چینی کمپنی کی پاکستان میں کووِڈ 19 ویکسین کے کلینکل ٹرائل کی پیشکش

پیشکش چائنہ سائینو فارم انٹرنیشنل کارپوریشن کے جنرل منیجر کی جانب سے این آئی ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام کے نام لکھے گئے خط میں کی گئی۔

مذکورہ خط میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ’کامیاب ٹرائل سے پاکستان ان چند اولین ممالک میں شامل ہوجائے گا جہاں کووِڈ 19ویکسین متعارف کروائی جائے گی‘۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر اکرام نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ ‘ابھی تک اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا البتہ یہ تعاون پاکستان کے لیے ایک بڑی چیز ہوگی‘’ہم ملک میں کلینکل ٹرئل کے رجحان میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، اسے شروع کرنے سے قبل متعدد قوانین ہیں، اسے طبی اخلاقی کمیٹی اور دیگر سے منظور ہونا ہے لیکن جب ہمیں کلیئرینس مل جائے گی تو ہم اس کا آغاز کردیں گے‘۔

ڈاکٹر عامر اکرام کے مطابق پاکستان میں ویکسین کا کلینکل ٹرائل کرنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر یہ کامیاب ہوگئی تو ملک اسے ترجیحی بنیادوں پر خرید سکے گا۔

واضح رہے کہ قومی ادارہ صحت، وزارت صحت کے ماتحت ایک آزاد ادارہ ہے۔

چینی کمپنی کے ارسال کردہ خط میں کہا گیا کہ سائنو فارم ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے نوول کورونا وائرس کی ویکسین تیار کی ہے۔

مذکورہ سرکاری کمپنی چین کی 80 فیصد سے زائد قوت مدافعت کی ویکیسن کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور کووِڈ 19 کے خلاف جنگ میں بھی اپنے ملک میں اہم کردار ادا کیامذکورہ کمپنی نے پاکستان کو بھی یہی تجویز دی کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے ذریعے اسی طریقہ کار کو اپنائے۔

خط میں کہا گیا کہ این آئی ایچ کے پاس کسی نامزد طبی ادارے کے توسط سے شرکا کو بھرتی کر کے کلینکل ٹرائل کرنے کے لیے مطلوبہ تکنیکی مہارت اور عناصر موجود ہیں۔

مراسلے میں تجویز دی گئی کہ سائنو فارم کی نمائندہ کمپنی ہیلتھ بی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ اور این آئی ایچ فوری طور پر فیز 1 اور فیز2 کے اکٹھے ٹرائل کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے مفاہمت کی یادداشت طے کریں۔

Courtesy Dawn urdu