کرونا مریضوں کا تیسرا حصّہ زیادہ وزن والے افراد پر مشتمل ہے، انکشاف

ندن : آکسفورڈ میڈیکل ریسرچ لیب کے ماہرین عمر رسیدہ افراد کو گھر میں رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں میں زیر علاج کرونا وائرس کے 54 فیصد سے زائد افراد کی عمر 50 سے 69 سال ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمگیر وبا قرار دئیے جانے والے کرونا وائرس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہلک ترین وائرس سے 100 میں سے صرف تین سے چار افراد کی موت واقع ہوتی ہے۔

جو افراد کرونا وائرس کے باعث لقمہ اجل بن رہے ہیں وہ یا تو پہلے سے کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں یا وہ عمر رسیدہ افراد ہوتے ہیں۔

آکسفورڈ میڈیکل ریسرچ لیب کے ماہرین نے کہا ہے کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد گھروں میں رہیں کیونکہ اسپتالوں میں زیر علاج کرونا وائرس کے مریضوں کی 54 فیصد سے زائد تعداد 50 سے 69 سال عمر کے افراد کی ہے۔

ماہرین کے مطابق جان لیوا وبا کرونا وائرس کے مریضوں کا تیسرا حصہ زیادہ وزن والے افراد پر مشتمل ہے، 60 سال کے افراد کو لازمی قرنطینہ میں رہنا چاہیے۔

آکسفورڈ میڈیکل ریسرچ لیب کے ماہرین نے تجویز دی کہ نیشنل ہیلتھ سروسز کے تحفظ کےلیے 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو گھروں میں رکھا جائے
خیال رہے کہ مہلک ترین کوویڈ 19 وائرس نے دنیا بھر میں 26 لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد کو متاثر ہوچکے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ 84 ہزار 226 تک پہنچ چکی ہے لیکن حوصلہ کن بات یہ ہے کہ 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد کرونا مریض ڈاکٹروں کی جدوجہد کی بدولت صحتیاب بھی ہوئے ہیں جبکہ دیگر مریضوں کی زندگیاں بچانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے