کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف پولیس افسر کو کھلے عام دھمکی دینے پر مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا ؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پولیس افسر کے درمیان جو کچھ ہوا اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اس ویڈیو پر سیاسی مبصرین کے تبصرے جاری ہیں اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جس انداز سے پولیس افسر کو دھمکی دی اگر قانون کی بالادستی ہوتی تو کیا اب تک ان کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہوتا کیونکہ تحریک انصاف کے لوگ امریکہ اور یورپ کے انصاف کی مثالیں دیتے ہیں وہاں اگر کسی پولیس والے کے ساتھ اس طرح کی حرکت کی جائے تو فوری طور پر پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا مقدمہ بن جاتا ہے ۔

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی احساس پروگرام کے سنٹرمیں گئے ہوئے تھے وہاں ان کے کچھ لوگوں نے پولیس افسر کے خلاف شکایات کی وزیر خارجہ نے ٹھیک ٹھاک ڈانٹ پلائی اور پولیس افسر کو متنبہ بھی کیا اور دھمکی بھی دی کہ گردن سے پکڑ کر باہر نکال دوں گا آئی جی بھی آیا تو چھوڑا نہیں سکے گا الطاف حسین کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ نے یہ دیکھا کہ ریکارڈنگ ہورہی ہے تو گفتگو کو تڑکا لگایا اور کہا کہ عوام کے ساتھ بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا وہاں موجود رپورٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کچھ اور ہی واقعہ بتایا کچھ مقامی لوگوں اور مقامی صحافیوں کے کام تھے اور پولیس والا انکار کر رہا تھا اس لیے اسے ٹارگٹ کیا گیا ۔
رفعت حسین کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اپنا رتبہ دیکھی وہ اتنے بڑے عہدے پر ہیں اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ وہ خود کو مستقبل کا وزیراعظم بھی دیکھ رہے ہیں ایک خانقاہ کی آپ نمائندگی بھی کرتے ہیں ۔
جب آپ اتنے بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں اور اتنا بڑا رتبہ ھے تو پھر قانونی طور پر کیا آپ کسی پولیس والے کو اس طرح دھمکی دے سکتے ہیں ۔کیونکہ وہ پولیس والا ہے اس لیے آپ نے اسے کھلے عام دھمکی دے دی کہ گردن سے پکڑ کر نکال دوں گا اگر اس کی جگہ کوئی فوجی ہوتا تو کیا آپ اسے یہ کہہ سکتے تھے کہ میں گردن سے پکڑ کر نکال دوں گا اور کورکمانڈر بھی آیا تو تمہیں چھڑا نہیں سکے گا ظاہر ہے آپ ایسا نہیں کہتے ایسی بات سوچتے ہوئے بھی آپ کے پر جلتے ۔لیکن یہ چونکہ پولیس والا ہے کمزور ہے اس کے پیچھے ادارہ مضبوطی سے نہیں کھڑا اس لیے آپ نے پولیس والے کو دھمکی دے دی اور پولیس کے بارے میں عمومی تاثر بھی یہی ہے کہ یہ لوگ غلط کام کرتے ہیں حالانکہ سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے ۔شاہ صاحب جس سیاسی کلچر کی نمائندگی کر رہے ہیں وہاں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے ویڈیو کو غور سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ شاہ صاحب اس پر الزام بھی لگا رہے ہیں کہ تم نے دوسری طرف سے پیسے پکڑے ہوں گے شاہ صاحب اس پولیس والے کو بتا رہے ہیں کہ یہ لوگ بڑے طاقتور ہیں جن کو تم نے انکار کیا ہے جس کا تم نے موٹرسائیکل نہیں چھوڑا وغیرہ وغیرہ ۔
طلعت حسین کا کہنا ہے کہ بہت اچھا ہوتا اگر شاہ محمود قریشی یہ تمام باتیں آئی جی پولیس کو گوش گزار کر دیتے ۔پولیس کے محکمے کا اپنا ایک نظام ہے آپ اس کے اگلے افسر کو شکایت کر سکتے تھے یا آپ ممبرپارلیمنٹ ہیں وہاں یہ معاملہ اٹھا سکتے تھے یا کسی سیاسی فورم پر جا کر بات کر سکتے تھے کہ ہمارے یہاں بعض پولیس والے اس طرح کے کام کر رہے ہیں ۔اگر آپ نے شکایت ہی کرنی تھی تو تحریری شکل میں شکایت کرتے لیکن کھلے عام دھمکی دینا تڑی لگانا گردن سے پکڑ کر باہر پھینکنے کا جو انداز آپ نے اپنایا میرے خیال میں وہ اس تمام بیانیے کی نفی کرتا ہے جو تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کے سامنے اپنایا اس واقعہ کے علاوہ بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں لیکن چونکہ یہ وزیرخارجہ کر رہا ہے اس لیے اس واقعے کو بہت الگ کیٹگری میں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ وزیرخارجہ بہت دھیما اور مدبر بنتا ہے لیکن جب اس کا واسطہ کسی ایس ایچ او سے پڑھتا ہے تو وہ اس کو دھر رگڑا رہتا ہے اصباح کو خاص کیٹگری میں رکھنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے یہاں قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے تو پھر عمل کیوں نہیں کیا جاتا شاہ محمود قریشی نے جو انداز اپنایا وہ قانون کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے جس پر مقدمہ بھی بن سکتا ہے ۔