بجلی مافیا سے عمران حکومت پاک ہوجائے گی یا نشانہ بن جائے گی ؟مہنگی بجلی کے معاہدوں کا ذمہ دار کون ؟

پرائیویٹ بجلی گھروں سے مہنگے داموں بجلی خریدنے کے معاملے پر عمران خان کی حکومت انتہائی اہم فیصلے کرنے جارہی ہے ان کمپنیوں نے حکومت پاکستان سے ماضی میں جو معاہدے کیے وہ عالمی قوانین اور پاکستان کے قوانین کے عین مطابق ہیں اگر ان وعدوں کو یکسر یا یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو نہ صرف عالمی عدالتوں میں یہ معاملات اٹھ جائیں گے بلکہ ہماری جرمانے بھی عائد ہو سکتے ہیں ۔
بجلی گھروں کے معاملے میں وفاقی کابینہ کے ارکان بھی نشانے پر ہیں اربوں روپے حکومت سے وصول کئے جاچکے ہیں اور اربوں روپے وصول کرنے باقی ہیں ۔۔

سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے بحث جاری ہے کہ اب احتساب کا عمل شروع ہوگا تو احتساب کی بجلی کس کس پر گرے گی ۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سید طلعت حسین کا کہنا ہے کہ مہنگی چینی اور مہنگے آٹے کے بعد اب مہنگی بجلی کی رپورٹ کا چرچا ہے پاکستان میں بجلی مہنگی کیوں بیٹھی گئی کیوں مہنگی بجلی خرید یگی کن حکومتوں نے یہ معاہدے کیے تھے ۔
ایک تاثر ہے کہ 4802 ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا جا چکا ہے اگر بہتر معاملات طے کر لیے جائیں تو تین ٹریلین روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے ۔

جب پاکستان کے خزانے کی بات ہوتی ہے تو کوئی حکومت خزانہ کیسے نہیں لاتی یہ سارا پیسہ عوام کا ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی میں سے ٹیکسوں کی صورت میں یہ پیسہ وصول کیا جاتا ہے اور خزانے میں اکٹھا ہوتا ہے اس لئے جو خزانے کو نقصان ہوتا ہے تو درحقیقت عوام کو نقصان ہوتا ہے کہا جارہا ہے کہ انکوائری ہوگی کمیشن بنے گا تحقیقات کرے گا یہ سب باتیں سننے میں بہت اچھی لگتی ہیں نیب تو چینی اور گندم کی تحقیقات بھی کر رہا ہے اس نے مزید وقت بھی مانگ لیا ہے ۔
انیس سو چورانوے سے لے کر اب تک بجلی مہنگی خریدنے کے معاہدے کب ہوئے کس کس نے کیے کیوں کیے اس وقت ملک میں بجلی نہیں تھی بجلی چاہیے تھی جس قیمت پر بھی مل رہی تھی خریدی گئی ۔

بتایا جا رہا ہے کہ تمام معاہدے قانون کے مطابق ہوئے ہیں تمام فیصلے کابینہ سے منظور کرائے گئے ان کمپنیوں نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاہدے کیے اور ڈومیسٹک پالیسی بنا کر کبھی نہ کے ذریعے عملدرآمد ہوا یہ کمپنیاں واجبات کی عدم ادائیگی پر بین الاقوامی عدالتوں اور فورمز پر چلی جائیگی اس لئے حکومت ان وعدوں کو یکطرفہ طور پر نا ختم کرسکتی ہے نہ رد کرسکتی ہے اگر ایسا کیا گیا تو بھاری پنالٹی ادا کرنی پڑے گی ۔

ایک درمیانی راستہ ہے کہ ان کمپنیوں سے بات چیت کی جائے اور جو واجبات رہتے ہیں ان کو ایڈریس کرایا جائے ۔
یا پھر نیب کے ذریعے ماضی کی طرح ایپی کمپنیوں کے ذمہ داروں کی گردنین ناپی جائیں ان کو ڈرایا دھمکایا جائے اور جو اصطلاح مشہور ہو چکی ہے لوٹا ہوا پیسہ واپس لیا جائے بتایا جا رہا ہے کہ اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تب بھی تیس فیصد لوگ ایسے ہوں گے جو موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں یہ لوگ مشرف کے ساتھ بھی رہے اور یہ محترمہ کے ساتھ بھی تھے آپ اگر شوگر اور گندم اسکینڈل کے کرداروں کو اور بجلی گھروں کے کرداروں کو ملا کر دیکھیں تو پچاس فیصد لوگ وہ ہیں جو موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں یا الیکشن جتوانے میں انہوں نے کردار ادا کر رکھا ہے اس لئے حکومت کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت بجلی مہنگی بیچنے والوں کے خلاف رپورٹ پر کارروائی کرکے صفائی کرنے والی حکومت بن جائے گی اور یہ اس کا بہت بڑا کارنامہ کہلائے گا یا طاقتور لوگوں کی صفائی کرنے کے اس عمل میں عمران حکومت خود اس کا نشانہ بن جائے گی ۔
جو بھی ہوگا یہ بات ہے کہ کابینہ کے فیصلوں کی ذمہ داری وزیراعظم پر آتی ہے اور آئے گی ۔