شوگر اسکینڈل میں ایف آئی اے اہلکار کی برطرفی کی اندرونی کہانی

شوگر سکینڈل میں فرانزک رپورٹ منظر عام پر آنے سے پہلے ایک اور معاملہ سامنے آگیا ہے۔ ایف آئی اے کے اہلکار کی برطرفی کا معاملہ ۔ایک اہلکار کو شوگر مافیا کا جاسوس قرار دے کر اسے ملازمت سے برطرف کرنے کی کاروائی شروع ہوگئی ہے ۔

شوگر اسکینڈل میں یہ ایک دلچسپ موڑ آیا ہے جس کے بارے میں سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر بحث کر رہے ہیں ۔
سینئر صحافی رؤف کلاسرہ نے اس معاملے کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مذکورہ ایف آئی اے کے افسر سجاد مصطفی باجوہ سے رابطہ کیا ہے اور ان کا موقف بھی لے لیا ہے ۔
بظاہر الزام یہ ہے کہ ایس آئی اے کا یہ افسر تحقیقات کرنے کے دوران شوگر ملوں کے مالکان اور انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا یعنی جن کے خلاف تفتیش کر رہا تھا انہیں سے رابطے میں تھا عام تاثر یہ ہے کہ یہ افسر خسروبختیار یا ان کے لوگوں سے رابطے میں تھا اور اطلاعات پہنچا رہا تھا یا انہیں اپنی بچت کا راستہ سمجھا رہا تھا رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ پولیس اور صحافی اگر کسی پر شک نہ کرے تو معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا ویسے تو وہ گھر میں بھوکا ہی مر جائے گا اس لئے ہماری خبر اور پولیس کی تفتیش کا آغاز ہی شخص سے ہوتا ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ انیس سو نوے میں ایف آئی اے میں پیپلزپارٹی نے اس شخص کو بھرتی کرایا تھا اور پھر نواز شریف کی حکومت نے نکال دیا تھا بعد میں پھر بھی بس پارٹی نے اس کو بحال کرا دیا تھا یعنی یہ ایک سیاسی بھرتی ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص غصے کا کافی تیز ہے اور کچھ لوگ اس کی ایمانداری کی تعریف بھی کرتے ہیں اور یہ مزاج کا سخت ہے اور تفتیش کے دوران اس نے مل مالکان کے لوگوں کے ساتھ بھی سختی کی ہے یہ بھی اس پر الزام ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ چاند کٹہرے میں کیسے کھڑا ہوگیا اس کے خلاف کیا ہوا اور اس نے کیا کیا ۔
ابتدائی معلومات کے مطابق سجاد مصطفی باجوہ کا دیگر تفتیشی افسران کے ساتھ اختلاف شروع دن سے ہی تھا تفتیش کے دوران اس نے دیکھا کہ 2015 تک تو رجسٹر وغیرہ رکھے جاتے تھے جن میں سب ریکارڈ ہوتا تھا لیکن اس کے بعد ایسا نہیں تھا بتایا گیا کہ ایف بی آر نے کوئی نئی پالیسی دے رکھی ہے ۔تفتیش کے دوران اس نے سوال اٹھایا کہ پھر شوگر ملوں کے معاملات کا ریگولیٹر کون ہے ایس ای سی پی کا کیا کردار ہے اس نے کیا کیا ہے ۔انہوں نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ ڈالا کہ ایف بی آر اور ایس ایس سی پی سے پوچھ لیں کہ ان کا کیا رول ہے ۔اس پر چیئرپرسن ایف بی آر ناراض ہوگئی کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کی جانب سے خط کیسے لکھ دیا گیا کہ ہمارا رول ہو سکتا ہے ۔واجد ضیا کے پاس بھی معاملہ گیا وہاں انٹیلی جنس افسر احمد کمال بھی موجود تھے ۔وہ بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اس طرح سجاد باجوہ کے خلاف ایک چارج شیٹ تیار ہوئی اور کہا گیا کہ تم نے لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھا ہے جن کے خلاف تفتیش کر رہے ہو سجاد باجوہ نے کہا کہ ہاں میں ان سے رابطے میں ہوں کیونکہ مجھے سیلز اور فنانس کے لوگوں سے ریکارڈ درکار تھا اور یہ ڈیٹا اس کے بغیر مل نہیں سکتا ۔کہ سجاد باجوہ سے کہا گیا کہ تم نے ساری انکوائری مکمل نہیں کی لوگوں کے بیانات نہیں لئے جس پر اس نے بتایا کہ سب کے بیانات لے چکا ہوں خسروبختیار دیگر لوگوں سے رابطے کا کہا گیا تو اس نے کہا کہ آپ میرا ٹیلیفون ٹیپ کر رہے ہیں تو ریکارڈ دیکھ لی میری کبھی بات نہیں ہوئی ۔
اگلے دن جو رپورٹ لی کرادی گئی اور یہ کہا گیا کہ یہ شخص رابطے میں تھا اور اس کے خلاف تحقیقات کی جائے ۔
سجاد باجوہ کا کہنا ہے کہ میری خسروبختیار سے کبھی بات نہیں ہوئی وہ تو میرا نام بھی نہیں جانتے ہونگے ہاں البتہ ان کے مینیجرز وغیرہ سے میں رابطے میں رہا ہوں کیونکہ مجھے ریکارڈ اور ڈیٹا درکار تھا اور یہ بھی سچ ہے کہ میں نے کچھ سختی بھی مل والوں کے ساتھ کی ہے کیونکہ بغیر سختی کے وہ ریکارڈ نہیں دیتے اور یہ چیزیں چاہیے تھی ۔
رؤف کلاسرا نے آخر میں کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک سرپھرا افسر ہے جو سیدھی بات کرتا ہے اس لیے اب اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور یہ اس کے ساتھ ماضی میں بھی ہوتا آیا ہے ۔