سندھی مسلمان 1928 میں ھونے والے اُس عمرانی معاہدے کی پاسداری نہ کراسکے اور چالیس ساٹھ کے کوٹے پر پورا نہ ھوسکا اس کی ایک طویل داستان ھے جو پھر کسی وقت شئیر کروں گا 1936 تیس اپریل کو سندھ بمبئی سے علیحدہ ھو گیا

سندھی مسلمان 1928 میں ھونے والے اُس عمرانی معاہدے کی پاسداری نہ کراسکے اور چالیس ساٹھ کے کوٹے پر پورا نہ ھوسکا اس کی ایک طویل داستان ھے جو پھر کسی وقت شئیر کروں گا
1936 تیس اپریل کو سندھ بمبئی سے علیحدہ ھو گیا اور کراچی اس کا دارالحکومت بنا مگر سندھ میں مسلمانوں اور ھندؤں کی حقوق کی جنگ جاری رھی ھندو پیسے والے تھے اور بیشتر سود کا کام کرتے تھے جبکہ مسلمانوں میں بیشتر کے مالی حالات درست نہیں تھے کہ اسی کشمکش میں پاکستان بننے کا مرحلہ آ گیا سندھ کے مسلمان سیاستدان پہلے ھی اسمبلی میں قرارداد کے آ ذریعے نئے ملک میں شمولیت کا فیصلہ کر چکے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ دسیوں سال سے سندھ میں جاری ھندو مسلمان جنگ کا تو خاتمہ ھو جائے گا اور ھندؤں کے ساتھ اس جنگ میں جیت ھماری ھو جائے گی کیونکہ بحثیت مسلمان اسلام کے نام پر بننے والے نئے ملک پر پہلا حق مسلمانوں کا ھو گا
پاکستان بن گیا لیکن سندھ سے ھندؤں نے ھندوستان ھجرت نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں ان کا کاروبار بہت پھیلا ھوا تھا بیشتر مسلمان ہندو مہاجنوں کے قرض دار تھے جس کے عوض ان کی جائیدادیں اورکاروبار مہاجنوں کے پاس گروی رکھی ھوئیں تھیں
ھندو ھندوستان نہیں جائیں گے اس فیصلے کی سندھ کے مسلمان سیاستدانوں کو توقع نہیں تھی
پھر یہ ھوا کہ ایک سازش کے تحت اچانک سندھ میں بھی ھندؤں کی جائیدادیں لوٹنے اور اُن کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع ھو گیا راتوں رات سندھ کے ھندو ساہوکار اپنی جائیدادیں اپنے مسلمان منشیوں کو دے کر یا زمین میں دبا کر ھندوستان چلے گئے یا پھر اسلام قبول کر کے مسلمان ھو گئے اور سندھی شیخ کہلائے یہ تاثر غلط ھے کہ تمام سندھی شیخ پہلے ھندو تھے قیام پاکستان سے پہلے بھی مسلمان شیخوں کی ایک بڑی تعداد سندھ میں رھتی تھی
وہ ھندو جو سندھ سے مار بھگائے گئے تھے اُنھوں نے ھندوستان جا کر شرن یعنی پناہ لی اور شرنارتھی کہلائے اور انہوں نے و ھاں بدلے میں مسلمانوں کو مارنا شروع اور اُن کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اسی طرح پنجاب میں ھندؤں اور سکھوں کے ساتھ بھی یہ ھی سب کچھ ھوا جس کے جواب میں ھندوستان کے بائیس شہروں میں مسلمانوں کا قتل عام ھوا اور ان کی جائیدادوں پر قبضہ ھو گیا ان مسلمانوں میں سے اکثر اپنے آبائی علاقے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان نہں آنا چاھتے تھے
ان خونریز فسادات کے بعد ان بائیس شہروں کے لٹے پٹے مسلمانوں نے مسجدوں اور تاریخی مقامات میں پناہ لی اور سرکار سے مدد کی درخواست کی جس پر گاندھی نے تادم مرگ بھوک ھڑتال کا اعلان کر دیا اور مطالبہ کیا کہ کہ جب تک مسلمانوں کا قتل عام روک کر اُنہیں اُن کے گھروں میں نہ بسایا گیا میں کچھ کھاؤں پیؤں گا نہیں

اس اعلان کو سنتے ھی مولانا ابوالکلام آذاد گاندھی جی کہ پاس ملنے پہنچ گئے کہ آپ کے ان مطالبات سے فسادات اور بڑھ جائیں گے پہلے سے بے گھر ھوئے شرنارتھی ایک دفعہ اور بے گھر ھو گئے تو اور زیادہ غضب ناک ھو جائیں گے اور مسلمانوں کا قتل عام اور لوٹ مار بہت بڑھ جائے گی جسے آپ کنٹرول نہیں کر پائیں گے اس لئے ان بے گھر لوگوں کو پاکستان بھیج دو گاندھی جی کی سمجھ میں بات آ گئی اور گاندھی جی نے ان مسلمانوں کو پاکستان بھجوانے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں انسانی تاریخ کی وہ خونی ھجرت ھوئی جس میں پندرہ لاکھ پنجابی اور سات لاکھ اردو بولنے والے آج تک لا پتہ ہیں یا پھر قتل کر دئیے گئے
تاریخی مقامات مسجدوں اور کیمپوں میں پناہ لئے ھوئے مسلمان جب لٹے پٹے کٹے ھوئے پاکستان پہنچے تو انہیں یہاں بھی سندھ میں کیمپوں میں ھی رھنا پڑا یہ دعوی کہ ھم نے مہاجروں کو ویلکم کیا اپنے گھروں میں رکھا روٹی کپڑا دیا تاریخ سے کہیں ثابت نہیں ھوتا ھاں مقامیوں نے اتنی مہربانی ضرور کی ان مہاجرین کا قتل عام نہیں کیااور انہیں یہاں رھنے دیا بلکہ جام صادق علی کے والد رئیس کامو خان اور پیر الہی بخش نے نہ صرف مہاجرین کے حق کے لئے آواز بلند کی بلکہ بسنے کے لئے مفت زمین بھی دی جو پی آئی بی کالونی کی شکل میں آج بھی موجود ھے

دوسری طرف پنجاب میں ہجرت کرنے والے اکثریت مہاجرین کی زبان ایک تھی یعنی ھم زبان ھونے کے ناطے وھاں کوئی تعصب نہیں کیا گیا اور لیاقت نہرو پیکٹ کے تحت متروکہ پنجاب کی زمینیں پنجابی مہاجر زمینداروں نے اپنے نام آسانی سے کرا لی یہ عمل دو وجوہات کی بناء پر آسانی سے ھو گیا ایک یہ کہ اُن مہاجریں کی غالب اکثریت کا پیشہ بھی زمینداری تھا دوسرا وھاں سندھ کی طرح کوئی ھندو مسلمان سیاست قیام پاکستان سے پہلے سے نہیں چل رھی تھی یہ کہنا کہ اردو بولنے والے مہاجر پنجاب میں تو پنجابی ھو گئے سندھ میں سندھی نہ بن سکے اس کا جواب یہ ھے کہ کراچی کیونکہ دارالحکومت تھا اور اردو بولنے والے مہاجروں کی اکثریت بھی نوکری پیشہ تھی اس لئے انہیں نوکری بھی دارلخلافہ میں ھی ملی اور انہوں نے کراچی حیدرآباد میں رھنے ھی کو ترجیح دی کیونکہ وہ ھجرت کر پاکستان آئے سندھ بلوچستان پنجاب نہیں آئے تھے

پنجاب میں ھجرت کرنے والے مہاجرین کی غالب اکثریت پنجابی بولنے والوں کی تھی اور اردو بولنے والوں کی تعداد بہت کم تھی جو پنجاب میں رھتے ھوئے بھی ابھی تک صرف اردو بولتی ھے اسی لئے انہیں وھاں ھندوستوڑا اور بھیا کہا جاتا ھے ماڈل ٹاؤن لاھور کا مشہور بھیا کباب والا بھی اردو بولنے والے مہاجر ھونے کے ناطے بھیا کہلایا وھاں اُن سے کوئی تعصب نہیں کیا گیا اس لئے وہ وھاں رچ بس گئے
بلکہ حقیقت یہ ھے کہ اکثر پنجابی شہری خاندان ابھی بھی وھاں اردو بولتے ہیں اور اس بات کا ثبوت یہ ھے اردو ادب کی نامور شخصیات پنجابی بولنے والے ھی تھیں اور اب بھی ہیں