نیب کی نئی لسٹ تیار، کون کون گرفتار ہوگا؟

گندم اور چینی کا بحران پیدا کرنے والوں کی گرفتاریوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں ساتھ ہی یہ خبر بھی آگئی ہے کہ پرائیویٹ بجلی گھروں کی مہنگی بجلی اور عوام سے لوٹ مار کرنے والے عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر اہم گرفتاریوں کا امکان ہے۔
ا پوزیشن رہنماؤں کا بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم اور نیب کا گٹھ جوڑ ہوچکا ہے اور نئی فرمائشی لسٹ دی گئی ہے جس کے تحت مزید گرفتاریاں ہوں گی۔
اس صورت حال پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے حکومت پر زبردست دباؤ ہے آنے والے دنوں میں دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے کہ اس لئے حکومت ایک طرف تو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اجلاس بلایا تو وہاں پر حزب اختلاف کے رہنما اور اراکین حکومتی کارکردگی پر کھل کر تنقید کریں گے اور میڈیا کے ذریعے وہ باتیں پوری دنیا میں جائیگی اسے وزیراعظم عمران خان پسند نہیں کرتے اس لئے پارلیمنٹ کے اجلاس کو بھول جائیں لیکن اپوزیشن اب یہ معاملہ سمجھ گئی ہے اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے پر زور دے رہی ہے۔
حکومت اپوزیشن کو دباؤ میں لانے کے لیے چینی آٹا اور پرائیویٹ بجلی گھروں کے معاملات پر انکوائری رپورٹ ری پبلک کرنے کی باتیں کر رہی ہے تاکہ پوزیشن سے انکے جوتا نبانے ملتے ہیں تو اپوزیشن کے لوگ دباؤ میں آکر بیک فٹ پر چلے جائیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف شیخ رشید کہہ رہے ہیں کہ میڈیا اور سیاسی مخالفین سے صلح کر لی جائے رمضان اور عید آنے والی ہے اس سے پہلے سیاسی اختلاف ختم کرکے معاملات کو آگے بڑھایا جائے دوسری طرف وہی شیخ رشید کہتے ہیں کہ شہباز شریف خود نیب کے پاس نہیں آئیں گے نیب والے جائیں تو جاکر پکڑلیں۔

شیخ رشید کے حوالے سے نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا نہیں کر سکتے شیخ رشید جو باتیں کہہ رہے ہیں یہ غور کرنا چاہیے کہ وہ کسی اور کی زبان بول رہے ہیں ۔ایک طرف وہ اپوزیشن کے خلاف باتیں کرکے عمران خان کو خوش کر رہے ہیں دوسری طرف وہ عمران خان کو صلح صفائی کا راستہ اختیار کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں عمران خان ایک دیہاتی ہے اور وہ کبھی بھی مجموعی طور پر میڈیا اور اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے بلکہ وہ تو سب کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں میڈیا میں میرشکیل کی رہائی تک تو بات ہو سکتی ہے اس حوالے سے ویسے بھی اطلاع ہے کہ میںر شکیل کو کہا گیا تھا کہ وہ تھوڑی غلطی مان لیں ایل ڈی اے جرمانہ کر دے گی آپ کی جان چھوٹ جائے گی لیکن میرشکیل نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا کہ میری کوئی غلطی نہیں میں کیوں مانوں۔پھر یہ معاملہ وہیں پر رک گیا لیکن عمران خان اور پوزیشن کے ساتھ کبھی بھی بیٹھنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے وہ اس معاملے میں بہت ضدی ہیں جب بالاکوٹ والا معاملہ ہوا تھا تب بھی وہ نہیں مانتے تھے اور جب فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے لیے اپوزیشن سے بات کرنے کی بات ہوئی تب بھی وہ نہیں مانے اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بھی وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے پر راضی نہیں تھے عمران خان جب تک بہت سنگین بحران نہیں ہوگا اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے بلکہ عام تاثر ہے کہ وہ نیب اور دیگر اداروں کو اپوزیشن کے پیچھے لگا کر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپوزیشن ڈال سکے۔
پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کے حوالے سے اگر اپوزیشن شورمچا تی ہے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بناتی ہے تو حکومت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے لیکن جب تک دباو غیر معمولی نہیں ہو گا اسپیکر قومی اسمبلی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا وہی کریں گے جو وزیراعظم چاہیں گے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ حکومت اور ایپی پیس کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے جو عدم اعتماد پایا جاتا ہے صاف لگ رہا ہے کہ ایپی پیس کی جانب سے مزاحمت کی جائے گی ۔ماضی میں انیس سو چورانوے پھر 2002 اور پھر 2015 میں اسی قسم کی کوششیں اور نئی پالیسیاں پیش کی گئی۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں کوئی پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں تھا اس لئے ایپی پیس کو اچھا خاصا ریٹ دے کر لایا گیا سال 2002 میں مشرف کی حکومت میں فوجی جنرل ذوالفقار واپڈا کے چیئرمین تھے اس لیے انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ سختی کی اور ایم ڈی حبکو کو گرفتار بھی کر لیا
۔بعد میں پھر یہ معاملہ عالمی ثالثی میں چلا گیا ۔فوجی دور میں نیب نے چھوٹے ایپیس مالکان کو گرفتار کرکے دباؤ میں لے کر فیصلے کر لیے تھے اور جنرل ذوالفقار کہا کرتے تھے کہ میں نے 40 سے 50 ارب روپے بچا لیا اور وہ کہتے تھے کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا اس دور میں آئی پی پیز کی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کی گئی تھی ۔پھر 2015 میں چینی سرمایہ کاری آنے والی تھی اس وقت بھی یہ معاملہ اٹھا تھا کہ بڈنگ نہیں ہے اور آج تک معلوم نہیں ہے کہ معاہدوں کی اور شرائط کی تفصیلات کیا ہیں۔
آپ سال 2020 آگیا ہے اب پھر یہ معاملہ سر اٹھا رہا ہے حکومت اور آئی پی پیس کے درمیان مذاکرات کے لئے جو TORs تیار کیے گئے ہیں اس پر اختلاف ہوگیا ہے یہی لگتا ہے کہ چھوٹے لوگ تو دعاؤں میں آجائیں گے لیکن بڑی کمپنیاں دباؤ میں نہیں آئیں گی۔ ادھر آئی ایم ایف بھی مانگ رہا ہے کہ چین کے ساتھ جو معاہدے کئے گئے تھے وہ دکھائے جائیں ان کی تفصیلات سامنے لائیں اب اسد عمر بھی کہہ رہے ہیں کہ آئی پی پیز رپورٹ پبلک کر دیا جائے جب کہ جو لوگ ایسا نہیں چاہتے ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو چین کے ساتھ مسئلہ ہو جائے گا ان حالات میں قومی احتساب بیورو کے لوگ حرکت میں نظر آرہے ہیں وہ اپنی چھریاں تیز کر رہے ہیں آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں نظر آرہی ہیں ۔