کرونا کی جانچ کے لیے ڈرون کا استعمال

واشنگٹن : امریکی ریاست کنیٹیکٹ کی پولیس عوامی مقامات پر کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کا پتہ لگانے کےلیے وبائی ڈرون کا تجربہ کررہی ہے جو190 فٹ کی دوری سے انسانی درجہ حرارت پتہ لگا لیتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا جان لیوا وبا کوویڈ 19 کے خلاف اپنی جدوجہد مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی ریاست کنٹیکٹ وائرس کی روک تھام کےلیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈرون میں ایسے سنسر نصب کیے گئے ہیں جس کی مدد سے وہ 190 فٹ کی دوری سے انسانی درجہ حرارت، سانس، چھینک اور کھانسی کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کینیڈین ڈرون کمپنی کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے جس نے گزشتہ برس مارچ میں یونیورسٹی آف جنوبی آسٹریلیا کے ساتھ مشترکا طور پر وبائی ڈرون کا تجربہ کیا تھا۔

اس وبائی ڈرون کا پہلا تجربہ نیویارک سٹی کے کوویڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے پر اڑاکر کیا گیا جس کے ذریعے یہ پتہ لگایا گیا کہ لوگ آپس میں سماجی دوری اختیار کررہے ہیں یا نہیں اور وائرس کی علامات کس میں ظاہر ہورہی ہیں۔

کینیڈین کمپنی ڈریگن فلائی نے اس بات پر استفسار کیا ہے کہ یہ ڈرون نجی طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ یہ کسی کے چہرے کی شناخت یا انفرادی نوعیت کا ڈیٹا لینے کےلیے استعمال کیا جائے گا، کمپنی کو توقع کی تھی کہ اسے تیار کرنے میں چھ ماہ کا وقت لگے گا لیکن ویسٹ پورٹ پولیس پہلے ہی اس کی جانچ کر رہی ہے۔

اس ڈرون کا استعمال دفاتر، ہوائی اڈوں، بحری جہاز، اولڈ ایج ہومز اور دیگر ہجوم والی جگہوں پر چھینکنے اور کھانسنے کی نشاندہی کرنے کے لئے کیا جاسکتا ہے۔