عمران خان کرکٹرز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا ہنر جانتے تھ

انضمام الحق نے عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، ان کا کہنا ہے کہ سابق کپتان کرکٹرز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا ہنر جانتے تھے،وہ مشکل وقت میں بھی سپورٹ جاری رکھتے، اسی سوچ نے انھیں عظیم کپتان بنایا،کھلاڑی ان کی دل سے عزت بھی کرتے تھے، ماضی میں پاکستانی کرکٹرز ٹیم اور بھارتی صرف اپنے لیے کھیلتے۔
ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے کہاکہ عمران خان زیادہ حربے آزمانے اور تکنیکی باریکیوں میں پڑنے والے کپتان نہیں رہے، البتہ وہ یہ جانتے تھے کہ کرکٹرز کی صلاحیتوں سے کام کیسے لینا ہے،عمران نوجوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے،کسی کی صلاحیتوں پر یقین ہوتا تو مشکل وقت میں بھی سپورٹ جاری رکھتے،اگر کسی ایک سیریز میں کوئی ناکام ہوجاتا تب بھی حوصلہ اور پورا موقع دیتے، اسی سوچ اور رویے نے انھیں عظیم کپتان بنایا،کھلاڑی ان کی دل سے عزت بھی کرتے۔
انضمام الحق نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک سیریز میں ان کی پرفارمنس اچھی نہیں تھی اور واپسی پر جب وہ جہاز میں سوار ہوئے تو ان کی نشست عمران خان کے ساتھ آئی۔ انہوں نے کہا کہ میں سوچنے لگا کہ اب مارے گئے، جب انسان پر برا وقت آتا ہے تو تمام چیزیں الٹی ہو جاتی ہیں، اب ان کی سیٹ بھی عمران خان کے ساتھ آ گئی لیکن جب میں ان کے ساتھ بیٹھا تو انہوں نے میری بیٹنگ کی تعریف کی، یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے کھلاڑی پرفارمنس دیتے تھے۔
انضمام الحق نے کہا کہ میں ورلڈ کپ 1992ء کے آغاز میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا پایا مگر عمران خان کی حوصلہ افزائی میں کوئی کمی نہیں آئی،اس کے بعد نیوزی لینڈ سے میچ میں 37گیندوں پر 60 کی اننگز کھیل کر پاکستان کو میچ میں واپس لانے میں کامیاب ہوگیا، فائنل میں انگلش بولرز کے مقابل 35گیندوں پر 42رنز بنانے میں کامیاب ہوا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہایک دور میں پاکستان کی بھارت کیخلاف مسلسل فتوحات سامنے آئیں، اسکی یہ وجہ تھی کہ گرین شرٹس ٹیم جبکہ حریف بیٹسمین اپنے لیے کھیلتے تھے،مثال کے طور پر ہماری ٹیم میں بیشتر 30 یا 40رنز کا حصہ ڈال کر بھی فتح کا راستہ ہموار کر جاتے، دوسری جانب بھارت کی جانب سے کوئی سنچری بھی بناتا تو کسی کام نہ آتی،اس دورکی دونوں ٹیموں میں یہی فرق تھا۔