چھوٹے تاجروں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، تاجر دوکاندار معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں

کراچی : تاجروں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تمام تاجر تنظیموں نے15 اپریل سے اپنے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا تھا مگر سندھ حکومت نے ہم سے میٹنگ کی اور وعدہ کیا کہ 48 گھنٹوں میں ایس او پیس بنا کروفاقی حکومت کو بھیج دی جائے گی اور 3 سے6 دن میں ہم مرحلہ وار کاروبار کھول دینگے۔ مگر آج 2 بجے تک حکومت کی وہ ڈیڈ لائن بھی ختم ہوگئی۔ چھوٹے تاجروں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ تاجر دوکاندار معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ دکانداروں کے پاس کام کرنے والے تقریباً چالیس سے پچاس لاکھ لوگ اپنی تنخواہوں کا مطالبہ کر رہے ہیں مارکیٹوں میں روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرنے والے لاکھوں مزدورں کی نظریں مارکیٹ اور شاپنگ مال کے دوکانداروں کیطرف دیکھ رہی ہیں چھوٹے تاجروں اور مارکیٹوں میں کام کرنے والے مزدورں کے گھروں میں چوہلے بند ہو چکے ہیں بچے بھوک اور افلاس سے تڑپ رہے ہیں۔ مگر وفاقی اورصوبائ حکومتیں اپنی ذاتی لڑائی میں کراچی کے تاجروں پرشب خون مار رہی ہے۔

جب وفاقی حکومت سندھ کو کہہ چکی ہے کہ 18 ترمیم کے تحت صوبہ خودمختار ہے تو کیوں سندھ حکومت تاجروں کولولی پاپ دے رہی ہے وفاق سے ایس او پیس کی اپروول کا۔ اب تاجروں کی نظریں اس طرف دیکھ رہی ہیں جنھوں نے کبھی اس قوم کو کسی مصیبت کی گھڑی میں تنھا نہیں چھوڑا۔ اب ہم اس مصیبت کی گھڑی میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ صاحب سے درخواست ہے کہ وہ تاجروں اور مزدورں کے اس مسئلے پر اپنی مداخلت کریں اورکوئی ایسی ایس او پی بنا دیں جس سے تاجر اپنے کاروبار کھول سکیں۔ حکمران اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ تاجر آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ عوام کو اسے ظالم حکمران سے نجات دلوائیں کیوں کہ آپ ہی اب ہماری آخری امید ہیں۔ کیوں کہ اب غربت سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں کرائم بڑھے گا۔

تاجر مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کاروبار بند کرنا چاہتے ہیں تو بند کردیں مگر اربوں روپے کے فنڈ آرہےہیں اس سے تاجروں کو کوئی ایسا فنڈ دے دیں کہ وہ اپنے ملازمین اور اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کرحکومتی احکامات پرپوری طرح عمل کرسکیں۔ ساری دنیا میں حکومتیں اپنے لوگوں کو ریلیف پیکچ دے رہی ہیں مگر سندھ حکومت کی بے حسی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ تاجروں سے کوئی انتقام لے رہی ہے۔ لہذا کراچی سمیت سندھ کے تمام تاجر جنرل باجوہ سے اپیل کرتی ہے کہ آپ عوامی اسرار پر ایسے جابر حکمرانوں سے نجات دلوائیں آپ تاجروں کی آخری امید ہیں۔ تاجر اس ماہ اپنے ملازمین کو تنخواہ کی مد میں کچھ نہیں دے سکیں گے۔ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے ایسے حالات میں روٹی کپڑا اور مکان کا انتظام کرے۔