دنیا کی تنہا ترین ڈولفن کھلے سمندر میں جانے کی آس لیے دم توڑ گئی

جاپان کے ایک پول میں موجود ’دنیا کی تنہا ترین ڈولفن‘ ہلاک ہوگئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر متعلقہ افراد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ ڈولفن جس کا نام ہنی تھا، ٹوکیو کے مرین پارک ایکوریم کے ایک پول میں موجود تھی، اس ڈولفن کو کچھ پینگوئنز اور دیگر چھوٹے جانوروں کے ہمراہ اس تفریحی مقام پر رکھا گیا تھا۔

سنہ 2011 کے زلزلے اور فوکو شیما ایٹمی اخراج کے بعد یہ پارک بند کردیا گیا اور اس موقع پر وہاں موجود جانوروں کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا، ایک ملازم ڈولفن سمیت دیگر جانوروں کو کھانا کھلانے پر مامور تھا تاہم مجموعی طور پر ان جانوروں کی حالت نہایت ابتر ہوگئی تھی
سنہ 2018 میں متروک شدہ پارک میں گندے پانی میں تیرتی ڈولفن، دیگر آبی حیات اور مٹی سے اٹے پینگوئنز کی تصاویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر ڈالی گئیں تو طوفان کھڑا ہوگیا۔

لوگوں نے ان جانوروں کو وہاں سے نکالنے اور محفوظ مقام پر پہنچانے کا مطالبہ کردیا۔

اس وقت ایک امریکی فلاحی ادارے دا ڈولفن پروجیکٹ نے اس ڈولفن کی خریدنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہے، سوشل میڈیا کے توسط سے ایک ریزورٹ ہوٹل انتظامیہ نے بھی ان جانوروں کو خرید کر نیا گھر فراہم کرنے کی پیشکش کی تاہم پارک کے مالکان کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اب اسی ادارے نے بتایا ہے کہ مذکورہ ڈولفن گزشتہ ماہ 29 مارچ کو دم توڑ گئی ہے۔

ڈولفن کی موت کے بعد اب متعلقہ ادارے و حکام ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ پارک کی انتظامیہ نے کھلے پانی میں تیرنے والے جانوروں کو ظالمانہ طریقے سے چھوٹی سی جگہ میں قید کر رکھا تھا۔

سوشل میڈیا پر لوگ غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انسانوں کی تفریحات کے لیے جانوروں کا استحصال کرنا بند کیا جائے تاکہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے