سندھ حکومت نے اموات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر دیا۔

سندھ حکومت نے اموات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر دیا۔وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ

کراچی 23 اپریل صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ مختلف سیاسی پارٹیاں اور دیگر افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ کہ ڈاکٹر پریس کانفرنس سندھ حکومت کے ایما پر کر رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹرز سیاست کررہےہیں انہوں نے زور دیا کہ ڈاکٹرز کی بات اور آواز کو سنجیدگی سےلینے کی ضرورت ہے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صدر مملکت نے جو فیصلے کیے ہیں فی الحال وہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہےکہ علما سےرابطہ کرکے بات کی جائے ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہہمیں مجبور کردیا جاتاہے کہ منفی باتوں کا جواب دیں اس سے پہلے وزیراعلی سندھ نے کہا تھاکہ جو اموات ہوئی تھیں انکی تحقیقات کرائی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کردیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمام الزامات کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن کرے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کےترجمان عجیب عجیب باتیں کرتےہیں جسمعاملے پر تحقیقات کرناچاہیں جوڈیشل کمیشن بنادیاجائے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کرالیں کہ کون اہل اور کون نا اہل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کاروباری برادری کی پریشانی کا اندازہ ہے لیکن کاروباری لوگوں کو اکسایا جارہا ہےپشاور میں دکانیں کھولنے پر فائرنگ کی گئی لیکنصرف سندھ حکومت کوتنقید کا نشانہ کیوں بنایاجاتاہے ۔تاجر برادری ہمارے بھائی ہیں ہم انکا بیحد احترام کرتے ہیں ۔

ہمتاجروں کےلیے ریلیف دینے کا پلان بنارہے ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تاجروں کو سود سےپاک قرضوں کےلیےوفاق کو لکھا ہےسندھ حکومت نے علماکرام سےفیصلوں پر نظرثانی کی اپیل کردی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلےبھی علما کرام کی مدد اورمشاورت سےفیصلے ہوئےاب بھی چاہتےہیں کہ علما کرام کی مدد سےفیصلے کیےجائیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہا کہ ہماری نیک نیتی نہ ہوتی تو کاروباری برادری کی مشاورت سےتجاویز نہ کرتے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نےبتایاتھاکہ تجاویز پر ایک دن میں عمل نہیں ہوگا۔صوبائی وزرا نےتاجر برادری کی مشاورت سےسفارشات تیارکیں۔ اور وزیر اعلی سندھ وفاقی حکومت سےبات کررہے ہیں۔اور تاجر برادری سےبات چیت میں کوئی ڈیڈلاک نہیں ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے کسی کی ایما پر تاجر برادری کےساتھ کام کو خراب کیا۔ اوربغیر اجازت دکانیں کھول کر حکومتی رٹ کو چیلنج کیاگیا۔ سعید غنی نے کہا کہسندھ حکومت کی پہلی ترجیح شہریوں کی زندگی ہے لیکن جذباتی تقاریر اور پریس کانفرنس کی گیئں۔ وزیر محنت نے کہا کہہمیں کاروبار بند کرکے خوشی ریونیو یا سیاسی فائدہ نہیں مل رہا ہم امید کرتاہوں کہ گورنر غیرقانونی کاموں کی سفارش نہیں کرینگے۔ گورنر آئینی عہدے پر فائزہیں انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔ سعید غنی نے کہا کہگورنر صاحب نےدعوت میں شرکت کی جبکہ اس طرح کی تقاریب پر پابندی ہے۔توقع ہےکہ گوررنر آئندہ احتیاط کرینگے۔

ہینڈ آ ؤ ٹ نمبر