عمران خان، میرا دوست! میرا ہیرو

تحریر: سہیل دانش

میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں اس عمران کو تلاش کررہا ہوں جو میرا دوست تھا، میرا ہیرو تھا جو دنیا کے ہر کرکٹ شائق کے لیے ایک افسانوی اور دیومالائی کردار تھا، جو میدان میں آخری گیند تک لڑنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ میری خواہش ہے کہ جس طرح دنیائے کرکٹ میں اس کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا اسے وزیراعظم کے طور پر ایک نجات دہندہ کا ٹائیٹل ضرور ملنا چاہیے کیونکہ کرکٹ کے میدان میں میں نے اس کی اٹھان دیکھی تھی۔ 1977ء میں سڈنی کے میدان کی ہارڈ اینڈ فاسٹ وکٹ پر دنیا کی مضبوط ترین ٹیم کی دھجیاں بکھیر کر پیچھے مڑ کر نہ دیکھنے والا عمران خان خود کو ایک ایسا لیڈر ثابت کرے گا جو نیک نامی کے ساتھ حالات کو بھانپنے اور وقت کے تیور کو سمجھنے والا بن کر قوم کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے کوئی کرشماتی کارکردگی دکھائے گا ”ریاست مدینہ“ کو ماڈل بنانے کی آرزو اندھیرے میں روشنی کی کرن ضرورمحسوس ہوتی ہے لیکن تاریخ بڑی سنگدل ہے۔ اسے حکمرانوں کی ذاتی ایمانداری اور شخصی شرافت سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ صرف بڑے لوگوں کے کارنامے دیکھتی ہے۔ حضرت عمرؓ کی دوپہریں صحرا میں گزریں اور راتیں مدینہ کی چوکیداری میں تو تاریخ اسے ایک صفحے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی لیکن امیر المومنین حضرت عمرؓ کے کارناموں سے کتابیں بھری پڑی ہیں۔
میں پھر اس عمران خان کو تلاش کررہا ہوں جس کے متعلق ہر مخالف ٹیم یہسمجھتی تھی کہ اگر بولنگ میں اس نے پاکستان کی ٹیم کو کم اسکور پر آؤٹ کرلیا۔ تو عمران انہیں اس سے بھی کم اسکور پر آؤٹ کرسکتا ہے اور بیٹنگ میں پاکستان کے صف اول کے بیٹسمینوں کو آؤٹ کرنے کے بعد اسے یہ دھڑکا رہتا تھا کہابھی عمران باقی ہے۔
عمران خان سے میری پہلی ملاقات برادرم قمر احمد اور شہرت یافتہ تبصرہ نگار محترم منیر حسین کے ہمراہ ہوئی۔ پھر یہ رشتہ اپنائیت میں بدل گیا اور مجھے اس بات پر ہمیشہ فخر رہا کہ عمران کے کرکٹنگ کیریئر، ان کی صلاحیت، نظر شناسی، مہارت آن دی فیلڈ اور آف دی فیلڈ فیصلے اور قائدانہ حوصلہ پر مجھ سے زیادہ شاید ہی کسی اور نے لکھا ہو۔ جنگ، اخبار، ڈان، نوائے وقت اور دیگر بہت سے رسائل اور اخبارات کے صفحات اس کے گواہ ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب اسپورٹس پر لکھنے اور ریڈیو پر تبصرے کرنے والے نوجوانوں کو جناب منیر حسین، محترم عظیم سرور اور برادرم ریاض منصوری جیسی سرکردہ شخصیات کی رہنمائی حاصل تھی۔ عمر قریشی، افتخار احمد اور چشتی مجاہد جیسی کمنٹیٹرز جو منظر کشی کے ذریعے سامعین اور ناظرین کو میدان میں اتارلیتے تھے۔ جو کھلاڑیوں کے لیے ایسے پر تحسین القابات اور الفاظ استعمال کرتے کہ واہ واہ کرنے کو دل چاہتا تھا۔ عمران خان اور جاوید میانداد کی شہرت کا ستارہ آسمانوں پر تھا۔ یہ دونوں کھلاڑی میرے دوست بھی تھے اور ہیروز بھی۔
جب عمران خان وزیراعظم بنے تو مجھے یقین تھا کہ اب پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ احتساب ہوگا اور وطن عزیز میں صاف اور شفاف حکومت قائم ہو گی مجھے یقین تھا کہ عمران کی کارکردگی کی مہک پورا معاشرہ محسوس کرے گا کیونکہ میں اقتدار میں آنے سے پہلے اور جدوجہد کے دوران اس کا نکھرا، مطمئن اور مسرور چہرہ دیکھتا تھا۔
وہ پورے اطمینان کے ساتھ ہر سوال کا جواب دیتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ جب عمران انصاف کی بات کرتے ہیں تو ان کے سامنے دنیا بھر کے ان ممالک میں انصاف کے نظام اور ان کی کہانیاں ذہن نشین ہوں گی۔ وہ انگلستان جیسے معاشرے میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکے تھے انہوں نے ناروے، سوئیڈن، ڈنمارک اوریورپ کے بیشتر ممالک کے عدالتی نظام پر بھی نظر ڈالی ہوگی۔ جہاں جیلوں میں قیدیوں کے لیے جدید ترین اور بہترین سہولیات موجود ہیں انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہانہوں نے اپنے عدالتی نظام کو بھی لوہے کی طرح سخت اور چٹان کی طرح اٹل کیسے بنایا۔ جہاں جرم کسی بادشاہ سے سرزد ہو یا کسی بے روزگار اور بے کس سے۔ مجرم کو گرفتار ہوئے، تھانے پہنچتے ہی اس کے خلاف تحقیقات مکمل ہوئی، اسے عدالت پہنچانے اس کے کیس کا فیصلہ ہوتے اور جیل میں بند کرتے وقت اس سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ جتنا ہمارے معاشرے میں خط کو ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچنے میں لگتا ہے۔ اپنی پارٹی کا نام ”انصاف“ سے منسوب کرنے والے اس پر عزم وزیراعظم کو علم ہوگا کہ آخر وہ کیا معجزہ ہے جو امریکہ جیسے بے شمار کمزوریوں کو سمیٹے بیمار معاشرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے تو ان کے حافظے میں حضرت علی ؓ کا یہ قول زریں بھی چمکا ہوگا ”معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں۔“

کیاوہ معاشرے زندہ کہلاتے ہیں جن کی عدالتیں زخم مندمل ہونے سے پہلے انصاف فراہم نہ کرسکیں۔ یہ بات سمجھ لیں کہ یہ قدرت کا قانون ہے کہ جن معاشروں میں مظلوم کو فوری انصاف نہیں ملتا انہیں زمین چاٹ جایا کرتی ہے۔ وہ ہڑپا اور موہنجودڑو بن جاتے ہیں۔ قدرت کا اصول ہے کہ وہ لوگو کے لیے اپنے فیصلے نہیں بدلا کرتی۔ آج ہمارے ہاں انصاف اور احتساب کا جو حال ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس یہ سمجھ لیں کہ مسائل آگے چلانے، ایک دستخط کرنے، چند کاغذ نیچے دبانے، مخصوص نوٹ لکھنے والے افسران بالا یا وزیروں کو دھوکہ دینے یا ملی بھگت کر کے ہر سال اربوں روپوں سے جیبیں بھرکر گھر لے جانے والوں کا کیا بنے گا۔ تاریخ الفاظ جذباتی باتوں اور پرکشش نعروں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ اور عزم اپنی جگہ۔ صدیق اکبرؓ سیدنا عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور شیر خدا حضرت علیؓ کی طرز حکومت کا وہ کون ساپہلو ہے جو ہم اپنانے کی تگ و دو کررہے ہیں، مان لیتے ہیں کہ یہ وہ عظیم اور جلیل القدر شخصیات ہیں جنہیں اللہ کے رسول ﷺ نے زندگی میں جنت کی بشارت دیدی تھی ان کی تقلید تو کی جاسکتی ہے اور آج کی دنیا ہم دیکھ رہے ہیں کہ مہاتیر محمد اور نیلسن منڈیلا جیسے لیڈروں نے کس طرح اپنے ملک اور قوم کی تقدیر بدلی۔
جب عمران اس ملک کے وزیر اعظم بنے تو ان کی آنکھوں میں کچھ کرنے کی تڑپ اور لہجے میں اصلاح احوال کی شدید ترین خواہش کروٹ لیتے چھپتے نہیں چھپتی تھی جو ایک کھرے مگر خواب دیکھنے والے شخص کا خاصا ہوتا ہے لیکن ترقی کی شاہراہ پر عمران کی کوچ میں بیشتر ایسے افراد سوار ہوگئے جنہوں نے بار بار مثانے کے کمزورہونے کی شکایت کر کے کوچ کو روکنا شروع کردیا جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جاپان، جرمنی، کوریا، ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ترقی کرنے والے ممالک کی قیادتیں زیادہ سیانی تھیں انہوں نے اپنے سفر کے ابتدا ہی میں گاڑی سے ایسے تمام افراد کو آف لوڈ کردیا۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ جب پہلا بجٹ آیا تو وزیر خزانہ نے پوری دیدہ دلیری سے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے عوام کا انتخاب کیا اسمبلی میں تالیاں بجانے والوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ پیسے تو عوام کی جیب سے وصول کیے جائیں گے۔ ہم تو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران نے قوم کی نبض بھی پکڑی ہوگی۔ پتلیاں اٹھاکر آنکھوں کی حسرتیں بھی دیکھی ہوں گی۔ چہروں پر اداسی اور مایوسی کا مشاہدہ بھی کیا ہوگا اور بیماری کی علامتیں دیکھ اور سن کر تشخیص اور علاج بھی کرلیا ہوگا۔ اس لیے مریض پر ایسا نسخہ آزمایا جائے گا کہ اس کا درد سر ختم ہوجائے گا۔ اسے صاف نظر آنے لگے گا۔ صحیح سنائی دینے لگے گا۔ اس کی سانسیں ہموار اور رواں ہوجائے گی اور وہ صحت مند دکھائی دے گا تاریخ کی سچائی بڑی کڑوی ہوتی ہے وہ صرف ان ناموں کے آگے رکتی ہے۔ جو انسانوں اور اپنی قوموں کے نجات دہندہ ہوتے ہیں۔ ماؤزے تنگ سائیکل پر دفتر جاتا تھا۔ معمولی سے دو کمروں کے مکان میں رہتا تھا۔ بغیر مکھن لگائے دو سلائس سے لنچ کرتا تھا اس کے پاس پہننے کے لیے دو جوڑی کپڑے تھے اور ایک جوڑی جوتے۔ یہ کون جانتا ہے لیکن عوامی جمہوریہ چین کے بانی کو کون نہیں جانتا۔

اس شخص کو کون جانتا ہے جو گھر گھر کی کنڈیاں بجاکر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو برسہا برس یہ یقین دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ ان کی اس نسل کو سادگی اختیار کرنی ہوگی۔ لڑکیاں ناخنوں پر نیل پالش اور ہونٹوں پرلپ اسٹک نہ لگائیں، پرتعیش زندگی کی خواہش کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرلیں۔ لیکن وہ وعدہ کررہا تھا کہ ان کی اگلی نسلوں کو وہ سب کچھ حاصل ہوگا جس سے امریکہ اور یورپ کے لوگ استفادہ کررہے ہیں لیکن دنیا کے عظیم مدبر اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک چوائن لائی کسی کے ذہن سے محو نہیں ہوا۔ جی ہاں یہ وہ لیڈر ہے جس نے نشے میں مبتلا ہیروئنچی ہجوم کو ایک ایسی قوم بنادیا جو معاشی میدان میں سینہ تانے آج دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ جس کے لیے امریکی صدر رچرڈ نکسن نے کہا تھا ”میں نے چوائن لائی سے زیادہ فہم و فراست والا ذہین لیڈر نہیں دیکھا۔ جی ہاں یہ معجزاتی لیڈر تھے۔ جن کے نام آتا ہے تو دنیا کے بڑے بڑے لیڈر سر جھکالیتے ہیں۔
عمران خان میں بڑا غیر معمولی اسپار ک تھا بڑے بڑے کھلاڑی میدان میں اسے دیکھ کر انسپائر ہوتے تھے۔ دنیا کے کرکٹنگ ممالک میں یں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ان ممالک کے شاندار کھلاڑیوں کی پسندیدگی اور شہرت کا چراغ عمران کے آگے ماند پڑجاتا تھا۔ عمران خان واقعی کرشماتی کھلاڑی تھا۔ وہ میدان میں داخل ہوتا تو دنیا کے اسٹیڈیمز تالیوں کی آواز سے گونجنے لگتے تھے مجھے آج بھی یاد ہے کہ 1979ء میں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بھارت کے کھلاڑی کس طرح اس کی طوفانی بولنگ کے آگے بے بسی کی تصویر نظرآرہے تھے وہ منظر کبھی محو نہیں ہوتا جب اس کی 100 میل کی رفتار سے آف اسٹمپ پر پڑکر مڈل اسٹمپ کی طرف مڑنے والی سپر ایکسپریس گیند نے وشوا ناتھ جیسے بیٹسمین کی مڈل اسٹمپ اکھاڑ پھینکی تھی ایک ایسی گیند جسے وشواناتھ لیفٹ کررہا تھا پاکستان کرکٹ کی تاریخ اس کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔
عمران خان میرا دوست تھا میرا ہیرو تھا وہ اس وقت ہمت نہ ہارنے والا کپتان تھا مقدر اس پر مہربان تھا اور وہ قسمت کے گھوڑے پر سوار 1992ء کے ورلڈکپ میں کامیاب و کامران ہوگیا۔ ہاں اس کی ساتھیوں میں جاوید میانداد جیسا باکمال بیٹسین تھا۔ وسیم اکرم جیسا جادوگر بولر اور انضمام جیسا بازی پلٹ دینے والا قسمت کا دھنی۔ وہ ناقابل بیان جذبات اور احساسات کے ساتھ ورلڈ کپ اپنے ہاتھوں میں تھامے فاتح کی طرح سینہ تانے کھڑا تھا۔ کرکٹ کے میدان کے بعد وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے میدان میں آیا تو اس نے ناممکن کو ممکن بنادیا اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم ہسپتال کی بیناد رکھ ڈالی وہ ہسپتال کی تعمیر کے لیے فنڈز اور منصوبے کے متعلق جس کسی سے مشورہ کرتا۔ جواب نفی میں ملتا ”تم پیسے بھی ضائع کرو گے اور وقت بھی“ وہ ہمت ہارنے والا نہیں تھا، تھکا دینے والی ملاقاتوں، بحثوں اور تخمیوں کے بعد پھر سب نے انہونی ہوتے دیکھی جولوگ ہسپتال کی تعمیر کو ناممکن سمجھ رہے تھے۔

ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ محبتوں کا طوفان امڈ پڑا۔ وہ باہر نکلا تو مقناطیس کا پہاڑ ثابت ہوا۔ ہر کوئی اس کی مدد کو لپکنے لگا۔ اسکول کے بچے اس کے سپاہی بن گئے۔ سب کچھ ناقابل یقین تھا۔ ایک معجزہ تھا۔ میں نے اس وقت عمران سے پوچھا یہ سب کیسے ہوگیا۔ خان نے جذباتی انداز میں انگلی آسمان کی طرف اٹھائی عجز سے کہا ”سب کچھ اس کا کرم ہے۔“ اس نے کہا ”نیک نیتی سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ لاہور کے بعد پشاور اور اب کراچی میں شوکت خانم کی عمارت ابھر رہی ہے۔ وہ آج ملک کے وزیراعظم ہیں۔ انہیں ہموطنوں کو ایک پرجوش اور متحدہ قوم میں بدلنے کا چیلنج درپیش ہے خان صاحب جب تک آپ اقتدار میں ہیں۔ کچھ سوالات مسلسل آپ کے سامنے گردش کرتے رہیں گے۔ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ کی بات کی ہے کیا اس نظام کے بعد ہمارا صدربھی ایک عام شہری کے اسٹیٹس پر آجائے گا۔ ایک عام پولیس انسپکٹر وزیراعظم کو قانون توڑنے پر وارننگ دے سکے گا۔ وزراء کی گاڑیوں کے چالان ہوں گے۔ ان کی آمدنی کے ذرائع پوچھے جاسکیں گے۔ قانون کی نظر میں غریب اور جاگیردار برابر ہوجائیں گے کیا اس کے بعد غلام اور آقا کا باہمی فاصلہ، کمی اور چودھریوں کی تفریق، مزارع اور سردار کے درمیان خلیج مٹادے گی۔ کیا یہ نظام انسانوں کو ایک نظریہ ایک سطح اور ایک زاویہ سے دیکھے گا۔ کیونکہ یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جو ریاست مدینہ نے قائم کیا تھا۔ لوگ اُمید کیساتھ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ قوم مسائل کی چکی میں پس رہی ہے۔ نوجوانوں کو ملازمتیں چاہئیں صحت وتعلیم کی سہولتیں چاہیں انصاف چاہیے۔ انہیں سر پر سائباں چاہئے اس وقت عام آدمی کی اجرتوں اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کوئی توازن نہیں رہا ہے کرونا نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ قوم کن مسائل و مصائب کا شکار ہے یہ آپ س زیادہ کون جانتا ہے۔ آپ جس ریاست کی بات کررہے ہیں اس کی بنیاد آقائے دو جہاں رسول خدا ﷺ نے رکھی تھی اور جسے پوری خلفائے راشدین نے پوری دنیا میں پھیلایا تھا۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے قدم آپ نے بڑھانے ہیں۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ فرق انسان ہی ڈالتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنے قریب کیجیے جن کی ظرف فطانت، محنت اور ایمانداری پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔ یقین جانئے وطن عزیز کی زمین ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی ہے اس سرزمین پاکستان جس کی آزادی ایک معجزہ تھی اور اس معجزے کے خالق محمد علی جناح تھے۔ ہم سب کے قائد اعظم۔
اگر آپ نے اپنے ان مقاصد میں کامیابی حاصل کرلی۔ جو آپ کہہ رہے ہیں تو یقین جانیں اس وطن کے لوگ آپ کو اپنے محسن کے طور پر یاد رکھیں گے دوسری صورت میں ”ریاست مدینہ“ کا نتیجہ بھی روٹی کپڑا مکان کے نعرے اور جنرل ضیاء کی سائیکل سواری جیسا نکلے گا۔