آئی فون صارفین ہیکرز کا آسان شکار؟

واشنگٹن: معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے فونز اور آئی پیڈز میں ایک خرابی کا انکشاف ہوا ہے جس کی وجہ سے صارفین کے آئی فونز ہیک ہونے کا خدشہ ہے، کمپنی اس خرابی سے لاعلم تھی۔

سان فرانسسکو کی ایک سائبر سیکیورٹی کمپنی زیک اوپس نے اس خرابی کو دریافت کیا ہے اور اس کے مطابق یہ خرابی نصف ارب سے زائد آئی فون صارفین کو ہیکرز کا آسان ہدف بنا دے گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ خرابی آئی پیڈز میں بھی موجود ہے۔

مذکورہ سیکیورٹی کمپنی نے اس خرابی کی دریافت سنہ 2019 میں اس وقت کی جب وہ اپنے ایک کلائنٹ کی سائبر حملے کی شکایت پر کام کر رہے تھے۔

اس خرابی کو مزید 6 سائبر حملوں کے دوران بھی بطور آلہ استعمال ہوتے دیکھا گیا، یہ حملے جاپان، جرمنی، سعودی عرب اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ہائی پروفائل صارفین کے خلاف کیے گئے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ہیکنگ میں صارفین کو ایک خالی ای میل روانہ کی جاتی ہے جسے کھولتے ہی موبائل کا سسٹم کریش کر جاتا ہے اور موبائل ری اسٹارٹ ہوجاتا ہے۔ ری اسٹارٹ ہونے کے دوران ہیکرز کو ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو زک اوراہم کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی سنہ 2018 میں ذاتی طور پر اس خرابی کا مشاہدہ کر چکے تھے۔

بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ ایپل اس خرابی سے لاعلم تھی، تاہم ایپل کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اس سے واقف تھی اور اس کی درستگی پر کام کیا جارہا ہے جو جلد ایک اپ ڈیٹ کے ذریعے آئی فون کے صارفین کو فراہم کردی جائے گی۔

زک اوراہم کے مطابق یہ ہیکنگ کئی بڑی مشکوک سائبر سرگرمیوں کا ایک حصہ ہوسکتی ہے جن کا ابھی تک سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

2 آزادانہ سیکیورٹی ریسرچز نے بھی زک اوپس کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے اور ان کا بھی یہی ماننا ہے کہ یہ معلومات ادھوری ہیں اور اس کی مزید کڑیوں کا ملنا باقی ہے