بھوک اور افلاس سے مرنے سے بہتر ہے کہ انسان کورونا بیماری سے مر جائے

ایسے میں جب پورا ملک کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے، لاک ڈائون نے غریب طبقے کی زندگی اجیرن کردی ہے اور اُن کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ممکن نہیں رہا اور اب نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس طبقے میں یومیہ اُجرت پر محنت مزدوری کرنے والے مزدور اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے ورکرز شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 40ملین افراد کا روزگار یومیہ اُجرت سے جڑا ہے اور یہ افراد لاک ڈائون کے نتیجے میں شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر فٹ پاتھ کے کنارے بیٹھے ہاتھوں میں اوزار لئے یہ مزدور ہر گزرتی گاڑی کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ شاید اُنہیں کوئی مزدوری میسر آجائے لیکن دکانوں کی بندش کے باعث اُن کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ لاک ڈائون کے نتیجے میں تنخواہیں نہ ملنے اور ملازمت سے محرومی کے سبب سفید پوش طبقہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ آج لاک ڈائون ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور بات غریب طبقے سے نکل کر متوسط طبقے تک پہنچ گئی ہے اور بھوک و افلاس نے اُن کی زندگی بھی اجیرن کردی ہے۔ ان افراد نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ ’’بھوک اور افلاس سے مرنے سے بہتر ہے کہ انسان کورونا بیماری سے مر جائے‘‘۔

موجودہ صورتحال میں میک اے وش پاکستان، جو لاعلاج مرض میں مبتلا بچوں کی آخری خواہشات کی تکمیل کا ادارہ ہے اور جس کا میں بانی صدر ہوں، کی طرف دیکھنے والے جان لیوا مرض میں مبتلا بچے اور ان کی فیملیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ یہ بچے جہاں ایک طرف اپنی موذی بیماریوں سے مقابلہ کررہے ہیں وہیں دوسری طرف اُن کی فیملی کے افراد غربت کے باعث بھوک و افلاس سے نبردآزما ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا سے قبل جب زندگی معمول پر تھی تو میک اے وش پاکستان سے موذی مرض میں مبتلا سینکڑوں بچوں نے ٹی وی، موبائل فونز، کمپیوٹر اور سائیکل جیسی خواہشات کر رکھی تھیں اور یہ بچے اپنی خواہشات کی تکمیل کے منتظر تھے مگر اچانک کورونا وائرس کے باعث لاک ڈائون سے پیدا ہونے والی صورتحال نے اِن بیمار بچوں اور اُن کی فیملی کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

اِن حالات میں اِن بچوں نے ادارے سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ ان کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے لہٰذا ادارہ اُنہیں ان کی خواہشات کے بدلے راشن کی فراہمی ممکن بنائے جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ فائونڈیشن کا بنیادی مقصد اور مشن لاعلاج بچوں کی دل میں چھپی خواہشات کی تکمیل کرنا ہے تاہم موجودہ صورتحال کے نتیجے میں فائونڈیشن نے بیمار بچوں کی فیملیوں کی مشکلات اور پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے اُن کے گھر جاکر راشن کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا اور ادارہ اب تک سینکڑوں فیملیوں کو راشن فراہم کر چکا ہے۔ میک اے وش کے رضاکار ایک گھر میں جب راشن لے کر پہنچے تو گھر کی خواتین نے انتظار کئے بغیر راشن کھول کر فیملی کیلئے کھانا بنانا شروع کردیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ فیملی کے افراد کئی دن کے بھوکے تھے۔

کسی نے سچ کہا ہے کہ جب تم کسی بھوکے کو دیکھو تو یہ مت سوچنا کہ اللہ نے اُسے روٹی سے محروم رکھا بلکہ یہ سوچنا کہ کسی ظالم نے اُس کی روٹی پر قبضہ کر لیا۔ یہ کہاوت موجودہ حالات میں سچ ثابت ہورہی ہے اور پیشہ ور افراد صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے فٹ پاتھ پر چادر ڈالے اور ہاتھوں میں اوزار لئے راشن کی چھینا جھپٹی کرکے مستحق افراد کی حق تلفی کرکے ان کے رزق پر قابض ہورہے ہیں۔ ہمیں اس بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب ادارے کے رضاکار راشن خریدنے کریانہ اسٹور پہنچے تو وہاں ان کا واسطہ کچھ ایسے افراد سے پڑا جو مخیر حضرات سے ملنے والے راشن کے کئی تھیلے بیچنے آئے تھے جس کی انہیں ضرورت نہ تھی۔ اس طرح وہ مستحق افراد کی حق تلفی کررہے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم راشن سڑکوں پر بانٹنے کے بجائے ایسے لوگوں کے گھروں میں تقسیم کریں جو حقیقی معنوں میں اسکے مستحق ہوں۔

ایسے کڑے وقت میں میک اے وش پاکستان کے ہزاروں بچے اور اُن کی فیملیاں ہماری طرف دیکھ رہی ہیں مگر ادارے کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اُن تمام فیملیوں کو راشن کی فراہمی ممکن بنائیں جو آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ مخیر حضرات اور قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اپنے عطیات اور زکوٰۃ میک اے وش پاکستان کے اکائونٹ نمبر اور ایڈریس پر بھیجیں۔ الفلاح بینک اکائونٹ نمبر 0019-1003279804، پاکستان سے باہر مخیر حضرات IBAN:PK74ALFH00191003279804 یا کراچی آفس 208-Aکلفٹن سینٹر بلاک 5، فون نمبر35874195اور لاہور آفس 502-Dایڈن ٹاور، مین بلیوارڈ گلبرگ لاہور پر رابطہ کریں۔ اگر ملک کا ہر مخیر شخص ایک ضرورت مند شخص کو اور مخیر فیملی ایک ضرورت مند فیملی کو راشن پہنچانے کا ذمہ لے لے تو پاکستان کا کوئی شخص اِن برے حالات میں بھوکا نہیں سوئے گا-

Mirza-Ishtiaq-Baig-jang