پاکستان میں کرونا کیسز کے عروج کا وقت قریب آ چکا، ماہرین

پاکستان میں کرونا کیسز کے عروج کا وقت قریب آ چکا، ماہرین

لاک ڈاؤن میں رعایت خطرناک ہے: وزیر صحت، ملک کا ہر شخص یہ بات سمجھ لے کہ کرونا وائرس حقیقت ہے: پی ایم اے

کراچی: حکومت سندھ، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مئی کے آخر میں کرونا کیسز کی تعداد عروج پر پہنچنے کا بڑا خدشہ ہے۔

وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بیان دیا ہے کہ مئی کے آخر میں کرونا کیسز کی تعداد اپنے عروج پر ہوگی ، سندھ میں ابھی کرونا کے مثبت کیسز کی تعداد 10 فی صد ہے، لیکن آیندہ دنوں میں صورت حال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سماجی فاصلوں اور لاک ڈاؤن کو مزید مؤثر بنانا ہوگا، کیسز کی پیک وسط مئی اور مئی کے آخر میں ہوگی، اگر لاک ڈاؤن میں رعایت دی تو تعداد زیادہ بڑھ جائے گی، حکومت نے فیلڈ اسپتال میں بستروں کی تعداد 5 ہزار کر دی ہے جسے 11 ہزار تک لے کر جائیں گے۔

پی ایم اے

ادھر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی مئی میں کو وِڈ نائنٹٰین کی وبا تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے، پی ایم اے کا کہنا ہے کہ مئی کے دوسرے، تیسرے ہفتے میں کرونا کیسز اندازے سے زیادہ ہوں گے، اسپتالوں، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف پر بوجھ حد سے زیادہ ہوگا، عوام اور انتظامیہ کو سخت حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ایم اے کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ مئی کے پہلے سے تیسرے ہفتے تک کیسز میں بے تحاشا اضافے کا خدشہ ہے، کیسز بڑھنے کی وجہ بظاہر یہی ہے کہ سرکار کا لاک ڈاؤن مؤثر نہیں، رمضان میں بھی ہم سماجی رابطے کم کرنے پر کنٹرول نہیں کر پائیں گے، ہمارے پاس بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی تعداد بہت کم ہے، لوگوں سے گزارش ہے کہیں نہ جائیں گھر پر بیٹھیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی مکمل حفاظتی سامان کی دستیابی اب تک ممکن نہیں ہو پا رہی، کرونا سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کی بھی کمی کا سامنا ہے، امریکا تک کو چین سے وینٹی لیٹرز منگوانا پڑے، پاکستان میں تو کرونا سے نمٹنے کے لیے صورت حال بہت خراب ہے، ملک کا ہر شخص یہ بات سمجھ لے کہ کرونا وائرس حقیقت ہے۔

ڈاکٹر قیصر کا کہنا تھا کہ 5 سے 6 دنوں میں کرونا کیسز اور اموات کی تعداد دگنی ہوگئی ہے، کرونا کے پیک کے خدشے کو عوام مل کر ہی ختم کر سکتے ہیں، بیان نہیں کر سکتے کرونا سے کس حد تک خطرناک صورت حال ہو سکتی ہے، علما سے بھی گزارش ہے رمضان میں عبادات سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

جناح اسپتال

ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ پاکستان میں کرونا کے کیسز کا پیک کا وقت قریب آ چکا ہے، ایسے کیسز بھی بڑھ سکتے ہیں جنھیں وینٹی لیٹرز کی ضرورت پڑے، لوگ گھروں سے باہر نہ نکلیں، بچے بھی گلی محلوں میں کھیل کر جراثیم گھروں میں لے کر جاتے ہیں، رمضان المبارک کا احترام ہم سب کے دلوں میں ہے، ہم جتنی بھی کوشش کر لیں مساجد میں سماجی فاصلہ نہیں رکھا جا سکتا، گزارش ہے کہ لوگ گھروں میں عبادات کریں۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ کلورین سے پورا شہر صاف کرنا ممکن نہیں، بہتر ہے گھروں میں عبادات کریں، لوگ غیر ضروری طور پر نکلیں گے تو صورت حال کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔

سی ای او انڈس اسپتال

انڈس اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر باری کا بھی کہنا تھا کہ مئی میں کیسز کی تعداد خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور گھروں سے نکلنے والے زیادہ متاثر ہوں گے، امریکا جیسی صورت حال پاکستان میں ہوئی تو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوگا، عوام سے گزارش ہے معاملے کو انتہائی سنجیدہ لیں اور گھروں میں رہیں۔