔باجوہ صاحب کے حوالے سے بھی ان کا کہنا ہے کہ وردی کے معاملے پر جب ووٹ دے دیا تو پرانی بد اعتمادی میں کمی آئی ہے چوہدری اور باجوہ دونوں ہی نیوٹرلائز ہوچکے ہیں نون لیگ کے حوالے سے ۔چوہدری برادران نے حمزہ کو جب گرفتار ہونے کے بعد اسمبلی بلایا اور سہولتیں فراہم کیں تو تعلقات اچھے ہوگئے ۔رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ جب منہ سے لا ہیں ماضی میں گرفتار ہوئے تھے تو اس وقت صدر زرداری اور رحمان ملک نے بھی انھیں تکلیف نہیں ہونے دی تھی ۔یہ بڑے سیاستدان اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں ۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اب کہانی یہاں آگئی ہے کہ ایک طرف جہانگیرترین اپنا سیاسی گروپ سرگرم کر رہے ہیں دوسری طرف چوہدری پرویز الہٰی شہباز شریف کے لیے اچھے ہوگئے ہیں جب کبھی اگلا الیکشن ہوگا تو صورتحال دلچسپ ہوگی اس وقت یہ انڈرسٹینڈنگ نظر آرہی ہے کہ شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات بہت اچھے ہیں اور شہباز شریف کا اعتماد بتا رہا ہے کہ بات آگے بڑھ گئی ہے ۔فی الحال معاملہ کرونا کی وجہ سے دب گیا ہے جیسے کی صورت حال بہتر ہوگی ہم پاکستان کی سیاست میں روایتی حملے اور الزام تراشی کا کھیل شروع ہوتے دیکھیں گے