تعلیم کیساتھ کردارسازی کی بھی ضرورت

تعلیم کیساتھ کردارسازی کی بھی ضرورت
بدھ 22 اپریل 2020ء
( طارق اقبال )
– یہ ذمہ داری والدین کی ہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کرنے کا بھی خاطر خواہ انتظام کریں
کسی زمانے میں تعلیم و تربیت کے الفاظ کا ایک ہی مفہوم لیا جاتا تھا۔ یعنی تعلیم دینے کا مطلب تربیت کرنا اور تربیت کرنے کا مطلب تعلیم دینا تھا۔ لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ ان دونوں اصطلاحات کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کل ہمارے تعلیمی اداروں میں تعلیم تو دی جا رہی ہے لیکن تربیت کا فقدان ہے۔ جس کے نتائج ہم اپنے معاشرے میں کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مارکس اور پوزیشنز لینے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور منتہائے مقصود بس ڈگری کا حصول ہوتا ہے۔

بطور والدین ہمیں اس فرق کو ملحوظ رکھ کر سوچنا پڑے گا کہ کیا تعلیمی ادارے ہمارے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری بھی پورے طور پر ادا کر رہے ہیں یا اس میں ہمیں اپنا حصہ ڈالنے کی بھی ضرورت ہے۔ اگرچہ بعض اساتذہ انفرادی طور پر اپنے طالب علموں کی اخلاقی تربیت کے لیے بھی کوشش کرتے ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ ذمہ داری والدین کی ہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کرنے کا بھی خاطر خواہ انتظام کریں اور اپنے گھروں میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے شعوری کوششیں کریں۔۔۔
ہمارا تعلیمی نظام تباہی کی طرف گامزن ہے۔

تعلیم سے متعلقہ بڑے بڑے ’’مشہو ر ادارے‘‘ ایسے لوگوں پر مشتمل ہیں جو کاغذوں کا پیٹ بھرنا تو خوب جانتے ہیں، مگر انہیں زیاں کا احساس ہی نہیں۔ انہیں نہ تو کلاس روم اور نہ ہی اداروں کے حالات کا علم ہے۔تعلیم کی بہتری کے لئے ہمیں بہت سے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے، مگر اس کے لئے ایک نئی ٹیم، جس میں کلاس روم ٹیچر قابل عزت قرار پائے اور موجودہ تمام نام نہاد دانشور فارغ قرار پائیں، کی ضرورت ہے جو دردِ دِل رکھنے کے ساتھ شہرت اور نمود سے بے نیاز لوگوں پر مشتمل ہو،کی ضرورت ہے۔ایسے بندے ملتے نہیں ڈھونڈھنے پڑتے ہیں۔ اللہ کرے تعلیم کی مکمل تباہی سے پہلے ہمارے نظامِ تعلیم کے اربابِ بست وکشاد روبہ زوال نظامِ تعلیم پرترجیحی بنیاد پر اور وہ تعلیم کی بہتری کے لئے توجّہ مرکوزکرکے کچھ ٹھوس اقدامات کر لیں۔ایسے اقدامات جن سے ایسا نظام تعلیم تشکیل پائے جو معاشرے کو بہترین استاد اور اچھے طالب علم دے سکے۔تعلیم کیساتھ طالب علم کی کردارساذی اورتربیّت بھی تعلیم کا جزوِلاینفک ہے ۔ اسی سے صحت مند معاشرہ بنتا ہے۔