چلتے پھرتے قائداعظم ثانی‘‘ کے ہاتھ میں عنانِ اقتدار ہے۔

’’جیو اور جینے دو‘‘، جیو ٹی وی کا سلوگن بجائے عام ہوتا، قومی شعار بنتا، حکومت ’’جیو‘‘ کا اپنا جینے کا حق چھیننے کے درپے ہے۔ نئی واردات میر شکیل الرحمٰن کو آہنی شکنجوں میں جکڑ کے حوالۂ زنداں کرنا ہے۔

ایک وقت کی بات‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی خبر آئی۔ تبھی اپنے پروگرام میں اعلامیہ جاری کیا کہ ’’اُگلا جائے گا نہ نگلا جائے گا‘‘۔ آج کی تاریخ میں ریفرنس پیچھے پیچھے، حکومت آگے آگے، نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ حکومت سبق کب سیکھے گی؟

پہلے دن سے میری ایک ہی رٹ، میر شکیل کی کالے قوانین کے تحت گرفتاری، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ورژن ٹو رہنا ہے۔ صد حیف! وطنِ عزیز کورونا کے عتاب میں، کان کھجانے کی فرصت نہیں رہنی تھی۔ صد آفرین! ایسے میں میر شکیل کی گرفتاری اور جیو کی نشریات میں روڑے اٹکا کر پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کو تہِ تیغ کرنا حکومت کی اولین ترجیح بن چکا ہے۔

خاطر جمع رکھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرح میر شکیل صاحب کی آزادی پر بہیمانہ وار، حکومت کا اُڑتے ہوئے تیر کو بغل میں لینے کے مترادف ہی رہے گا۔ستر سال ہونے کو، تھکا دینے والا سفر، چولیں ہل چکیں۔ مستقبل بعید تک منزل کا نام و نشان نہیں۔ یا الٰہی! وطنِ عزیز کی ناہموار اُڑان تھکا چکی، یہ سفر کب ختم ہوگا؟ افتخار عارف سے معذرت؎

’’مزید‘‘ بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا؟

میرے معبود! آخر کب تماشا ختم ہو گا؟

علامہ اقبالؒ کا 82واں یوم وفات، پیر ومرشدؒ نے کیا کیا خواب دیکھے۔ عظیم قائد، پیر و مرشد کی توقعات، فرمودات پر پورا اُترے، مایوس نہ کیا۔ مسلمانانِ ہند کے لیے مسیحا بنے۔ بکھری ناگفتہ بہ مخلوق سے ایک قوم بنائی۔

مملکت خداداد اسلامیہ وجود میں آئی تو قائد کی زبان پر پہلا فقرہ ’’آہ! اقبال ہمارے درمیان ہوتے تو آج اپنے خواب کی تکمیل دیکھتے‘‘۔ عظیم قائد نے فلسفہ اقبال کا نچوڑ اتحاد، ایمان اور نظم و نسق میں سمیٹا۔ آج پیر و مرشد کے خواب بکھر چکے، قائد کی تعبیر تلاشِ گمشدہ، بھٹک چکی۔ اتحاد پارہ پارہ، ایمان داغ دار، نظم و نسق تار تار ہیں۔

از راہِ تفنن ’’1958میں یار لوگوں نے صدر اسکندر مرزا کا مرتبہ عظیم قائد سے بھی بلند کر دکھایا۔ ایوب خان نے عظیم قائد کی عظیم بہن کو پچھاڑ کر قائداعظم پر ’’سبقت حاصل کی‘‘۔ جبکہ فی زمانہ ’’چلتے پھرتے قائداعظم ثانی‘‘ کے ہاتھ میں عنانِ اقتدار ہے۔

حصولِ طاقت و اقتدار کی کھینچا تانی میں نظام، معاشرت، اقدار، روایات سب جھونک دیں۔ عظیم قائد کے دیے تحفے کو دولخت ہوئے دہائیاں بیت گئیں۔کپڑے جھاڑ کر، ماتھے پر پسینہ کی بوند لائے بغیر وطنی بیخ کنی میں پھر سے چست اور مستعد۔

عظیم قائد کا نظریاتی ایجنڈا برطرف کہ فی زمانہ سوچنا بھی ذہنی عیاشی، 11اگست 1947کی تقریر پر تو ہم سب متفق ہیں۔ تقریر کا لب لباب ایک ہی، ’’جیو اور جینے دو‘‘۔ کم از کم ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر ہی قائم رہتے، تو نظریاتی و معاشرتی مسائل جمہور نے خود سے حل کر لینا تھے۔

پیر و مرشد اور عظیم قائد کی ساری ترکیبیں، تدبیریں اُلٹی گنتی کی زَد میں ہیں۔ ایک اسکیم کے تحت عظیم قائد کے فلسفہ اتحاد، ایمان اور نظم کو نیزے کی انی پر رکھا تاکہ مذموم مقاصد کا حصول یقینی رہے۔

قومی اتحاد گیا بھاڑ میں، ایک قوم کو کمال مہارت سے قومیتوں کے خانوں میں تقسیم در تقسیم دھکیل دیا۔ سیاسی وابستگیوں کو باہمی دشمنیوں میں ڈھالنے کے لیے افراط و تفریط کا اعشاری نظام ایجاد کیا۔ مقصد ایک، کہ اقتدار ہمیشہ طاقتوروں کا مرہونِ منت رہے۔ 70سال سے سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ کا آزمودہ نسخہ آج بھی سکہ رائج الوقت ہے۔

ایوب خان نے ایبڈو کا کالا قانون نافذ کیا (آج کا نیب اسی کا سایہ)۔ وطنِ عزیز کا دولخت ہونا منطقی انجام ہی تو تھا۔ ایوبی ایجادات اپنی مثال آپ اس لیے نہ بن پائیں کہ بعد میں آنے والے کاریگر زیادہ بڑے فنکار ثابت ہوئے۔ آج کی قومی افراط و تفریط، سیاسی کارکنوں میں باہمی ٹکرائو اور نیب کے کالے قوانین وغیرہ پچھلی تمام مثالوں کو مات دے چکے۔

دس بارہ قسموں کے نظام اپنائے، چلائے جا چکے ہیں۔ ’’اسلام کی تجربہ گاہ‘‘ میں اگلا تجربہ کیا ہونے کو ہے؟ ستر برسوں کی پراگندہ شرمناک اُڑان میں میڈیا کا مکو ٹھپنا، اختلافی نقطۂ نظر رکھنے والے شعبۂ صحافت کے متعلقین کے لیے قید و بند کی صعوبتیں، قتل و غارت، مار پیٹ، اغوا، غلیظ الزامات، صحافتی اداروں کے خلاف معاشی دہشت کا بہیمانہ استعمال، کچھ بھی نظر انداز نہ رکھا۔ میڈیا کو سیاست دانوں کے ہم پلہ، ہم وزن حصہ دیا۔

’’انصاف بانٹنا‘‘ اور ایسے ’’انصاف‘‘ کو دہلیز تک پہچانا فرضِ منصبی جانا۔ ستائش کے حقدار اس لیے کہ ستر سال سے وطنِ عزیز کو’’کرپٹ، نااہل، پاکستان دشمن و غدار‘‘ افراد خصوصاً سیاستدانوں اور میڈیا میں ایسے ’’پراگندہ عناصر‘‘ سے پاک رکھنا ’’قومی ایجنڈا ٹھہرا‘‘۔

’’انصاف اور قانون‘‘ کو روح کے ساتھ نافذ کرنے کا ’’عظیم الشان اور مقدس فریضہ‘‘ خود کو تفویض کرنے کی ’’اہم ذمہ داری‘‘ بھلا اقتدار اور طاقت کے بھوکے پجاریوں سے بہتر کون سر انجام دے سکتا تھا۔ کیا ہوا اگر ستر سال کی’’قومی جدوجہد‘‘ میں ایک بازو اور شہ رگ کٹ گئے۔ سیاست، جنگ اور محبت میں ’’حتمی اہداف‘‘ کا حصول اہم ہوتا ہے۔

’’جیو اور جینے دو‘‘، جب حکومت خود اپنے متعلقین سے جینے کا حق چھین لے، ان کی زندگی کے درپے ہو۔ اختلافی رائے کا گلا دبانا ’’قومی مفاد‘‘ بن جائے۔ سیاست و صحافت کا پسِ دیوارِ زندان رہنا ہی مملکت کی سلامتی کی ضمانت کہلائے۔

سمجھو کہ ’’ماضی بعید کی درخشاں تاریخ‘‘ بدروح بن کر حسبِ معمول جائزہ لینے مملکت کے دس سالہ دورے پر ہے۔ مخالف سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا، ٹی وی چینلز، اخبارات کو زندہ درگور کرنے کے لیے ان تھک محنت جانفشانی سے جاری ہے۔

آج پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن سلاخوں کے پیچھے، ہر خاص و عام کے لیے پیغام ایک ہی۔ دو میں سے انتخاب ایک ’’ہمارا راستہ لو وگرنہ مر مٹنے کا راستہ پکڑو‘‘۔ کیا جینے کا حق ملے گا؟ انصاف ہو گا؟ تماشا ختم ہو گا؟ ایک ایسا سوال جس کا ٹکا سا جواب، ’’نہیں!‘‘۔
Hafeez-Ullah-Niazi-Jang