غریب ممالک کیلئے عالمی قرضہ معاہدے کا مطالبہ، معاشی تباہی کا خطرہ ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے عالمی وباء کے دوران غریب اقوام میں معاشی تباہی کو روکنے کے لئے ’ٹھوس قرضہ ریلیف‘ کی نگرانی کیلئے عالمی ادارے کی تشکیل سمیت عالمی قرض معاہدے کا مطالبہ کردیا، بینک آف انگلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ مہلک نوول کورونا نے برطانیہ کی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہےجس سے اب مختلف ممالک میں ممکنہ طور پر بدترین کساد بازاری کا خطرہ ہے، یورپی مرکزی بینک کے سربراہ نے یورپی رہنماؤں کو سخت انتباہ جاری کیا ہے جو کورونا وباء سے اپنی معیشتوں کو نکالنے میں مدد دینے کے بڑے پیکج پر تقسیم ہوگئے تھے،بلاک کی جی ڈی پی 2020میں 15فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ عالمی ہوا بازی کے ادارے کا کہنا ہے کہ کورونا وباء کے باعث مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا میں ایئر ٹریفک اس سال آدھی سے بھی کم ہوجائے گی، شٹ ڈاؤن سے 12لاکھ نوکریاں خطرے میں پڑ گئیں ۔ تفصیلات کے مطابق تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نوول کورونا کی وباء، جس نے دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ 84 ہزار افراد کی جان لی ہے، سے ترقی پذیر دنیا میں معاشی تباہی پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی سکریٹری مخیسا کٹوئی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ عالمی برادری کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی مدد کرنے کیلئے فوری طور پر مزید اقدامات کرنا چاہئیں۔ ادارے نے اپنے گزشتہ ماہ کے مطالبے کو پھر سے دہرایا جس میں شدید متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو قرضہ ریلیف میں 1.0 ٹریلین ڈالرز کی منظوری کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ادارے نے عالمی ترقی پذیر ملک قرضہ اتھارٹی کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا جو اس پروگرام کی نگرانی کرے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی وباء کے باعث صورتحال ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ڈرامائی انداز میں بدتر ہونے والی ہےجیسا کہ ان کے بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہی اس سال کے اختتام تک 3.4 ٹریلین ڈالرز ہوجائیں گی

Courtesy jang