جہانگیر ترین کو سیاسی گاڈفادر کہنے والا گروپ سامنے آگیا

جہانگیر ترین سیاسی طور پر سرگرم ہوچکے ہیں جن سیاستدانوں کو وہ پی ٹی آئی میں لائے تھے ان کی اکثریت آج بھی عمران خان کیوں جہانگیر ترین کے ساتھ وفادار بتائی جاتی ہے تازہ اطلاعات کے مطابق ریاض فتیانہ خاموش سپاہی کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں ان کی اہلیہ پنجاب میں وزیر ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ انہیں بھی جہانگیر ترین کی وجہ سے وزیر بنایا گیا تھا سینئر صحافی روف کلاسرا کا دعویٰ ہے کہ ریاض فتیانہ اگلے دنوں میں سامنے آجائیں گے اس وقت ظفر وڑائچ جو جیل کے وزیر ہیں ان کے علاوہ بھکر سے نعمانی ۔جھنگ سے رائے تیمور ۔بہاولنگر سے شوکت ولیکا ۔فیصل آباد سے اجمل اور نارووال سے پیر سے دو شامل ہیں یہ وہ گروپ ہے جو سیاسی طور پر جہانگیر ترین کو آج بھی اپنا گاڈفادر قرار دیتا ہے جانگیر ترین کے چوہدری برادران سے بھی اچھے تعلقات ہیں اس لئے جہانگیر ترین آنے والے دنوں میں اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے کے لئے رابطہ کر رہے ہیں

روف کلاسرا کا دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین نے کابینہ کو خود بریفنگ دی تھی اس لیے وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین کو سب معلوم تھا کہ چینی کی قیمت کیا ہے اسٹاک کتنا ہے چینی کی ایکسپورٹ کیوں کرنی ہوتی ہے اور سبسڈی کیوں دی جاتی ہے دسمبر 2018 میں اسد عمر نے فیصلہ کیا تھا جس کے بعد جنوری 2019 میں چینی کا ایکسپورٹ کا کام شروع ہو گیا تھا ۔جہانگیر ترین کے حالیہ ٹویٹ بتا رہے ہیں کہ وہ کابینہ کو یاد لا رہے ہیں کہ سب کچھ ان کے علم میں ہے مارچ 2019 میں بریفنگ دی گئی تھی کابینہ کو جس میں چینی گنے اور سبسڈی کے معاملے پر بتایا گیا تھا یہ بھی بحث ہوئی تھی کہ کارٹون بیلٹ میں کتنا گنا پیدا ہو رہا ہے اور ایکسپورٹ کیوں کرنی پڑتی ہے فی ایکڑ پیداوار گنے کی کیسے بڑھائی جاسکتی ہے تاکہ باقی اراضی پر کاٹن کی کاشت بنائی جا سکے رؤف کلاسرہ کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی سیاست تو پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اب ان کا بزنس بھی ختم ہو سکتا ہے اگر یہ ثابت کردیا جائے کے افغانستان ایکسپورٹ کرنے کے لئے جو چینی کی تفصیلات دی گئی تھی وہ صرف پیپر پر دکھائی گئی جو باقاعدہ اسپورٹ ہوئی ۔اگر اس حوالے سے کوئی گڑبڑ سامنے آئیں اور گھر پکڑی گئی تو جہانگیرترین کا جو بزنس میں نام ہے وہ ختم ہوجائے گا لیکن یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب چینی کی قیمت 55 روپے سے 72 روپے تک پہنچی تو چھ مہینے کے دوران کابینہ کے اراکین کیوں خاموش رہے ?