صحافت کی اولین درسگاہ میں 20 کے بعد حاضری

-صحافت کی اولین درسگاہ میں 20 کے بعد حاضری
-میاں طارق جاوید

ہم شام میں پر یس کلب میں خوش گیپاں لگانے میں مصروف تھے اچانک اصغرعمر بھائی تشریف لے آئے، ادھر ادھر کی باتوں ،کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے لیکر ملکی سیاست اور لاک ڈون تک سبھی موضوعآتے پر گفتگو کر لی – پھر اچانک روزنامہ انتخاب کا ذکر چل نکلا جو میرا اور اصغر عمر بھائی کا پہلا اخبار تھا جہاں سے ہم نے 1992 نومبر میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا
یادگار دنوں اور دوستوں کے بارے میں باتیں کرتے کرتے میں جناب انور ساجدی کا نمبر ملایا

ہیلو پر ہی انکی شفقت بھری آواز میں میاں جی کیسے ہو سن کر وہ خوشی محسوس ہوئی جو کسی بہت ہی اپنے بزرگ سے بات کر کے ہوتی ہے اسی گفتگو میں خیریت دریافت کرنے کے بعد جب میں نے، انتخاب ، آنے کی خواہش کا اظہار کیا تو فورآ آنے کو کہا جس پر ہم پریس کلب سے آئی آئی چندرریگر روڈ روانہ ہوئے
مشہور محل بلڈنگ کی سیڑھیاں کو ئی 22 سال کے بعد چڑھی،مگر وہ پہلے دن جیسی خوشی، جیسے آپ سالوں بعد اپنے گھر واپس آنے پر ملتی ہے،دفتر بالکل بھی نہیں بدلا ،البتہ لو گ بدل گئے ،چہرے بدل گئے
انور ساجدی صاحب کو پیغام بھجوایا تو فورآ بلوایا وہ تو منتظر ہی بیٹھے تھے، کمرے میں داخل ہوئے تو ہمیں صحافت کی الف ب کا درس اولین دینے والی محترم شخصیت نے محبت، خلوص اور جس والہانہ پن سے استقبال کیا اور کمال شفقت سے گلے لگایا کہ جیسے ماں باپ صدیوں سے بچھڑی اولاد کو بانہوں میں سمیٹ لیتے ہیں انور ساجدی صاحب کو مل کے ہم چند منٹوں کیلئے “کرونا ” کو مکمل طور پر بھول گئے انتخاب اخبار کا دفتر ویسے ہی تھا بس کمی تھی تو خان بابا اور انکے بچوں کی تھی جو اب اپنے گاوں واپس چلے گئے البتہ وہ سارے لوگ اب وہاں نہیں تھے جن کے ساتھ کیرئر کا آغاز کیا تھا شبیر تنولی اور لطیف بلوچ سے مل کے بہت خوشی محسوس ہوئی،
ویسے تو انور ساجدی صاحب سے مختلف تقریبات اور پروگرامز میں ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ہر بار شفقت اور پیار کے ساتھ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، میر بالاج ،آج بھی اس شیر کی طرح ہیں کہ جو جب جنگل میں نکلتا ہے تو سب درندے ادھر ادھر ہو جاتےہیں
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے اخبار کا مالک ۔پروفیشنل صحافی اور سب سے بڑھ کر ایک شفیق استاد جس نے قلم کی

حرمت صرف سیکھائی ہی نہیں بلکہ قلم کی حرمت پر کٹ مرنے کیلئے تیار قافلہ کے سالار بھی ہیں، انور ساجدی صاحب نے جن مشکلات کا سامنا کرکے اخبار نکالا اور چلایا یہ ان کا ہی خاصہ ہے مگر دنیا کے سرد گرم کے باوجود یہ بلوچ سردار جو پورے ملک میں کسی کےساتھ ہونے والی زیادتی پر تڑپ جاتاہے ۔جس کا دل ایک عام پاکستانی کی تکلیف پر خون کے آنسو روتا ہے-وہ آج بھی تندی باد مخالف سے لڑ رہاہے ،ایک خاص بات اور بھی کے اور بھی کہ انور ساجدی صاحب کے شاگردوں کی تعداد بلا مبالغہ ہزاروں میں ہو گی روزنامہ انتخاب صحافت کی وہ نرسری ہے جہاں سے نکلے ہو ئے صحافی آج پاکستان کے ہر میڈیا ہاوس میں موجود ہیں،
انور ساجدی صاحب سے ملاقات میں ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بہت کچھ سیکھنے کو ملا ،انتخاب اخبار کے ابتدائی دور میں درپیش مشکلات ،ڈاکٹر اعجاز علوی ،خالد علوی، ظفر صاحب ، راشد خان کفیل احمد ،خالد چھوٹا ، یونس احمد ،افضل ندیم ڈوگر،رفیق بلوچ واجہ ،معین اللہ شاہ ،ثاقب عظیم ڈار،سردار لیاقت، لطیف بلوچ ،اقبال باولا، اشرف بھٹی، آصف رانا ،شبیر تنولی،شاہین عمر اصغر ،اور سراج احمد بھائی سمیت اور بھی بہت سارے لوگ ہیں جن سے 1992 سے آج بھی احترام کا رشتہ برقرار ہے
باقی انور ساجدی صاحب میرے وہ رہنما و رہبر ہیں جنھوں نے زندگی کے تلخ و شیریں حالات سے روشناس کرایا ،اور انکے بعد انور سن رائے صاحب جیسے عظیم صحافی و انسان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ،
انور ساجدی صاحب کے ساتھ بیٹھنے سے ایک بار پھر بہت کچھ سیکھنے کو ملا ، ملکی حالات پر وہ آج بھی کڑھ رہے تھے آج بھی ان کی زبان پر تلخ باتیں تھیں مگر ہمیشہ کی طرح انداز ایسا میٹھا کر لطف آ گیا
اللہ انور ساجدی صاحب انکی فیملی، اور روزنامہ انتخاب کو ہمیشہ قائم ودائم اور آباد رکھے