صرف پارلیمنٹ کے اجلاس پر کیوں پابندی عائد کی گئی، خواجہ آصف

صرف پارلیمنٹ کے اجلاس پر کیوں پابندی عائد کی گئی، خواجہ آصف

خواجہ محمد آصف نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صرف پارلیمنٹ کے اجلاس پرکیوں پابندی عائد کی گئی،فیول کی مد میں پاکستان میں ہوسکتا ہے پرائیویٹ پاورکمپنیوں نے کھربوں روپے کمائے ہوں،آئی پی پیز سے متعلق جنہوں نے رپورٹ لکھی ہے سارے حقائق چیک کرکے لکھی ہے اور مجھے پچھلے چند دنوں میں رپورٹ کے اقتباسات وقتاً فوقتاًموصول ہوتے رہے ہیں ۔ پاکستان میں تین پالیسیوں کے تحت پاور کمپنیز لگائی گئی ہیں جو کہ 94ء،2002 ء اور 2015ء میں لگائی گئی ہیں2015ء کی پالیسی میں ونڈ، ہائیڈل، گیس، کوئلہ ساری پاور کمپنیاں شامل ہیں۔ تمام پلانٹس فرنٹ لوڈڈ ہیں یعنی سرمایہ کار ایک سے دو سال میں اپنی لگائی گئی سرمایہ کاری واپس حاصل کرلیتا ہے سرکاری پاور پلانٹس کا آڈٹ کیا جاتارہا ہے کہ کتنا تیل استعمال ہوا اور کتنی بجلی پیدا کی گئی لیکن پرائیویٹ پاور کمپنیوں کا کبھی بھی آڈٹ نہیں کیا گیا ہے۔فیول کی مد میں پاکستان میں ہوسکتا ہے پرائیویٹ پاور کمپنیوں نے کھربوں روپے کمائے ہوں ہم نے نیپرا کو کئی بار کہا کہ آپ ہمارا آڈٹ کرتے ہیں جامشورو ، مظفر گڑھ، فیصل آبادکا آڈٹ کرتے ہیں آپ پرائیویٹ کمپنیوں کا بھی تو آڈٹ کریں جتنا وہ تیل لیتے ہیں بجلی کا جو ان کو ٹیرف ملا ہوا ہے اس کے حساب سے ان کا آڈٹ کریں ۔ ہماری حکومت میں آئی پی پیز کے ایشوز بار بار اٹھتے رہے ہیں آئی پی پیز والے ہمیں مقامی اور بین الاقوامی عدالتوں میں لے گئے تھے اور فیصلے ہمارے خلاف آئے تھے اور ہمیں جرمانے کی وجہ سے نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا اور اس سب کی بنیادی وجہ وہ معاہدے تھے جو ان سے کئے گئے تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے دور حکومت میں2013-14ء میں گندم برآمد کی گئی تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے ہمارے ہاں کپاس کے قابل کاشت رقبے میں کمی کرکے دن بدن گنے کا رقبہ بڑھایا گیا جبکہ گنے کی کاشت میں پانی کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں جب چینی کی قیمتیں کم ہوتی تھیں تو ہمارے ہاں چینی مہنگی ہوجاتی تھی اس کے بعد ہم سبسڈی میں پڑتے تھے جبکہ اس کا علاج تو یہ تھا کہ آپ یہاں گنے کی کاشت کم رقبے میں شروع کردیتے بہت سی چیزیں امریکا میں تیار ہوسکتی ہیں مگر وہ چین میں تیار کرواتے ہیں کیونکہ وہاں سے انہیں سستی ملتی ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے ہیں