امریکہ میں ہر طرف موت تھی میں نے اللہ سے دعا کی اگر صحت دے گا تو میں صرف تیرے کام کروں گا ۔گلوکار سلمان احمد کا ٹرننگ پوائنٹ

امریکہ کے شہر نیویارک میں موت کو بالکل نزدیک سے دیکھنے والے پاکستان کے نامور گلوکار سلمان احمد کا کہنا ہے کہ جب موت بلکل سامنے نظر آ رہی تھی اور میں الگ تلاک ایک کمرے میں بند تھا تو اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ اگر تو مجھے صحت دے گا تو اب میں صرف تیرے کام کروں گا کوئی چھوٹا ہو یا بڑا تیری زمین پر تیری مخلوق کے کام آؤں گا لوگوں کی مدد کروں گا ۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان کے نامور گلوکار سلمان احمد نے امریکہ کے شہر نیویارک سے آن لائن پروگرام میں پاکستان کی مشہور مارننگ شو ہوسٹ نصرت حارث سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

سلمان احمد نے بتایا کہ میں میری اہلیہ اور فیملی نیویارک میں ہے فیملی یہیں پر رہتی ہے جب کرونا وائرس کا امریکا پر حملہ ہوا تو بہت زیادہ تعداد میں لوگ متاثر ہوئے یہاں کے گورنر نے ساری چیزیں ریسٹورنٹ اسٹیڈیم وغیرہ بند کرا دیے تھے آسمان پر جہاز نظر نہیں آتے تھے میری اہلیہ ثمینہ ایک ڈاکٹر ہیں جب شروع میں مجھے کچھ برا محسوس ہوا تو میں نے خود کو محدود کر لیا تھا شروع میں مجھے چکر آنا شروع ہوا میری اہلیہ نے کہا کہ تم کان میں لگا کر زیادہ سنتے ہو شاید اس لیے چکرآ رہا ہے لیکن پھر سر میں درد بڑھ گیا اور دیگر علامات بھی سامنے آنے لگیں میں نے یہاں اپنے ایک جاننے والے سے بات کی تو انہوں نے امریکی ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کے لئے کہا آن لائن اپوائنٹمنٹ ملی اور ڈاکٹر نے مجھے بتایا کی نیو یارک میں بہت زیادہ کیسیز آچکے ہیں اور بہت سے مریض فوت ہوگئے ہیں آپ فورا اپنے آپ کو الگ طلب کرلیں۔ چناچہ میں نے گھر کے کمرے میں خود کو الگ تھلگ کرلیا اور میں محدود ہوگیا اور میں نے ماسک پہن لیا اس سوال پر کہ اکیلے رہنا کیسا لگا اور کیا آپ کی فیملی میں آ جا رہے تھے یا ایک کمرے تک محدود ہوگئے تھے لوگ تو یہاں ڈیڈ باڈیز کو ہاتھ بھی نہیں لگارہے انھوں نے کہا ہاں یہ بہت اہم سوال ہے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے امریکہ میں تو ٹیسٹ کرانا بھی مشکل ہو گیا تھا میں نے این 95 ماسک 14 دن تک پہنا تاکہ مجھ سے یہ آگے نہ پھیلے میری اہلیہ ڈاکٹر ثمینہ میری مانیٹرنگ کرتی تھی وہ بھی ماسک پہنتی تھی ورنہ خد شہ تھا کہ وہ متاثر نہ ہو جائیں ۔


امریکہ میں میرے رشتہ دار رہتے ہیں میرے بھتیجی اور بھتیجے کو بھی الگ تھلگ رکھا گیا ہے 14 دن کے بعد الحمداللہ اب وہ ٹھیک ہیں ۔
نیویارک میں اب کیا صورت حال ہے ۔اس سوال پر سلمان احمد نے بتایا کہ یہاں کافی مشکل حالات ہیں لوگوں نے لاشیں دیکھی ہیں لوگوں کو سانس نہیں آرہا ہوتا تھا اور پھر وہ فوت ہوجاتے تھے 15000 مواد اور ڈھائی لاکھ سے زیادہ مریض نیویارک میں ہیں عزیز وں کو دفنانے کے لئے چار دن انتظار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے ہم نے ایک جنگ کی کیفیت دیکھی ہے یہاں پر ۔اس لئے پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ احتیاط کریں کپڑے کا ماسک ہی بنا لیں لیکن اپنی ناک اور منہ کو ڈھانپ کر رکھیں کچھ پتہ نہیں چلتا کب کس پر حملہ ہوجائے اپنے آپ کو بچائیں ۔خود احتیاط کریں ۔

ڈر اور خوف کی کیا کیفیت تھی اس سوال پر سلمان احمد نے بتایا کہ جو 14دن مجھے اکیلے رہنے کے لئے ملے اس دوران میں نے قرآن پاک کی بہت تلاوت کی احادیث پڑھیں وبا پھیلنے سے متعلق حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھیں ۔
اس سوال پر کہ کس قسم کی کیفیت تھی انہوں نے بتایا کہ مجھے تین قسم کے ٹریٹمنٹ بولے پہلا میڈیکل ۔دوسرا روحانی اور تیسرا میں بتانا چاہتا ہوں کہ میری سوچ تھی کہ اگر میرا آخری وقت آگیا ہے اور ہر طرف لاشیں گررہی ہیں اور آخرت کے سفر پر روانہ ہونا ہے تو میں دن میں تین مرتبہ سورہ رحمان سنتا تھا باقاعدگی سے نماز پڑھتا رہا ایمان پختہ ہو جاتا ہے ایسی حالت میں ۔
میں اور میری بیوی سمینہ کیونکہ پاکستان میں رہے پاکستان میں پڑھے وہاں کی ڈاکٹر کی ہے ۔وہاں کچھ بھی ہو جائے تو گولی یا انجکشن کا ذہن میں آتا ہے لیکن کرونا وائرس کی نہ کوئی گولی ہے نہ کوئی ٹیکا ہے ۔
یہ بتانا چاہتا ہوں کہ روز کی وجہ جو ہیں آپ کھاتے ہیں اس میں ہلدی ادرک لہسن پیاز یہ چیزیں ضرور کھائیں اور یہ چیزیں کچی کھانی ہے پکاکر نہیں ۔ہاں ہلدی کو گرم پانی یا دودھ میں لوگ میکس کرکے پی لیتے ہیں کیونکہ یہ اینٹی وائرل ہیں اس کے علاوہ کلونجی کے چھ دانے روز لیتا ہوں ۔
سلمان احمد نے بتایا کہ یہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ہے جب اردگرد ہر طرف موت ہی موت کی خبر پھیلی ہو تو آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی وقت آپ کا وقت آ سکتا ہے ہے مجھے تو یہ ایک جنگ لگ رہی تھی جس میں ہم شہید ہو سکتے ہیں موت کے دن کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے لیکن میں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ اگر مجھے صحت دے گا تو میں صرف تیرے کام کروں گا کوئی چھوٹا ہو یا بڑا کوئی بھی ہو تیری مخلوق کے کام آؤنگا اور لوگوں کی مدد کروں گا