جڑی بوٹیوں کی چائے کرونا وائرس کا علاج ہوسکتی ہے: افریقی ملک کا دعویٰ

مشرقی افریقی ملک مڈغاسکر نے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی جڑی بوٹی سے بنی چائے کرونا وائرس کا علاج ثابت ہوسکتی ہے، جڑی بوٹی کا اب تک کوئی بین الاقوامی ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔

مڈغاسکر کے صدر ایندرے رجولین نے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ ریسرچ میں وزرا، سفیروں اور صحافیوں سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس چائے سے اب تک کرونا وائرس کے 2 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

ان کے مطابق یہ چائے 7 روز کے اندر اپنا اثر دکھاتی ہے
صدر نے سب کے سامنے یہ چائے پیتے ہوئے کہا کہ میں اسے آپ سب کے سامنے پی رہا ہوں تاکہ یہ بات سامنے آسکے کہ یہ چائے ایک علاج ہے اور اس سے موت کا کوئی خطرہ نہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ چائے جس جڑی بوٹی سے بنی ہے وہ اس سے قبل ملیریا کے علاج میں مؤثر ثابت ہو چکی ہے تاہم بین الاقوامی طور پر اس کا کوئی ٹیسٹ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ یہ جڑی بوٹی مرض کے ظاہر ہونے سے قبل اس سے حفاظت کر سکتی ہے تاہم بعض کلینکل مشاہدات میں دیکھا گیا کہ اس نے بطور علاج بھی کام کیا۔

خیال رہے کہ مڈغاسکر میں اب تک کرونا وائرس کے 121 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے اور تاحال کسی مریض کی موت نہیں ہوئی۔

امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے مذکورہ جڑی بوٹی کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسا کوئی سائنسی ثبوت نہیں کہ جڑی بوٹی یا اس سے بنی چائے کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کا علاج یا اس سے حفاظت کر سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کچھ جڑی بوٹیاں انسانی استعمال کے لیے نہیں اور وہ مضر بھی ثابت ہوسکتی ہیں