سندھ حکومت نے مزید 82 برآمدی صنعتوں کو کام کرنے کی اجازت دیدی

سندھ حکومت نے مزید82فیکٹریوں کو لاک ڈاون کے دوران کام کرنے کی اجازت دیدی ہے جسکے بعد اجازت حاصل کرنے والی بر آمدی صنعتوںکی مجموعی تعداد 134 ہوگئی ہے تاہم کمشنر کراچی نے اس سلسلے میں ڈی سی اور اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایات دیں کہ وہ محکمہ داخلہ کی جانب سے جن صنعتوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان کو این او سی جاری کرنے کے ساتھ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ایس اوپیز کے تحت مالکان بزنس ہاسز، فیکٹری مالکان اوردیگر کاروباری ادارے اپنے ملازمین کو ماسک اور دستانے کے علاوہ سینیٹائزر دینے کے پابند ہونگے۔جبکہ تمام دکاندار کو خود بھی ماسک اور دستانے پہننے ہوں گے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے پہلے مرحلے میں17،دوسرے مرحلے میں35اور اب مزید 82بر آمدی صنعتوں کو کام کی اجازت دی گئی ہے، محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے دی جانے والی اجازت کورونا وائرس سے بچائو کیلئے متعین کردہ ایس او پیز پر عملدر آمد سے مشروط ہوگی اور کام کی اجازت حاصل کرنے والی تمام فیکٹریوںکو ورکرز کی صحت و سلامتی کیلئے تمام تر اقدامات یقینی بنانا ہوں گے۔

اجازت حاصل کرنے والی مزید 82 فیکٹریوں میں بھی زیادہ تر ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ ہیں، بتایا جاتا ہے کہ اجازت حاصل کرنے والی تمام ٹیکسٹائل کمپنیاں بر آمدی شعبے میں شمار کی جاتی ہیں اور ان کمپنیوں کے پاس اس وقت بھی بر آمدی آرڈرز موجود ہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت اجازت حاصل کرنے والی ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، فوڈ اور حفاظتی سامان تیار کرنے والی کمپنیاں کام کررہی ہیں، محکمہ داخلہ نے فیکٹری مالکان پر حلف نامے جمع کرانے کی عائد شرط بھی ختم کردی ہے اور فیکٹری مالکان سے محض یہ کہا گیا ہے کہ ان تمام صنعتوں کو کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے صوبائی حکومت کی تمام ایس او پیز پر عملدر آمد یقینی بنانا ہوگا۔

فیکٹریوں میں آنے والے تمام ورکرز کی صحت و سلامتی کے اقدامات کا خاص خیال رکھنا ہوگا جبکہ کسی بھی ورکر کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی ذمہ داری متعلقہ کمپنی حکام پر عائد ہوگی