کرو ناسے پیدا شدہ صورتحال میں فارما انڈسٹری کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ ہائی کیو فارماسٹیکلز ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عاطف اقبال کی جیوے پاکستان کے لیے وحید جنگ سے خصوصی گفتگو

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن نے پاکستان میں مختلف انڈسٹریز کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں لیکن زندگی بچانے والی ادویات تیار کرنے والی فارماسٹیکلز کمپنیوں کے لیے چیلنج پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے نارمل حالات میں ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے جتنی پروڈکشن کرنی پڑتی تھی موجودہ حالات میں پروڈکشن اور زیادہ بڑھا نئی پڑھ رہی ہے کیونکہ مارکیٹ میں ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے لیکن لاکھ ڈاؤن اور حفاظتی تدابیر کی وجہ سے اسٹاف کی کمی ہے اور را مٹیریل اور مشینری کی دیکھ بھال مرمت کرنے والے لوگ دستیاب نہیں ہیں جبکہ ورکرز کے کھانے کا انتظام بھی مشکلات سے دوچار کر رہا ہے اس کے باوجود پاکستان کی جتنی بھی فارماسٹیکلز کمپنیاں ہیں انہوں نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ان حالات میں زیادہ سے زیادہ پروڈکشن کرنے اور عملے کو انتہائی ضروری حفاظتی ماحول کی فراہمی اور گھر سے کمپنی اور فیکٹری تک محفوظ طریقے سے آمدورفت یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں اور پوری کوشش کی ہے کہ مارکیٹ میں ارضیات کی کمی نہ ہو ۔
ان خیالات کا اظہار ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائی کیو فارماسٹیکلز جناب عاطف اقبال نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کیلئے وحید جنگ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔

وحید جنگ نے عاطف اقبال کو یاد دلایا کہ اس سے پہلے کراچی یونیورسٹی میں بھی ان کا انٹرویو کیا جا چکا ہے اور وہ فارما انڈسٹری پر انتہائی سیر حاصل گفتگو کرتے رہے ہیں اور انڈسٹری کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال پر آپ کے خیالات سے آگاہی حاصل کریں ڈیفنس کے بعد فارما کا رول انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ زندگی بچانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ۔
وحید جنگ کے سوال پر عاطف اقبال نے بتایا کہ جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک کہا انسانی زندگیاں بچانے میں فارما انڈسٹری کا رول انتہائی اہمیت کا حامل ہے پاکستان کی جتنی بھی فارم انڈسٹری ہے وہ پوری کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ مشکل صورتحال میں اپنا کردار بخوبی نبھا پائے جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ اس وقت تک کرونا کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا اور جب اس طرح کی کوئی وفا دنیا میں پھیلتی ہے تو سارے اسپتالوں پر اس کے حوالے سے دباؤ بڑھ جاتا ہے نارمل مریض پیچھے رہ جاتے ہیں اور اسپتالوں میں ایمرجنسی لگ جاتی ہے ان حالات میں نارمل مریض بھی ہسپتال جاتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ وہاں جائیں یا نہ جائیں علاج کرائیں یا نہ کرائیں مریضوں کو ادویات کی فراہمی اور دستیابی بھی بڑا چیلنج بن جاتا ہے آپ جانتے ہیں کہ اکثر دعائیں چھہ مہینے سے لے کر دو مہینے تک ایکسپائر ہو جاتی ہیں اس لیے نہ تو بہت زیادہ تعداد میں ادویات بنا کر رکھی جاتی ہیں نہ ہی یہ ایسی چیز ہے کہ پورے سال کے لئے مریض خرید کر گھر میں رکھ لیں موجودہ صورتحال میں ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے اس لیے ہمیں پروڈکشن بڑھانے پڑ رہی ہے لیکن لاکھ ڈاؤن اور حفاظتی تدابیر کی وجہ سے اسٹاف کم آ رہا ہے سٹاف کی کمی کی وجہ سے پروڈکشن پر دباؤ ہے ۔تمام اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بھی زیادہ ہے آن لائن ادویات کی ڈیمانڈ بھی آرہی ہے ۔

وحید جنگ نے عاطف اقبال سے پوچھا کہ عام طور پر لوگ فارما کو بزنس انڈسٹری کی نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ڈاکٹر اور عملہ انتہائی بہادری سے اپنا کام کر رہا ہے اسی طرح فارما انڈسٹری بھی داد کی مستحق ہے کہ وہاں پر بھی مشکل حالات میں انسانی زندگی بچانے والی ادویات تیار کرنے کا کام ہو رہا ہے لیکن یہ بتائے کہ ادویات کی قیمتوں کا معاملہ کہاں تک پہنچا ہے اور کیا صورتحال ہے ۔
اس سوال پر اتفاق بال نے بتایا کہ کافی عرصے سے ہم کوشش کر رہے تھے کہ قیمتی بڑھنی چاہیے کیونکہ کافی سالوں تک آگئی پاگیا تھا اور قیمت نہیں بڑھائی گئی تھی اس دوران رامیٹریل اور دیگر لگتی اخراجات میں کافی اضافہ ہو چکا تھا جب قیمت بڑھی تو کافی شور مچاتا اب کرونا آگیا اخراجات میں ویسے بھی اضافہ ہوگیا اس کے باوجود ان حالات میں ادویات ساز کمپنیوں نے قیمتیں نہیں بڑھائیں اور اپنا کام اضافی لاگت اور اخراجات کے باوجود جاری رکھا ہوا ہے آگے رمضان آ رہا ہے اس سے پہلے پہلے ہماری پوری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ آرڈرز کا ہدف حاصل کر لیا جائے یہ اچھی بات ہے کہ گورنمنٹ نے بہت شروع میں ہی سمجھ لیا کہ کرونا کے دوران فارما انڈسٹری پر پابندیاں نہیں ہونی چاہیے شروع کے کچھ دنوں میں مشکل آئی اس کے بعد صورت حال بہتر ہوگی اور ہم اس بحران سے بچ گئے جس میں پھنس سکتے تھے اس کے باوجود ابھی را میٹریل کی دستیابی پیکنگ سامان اور ورکرز کے کھانے کا سامان کا بندوبست کرنا بڑا چیلنج بن جاتا ہے آپ غور کریں تو ہر انڈسٹری دوسری انڈسٹری سے جڑی ہوئی ہے ایک دوسرے کے ساتھ کام مل کر ہوتے ہیں اسی لئے انڈسٹری نے فارما سے ہٹ کر بھی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ کچھ انڈسٹری کو اجازت دیں کہ تھوڑا تھوڑا کام جاری رکھ سکے اب اگر کوئی انڈسٹری کھول دی جاتی ہے اور وہاں مشینری کا کوئی مسئلہ آتا ہے تو مشینری ٹھیک کرنے والے لوگ دستیاب نہیں ہیں مشینری میں فالٹ آئے گا تو کون ٹھیک کرے گا ۔

ورکرز کی صحت کا خیال رکھنے کے اقدامات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ ہماری لیبر بالکل فٹ ہے اور ہمارے لوگوں کو ہم نے گھر سے فیکٹری لانے اور واپس چھوڑنے کے انتظامات میں کافی احتیاط برتی ہے جس طرح حکومت نے کہا تھا کہ ایک سیٹ پر ایک بندہ مٹھائی تو ہم نے گاڑیوں کی تعداد بڑھا دی اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا عملہ ٹھیک ہے اور ہمارے ورکرز بہت محنت سے اپنا کام کر رہے ہیں ۔اس مشکل صورتحال میں ادویات ساز کمپنیوں نے جس بہادری اور جرات بندی سے اپنا کام نبھایا ہے وہ واقعی شاباش کی مستحق ہیں ۔