ندیم مرزا (سندھ کا مقدمہ) …… قسط نمبر 1

بہت دنوں سے سندھ کے مقدمے پر لکھنا چاہ رھا تھا لیکن فریقین کی گالیوں بھری تنقید اور نا سمجھوں کی لعنت ملامت کا خوف روکے ھوئے تھا کہ اب سوشل میڈیا پر جو بات آپ کی سمجھ کے حساب سے صحیح نہ ھو اُس کا جواب اسی طرح دینے کا رواج ھو گیا ھے مفاد پرست قیادت نے تعصبی ذہنیت کو اس طرح پروان چڑھایا ھے کہ وہ اپنے مقصد کی راہ میں آنے والے ھر شخص کے ساتھ بدترین سلوک کو جائز اور اپنے آپ کو حق بہ جانب سمجھتے ہیں اور قیامت یہ ھے کہ نہ صرف جہلا بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی انتہائی بدبودار کا تعصب رکھتے ہیں کہ اللہ کی پناہ
لیکن بہرحال میں لکھوں گا کہ
اظہار حق میں خطرہ دار ورسن تو ھے

لیکن کمال یہ ھے کہ اظہار حق کے بعد
سندھ کا مقدمہ سمجھنے کے لئے سندھ کی تاریخ سمجھنا بہت ضروری ھے
سندھ آریاؤں نے آباد کیا یہ آریاؤں کا آبائی وطن نہیں تھا پانی کی تلاش میں آریا جب ھجرت کرکے سندھ کے علاقے میں آئے تو دریا کے دونوں طرف آباد ھو گئے آریان زبان میں دریا کو  “ سندھو” کہتے ہیں اس لئے اس علاقے کا نام سندھ پڑ گیا اور یہاں کے رھنے والے سندھی کہلائے

یہ کھیتی باڑی کرنے والے ،ادبی ، ایک دوسرے ادب احترام اور راہ رسم رکھنے والے ، دکھ سکھ میں شریک ھونے والے شریف ، صلح جو اور غیر جنگجو لوگ تھے اور اب تک ھیں۔
تاریخ شاھد ھے سندھیوں نے پچھلے دو ھزار سال میں ھندوستان میں کسی بھی بڑی جنگ میں حصہ نہیں لیا اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی تھی کہ بیرونی حملہ آوروں نے ھندوستان پر حملہ کرتے ھوئے فوج کی بھرتی کابل سے صادق آباد تک ھی کی کیونکہ صادق آباد کے بعد ریگستان عبور کرنا ناممکن ھو جاتا تھا اس لئے وہ ھندوستان تک نہیں پہنچ سکتے تھے اس لئے اس آگے نہ وہ آئے اور نہ ھی یہاں سے فوج بھرتی کی اور نہ ھی یہاں کے لوگ جنگجو کہلائے اس لئے جنگ ان کی فطرت میں نہیں ھے یہ انسانوں کی عزت کرتے ہیں ایک دوسرے سے ھاتھ جوڑ کر ملتے شادی اور غم اور بیماری میں دور کا سفر کرکے شریک ھوتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اب آ جائیں تاریخ کی طرف تاریخ میں قدیم سندھ کے صرف چار راجاؤں کا ذکر ملتا ھے اس سے پہلے کا کوئی ذکر نہیں ھے

ان راجاؤں میں سے آخری راجہ کی بیوی نے راجہ کو چھوڑ کر راجہ داہر کے والد چچ نامی برہمن سے شادی کر لی تھی جس کا چچ نامہ بہت مشہور کتاب ھے۔
سندھ پر بیرونی حملہ سب سے پہلے سمندر کے راستے ھوا جب راجہ داھر نے حجاج بن یوسف کا جہاز لوٹنے والوں کو پکڑ کر دینے سے یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ ان قزاقوں پر ھمارا اختیار نہیں محمد بن قاسم نے معمولی مزاحمت کے بعد سندھ فتح کر لیا کیونکہ یہ کوئی جنگجو قوم نہیں تھے جو کہ میں پہلے ھی لکھ چکا ھوں۔
محمد بن قاسم اور اُن کے ساتھ آنے والے لوگوں نے یہاں اسلامی نظام نافذ کیا یہاں کےلوگوں کو مسلمان کیا یہاں شادیاں کیں اور اُن کی اولاد سید کہلائی یہ بھی سندھ سب سے پہلے آباد کرنے والے آریاؤں کی طرح مہاجر ھی تھے اور پاکستان بننے کے سندھ کی حکمرانی بھی زیادہ تر ان کے حصہ میں ھی آئی۔
سندھ کی سر زمین پر ھجرت کا یہ سلسلہ سیکڑوں نہیں ھزاروں سال سے جاری ھے آریاؤں سے لے کر افغانیوں تک ھر قوم و نسل کے لوگوں نے تلاش روزگار کے لئے سندھ ھجرت کی اور یہاں آباد ھو گئے اور اپنا کلچر سندھ کے کلچر کے ساتھ ضم کر لیا عربیوں کی نیلی چادر “ اذرک” سندھ میں پھولوں کے ٹھپے لگا کر اجرک کہلائی بلوچوں کی ٹوپی سندھی ٹوپی کہلائی قبائلیوں کی پگڑی سندھی پٹکا کہلایا اور وہ سارے مہاجر عربی سید بلوچ پٹھان پنجابی سرائیکی قبائلی سندھی بن کر سندھ میں آباد ھو گئے۔
سندھ میں ھزاروں سال سے جاری اس ھجرت پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور ھر رنگ و نسل کے مہاجروں کو اس سر زمین اس دھرتی نے گلے لگایا انہیں عزت دی روزگار کمانے کے مواقع دیئے سر چھپانے کے لئے جگہ دی اس دوران اصل اور مہاجر سندھی کی کوئی اصطلاح نہیں تھی کوئی سندھی نہیں تھا اور نہ ھی کوئی مہاجر تھا اور نہ ھی آپس میں کوئی فرق روا رکھا گیا۔
اب سوال یہ پیدا ھوتا کہ یہ جھگڑا کیوں پیدا ھوا یہ تعصب کیوں پھیلا یہ سندھی اور مہاجر کی جنگ کب شروع ھوئی اس کے پیچھے کون لوگ ہیں اُن کے کیا مقاصد ہیں۔
سندھ کی جغرافیائی حدود بھی ھمیشہ سے تبدیل ھوتی رہیں دریائے سندھ جو اٹک سے شروع ھو کر کیٹی بندر تک جاتا ھے اس کے دونوں طرف آباد قدیم سندھی کہلائے پھر یہ حدود سکڑ کر مکران سے گجرات اور دیبل سے بھاولنگر تک پھیل گئیں پھر یہ مزید سکڑاؤ کا شکار ھوا اور بمبئی سندھ کا دارالحکومت ھو گیا اور ریاست خیر پور تک محدود ھو گیا کراچی اُس وقت اس علاقے کا حصہ تھا جو موجودہ بلوچستان ھے

سندھ میں سب سے پہلے جھگڑا سندھی ھندؤں اور مسلمانوں کا شروع ھوا جب ھندؤں نے الزام لگایا کہ مسلمان سندھی سیاستدان اُن سے زیادتی اور تعصب کر رھے ہیں اور سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے کی بات کر رھے ہیں کیونکہ بمبئی اُس دور میں ھندو سندھیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا
اس پر 1928 میں ایک سندھ کے ھندو مسلمانوں کے درمیان ایک عمرانی ماھدہ ھوا اس معاہدے کی رو سے سے سندھ میں اسمبلی سمیت تمام شعبوں میں ھندؤں کو چالیس فیصد اور مسلمانوں کو ساٹھ فیصد کوٹہ ملے گا اور یکم مئی 1936 کو بمبئی سے سندھ کا الحاق ختم ھو جائے گا 1928 کے اس عمرانی معاہدے کے نتیجے میں سندھ میں سب سے پہلے ھندو مسلمان کوٹہ سسٹم رائج ھوا۔
جاری ھے……….