صنعتکار تاجر برادری کی گورنر سندھ سے ملاقات میں چار مطالبات کا نتیجہ صفر

پاکستان کے ممتاز صنعت کاروں اور تاجروں پر مشتمل ایک اعلی سطحی وفد نے گورنرسندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال پر اپنے انتہائی اہم مطالبات اور تجاویز گوش گزار کیں۔ وفد کی سربراہی کاٹی کے پیٹرن انچیف اور یو بی جی کے سربراہ پاکستان کے ممتاز صنعتکار بزنس لیڈر ایس ایم منیر کر رہے تھے وفد میں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان ۔سینئر نائب صدر اکرام راجپوت سمیت بزنس کمیونٹی کے ٹاپ لیڈرز موجود تھے ۔زبیر طفیل ۔عبدالحسیب خان ۔سمیع خان سمیت سینئر بزنس لیڈر نے اپنی تجاویز پیش کیں لیکن سب سے اہم خطاب بزنس کمیونٹی کے ہردلعزیز لیڈر ایس ایم منیر کا تھا گورنر سندھ عمران اسماعیل نے انتہائی توجہ کے ساتھ بزنس کمیونٹی کے مسائل مشکلات سے آگاہی حاصل کی ان کی تجاویز کو غور سے سنا اور ان کے مطالبات پر متعلقہ اداروں اور وفاقی حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔

گورنر سندھ سے ہونے والی اس انتہائی اہم ملاقات کے حوالے سے صنعتکار تاجر برادری کو کافی امید تھی کہ فوری طور پر ان کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں گے اور فوری نتائج سامنے آئیں گے اسی لیے ویز کمیٹی کی اعلی سطحی لیڈرشپ اس اہم میٹنگ کے لیے رضامند ہوئی اور بھرپور شرکت کرکے گورنر سندھ کو اپنی مشکلات مسائل تجاویز اور مطالبات سے آگاہ کیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق گورنر سندھ کے سامنے جو اہم مطالبات رکھے گئے ان میں چار انتہائی اہمیت کے حامل تھے گورنر سندھ کےذریعے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر کہ الیکٹرک کے بلز پر آئی ایس پی اے چارجز کو ختم کرایا جائے ۔بجلی اور گیس کے چارجز میں کمی کی جائے ۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے قرضوں پر سود ختم کیا جائے ۔
ذرائع کے مطابق بزنس مین کمیونٹی کو اپنے مطالبات وفاقی اور صوبائی حکومت کے سامنے رکھنے کے بعد ابھی تک کوئی مفید اور مثبت ایکشن نظر نہیں آیا ۔صرف تسلی دی گئی ہے کہ انتظار کریں معاملہ بہتر ہوجائیں گے ۔بزنس کمیونٹی کے لیڈرز کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ نیچے اپنے بزنس مین تاجر برادری کو کیا جواب دیں ۔بزنس کرنا مشکل سے مشکل ہوگیا ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے انڈسٹریز میں کام ٹھپ ہے فیکٹریاں بند ہیں کام کرنا مشکل ہے عملہ آ نہیں رہا اور عملے کو لانا اور واپس چھوڑنا بہت مشکل اور لاگت بڑھ گئی ہے ان حالات میں حکومت تعاون کرنے کی بجائے صرف تسلیاں دے رہی ہے

گورنر سندھ سے ملاقات کرکے آنے والے تاجر رہنماؤں میں سے کچھ نے بتایا کہ یہ ہمیشہ کی طرح ایک لولی پوپ دینے والی میٹنگ تھی حکومت صنعت کار اور تاجر برادری کی مشکلات اور مسائل سے پہلے ہی پوری طرح آگاہ ہے حکومت کو دراصل فنڈز درکار ہیں وفاقی حکومت کے نمائندوں کے پاس جاؤ تو وہ وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں فنڈ دینے کی بات کرتے ہیں اور صوبائی حکومت کے نمائندوں سے ملو تو ان کے لوگ وزیراعلی اور صوبائی حکومت کے لیے فنڈ دینے کی بات کرتے ہیں حکومت صنعتکاروں تاجروں اور محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے فنڈ اکٹھا کرنے میں لگ گئی ہے اب حکومت کو کون سمجھائے کہ انڈسٹری چلے گی تو بزنسمین صنعتکار فنڈ دے سکے گا حکومت نے پہلے ہی ٹیکسوں کی بھرمار کر رکھی ہے اب کہتے ہیں تنہا ادا کرنے کے لیے بینکوں سے قرضہ لے لو اور اس پر سود ادا کرو ۔فیکٹری مالکان کو کیا کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو سود پر قرضہ لے کر تنہائی ادا کریں اور وہ بھی بندہ فیکٹری کے ملازمین کے لیے ۔پتا نہیں کب تک فیکٹریاں بند رہنی ہے اور کل کو یہ قرضہ کیسے دیں گے ۔حکومت کے پاس ای او بی ایف فنڈ پڑا ہوا ہے اور سوشل سیکورٹی کے فنڈ پڑے ہوئے ہیں ورکرز ویلفیئر فنڈ پڑا ہوا ہے اس میں سے پیسے دے کر صورتحال سے نکالا جا سکتا ہے