وزیراعظم کا مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیہ خلیل کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ضرورت کے وقت میں ”دوست ممالک“کی مدد کے لیے کلوروکوئن ٹیبلٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے. کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفینگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ دوائی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مختلف ممالک نے اس دوائی کو پاکستان سے درآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ڈیڑھ کروڑ ٹیبلیٹ اگلے 3 ماہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے موجود ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا کو 10، 10 لاکھ، ترکی اور اٹلی کو 5، 5 لاکھ، برطانیہ کو 5 ملین، قازقستان کو 7 لاکھ جبکہ قطر کو 3 لاکھ ٹیبلیٹ فراہم کی جائیں گی. انہوں نے بتایا کہ ہم 60 لاکھ ٹیبلیٹ برآمد کریں گے اور پاکستان میں تیار ہونے والی اس گولی کا اسٹاک یہاں زیادہ تعداد میں موجود ہے تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ دوست ممالک کی مدد کے لیے یہ دوا برآمد کی جائے‘فردوس عاشق کے مطابق پاکستان ہمیشہ ان ممالک سے کچھ مانگتا رہا ہے تو انسانیت کی بہتری اور پاکستان کی ساکھ کو بہتر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کہ ہم ان ممالک کی مدد کریں.
انہوں نے بتایا کہ ایجنڈا نمبر 1 میں کابینہ نے 13 اپریل کے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں اوگرا آرڈیننس 2002 میں ترامیم کے فیصلے کی توثیق کی شامل تھی‘انہوں نے کہا کہ اس ترامیم کی روشنی میں ریگولر اور سیمی سالانہ ٹیرف کے تعین کرنے کے فرق کو ختم کیا گیا. انہوں نے کہا کہ ایجنڈا نمبر 2 کے حوالے سے بتایا اور کہا کہ مسابقتی کمیشن پاکستان کی تنظیم نو اور اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم اسے طاقتور ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں‘انہوں نے کہا کہ تاہم بدقسمتی سے مسابقتی کمیشن ماضی میں ان طاقتور افراد کے ہاتھوں کھلونا بنا اور عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے ان افراد کو نا صرف تحفظ دیا بلکہ ان کے مفادات کے لیے عدالتی سطح پر بھی ہر سطح کی سہولت کاری میں ملوث ہوا.
فردوس عاشق اعوان کے مطابق اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے مسابقتی کمیشن کی چیئرپرسن ودیہ خلیل کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے‘انہوں نے کہا کہ چیئرپرسن نے عدالتی ریسکیو لے کر حکم امتناع حاصل کیا اور یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں زیرالتوا ہے اور ابھی تک اس پر حتمی عدالتی رائے حکومت کو موصول نہیں ہوئی ہے. انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ادارے کی تنظیم نو، اصلاحات کو ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ جوڑنا وقت کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف لائے گئے آرڈیننس کو موثر اور بھرپور انداز میں عوام کے مفاد میں استعمال کیا جائے.
معاون خصوصی نے بتایا کہ ڈاکٹر عشرت حسین جن کی قیادت میں جو کمیٹی بنی تھی اور جنہیں اس ادارے کی کارکردی اور خدوخال بہتر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، آج ان کی سفارشات کو کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا‘انہوں نے مزید کہا کہ ان سفارشات کی روشنی میں کابینہ کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ اس ادارے کے خلاف 27 درخواست دائر ہوئی ہیں جبکہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ذمہ 27 ارب روپے کے واجبات ہیں جو انہوں نے حکومت پاکستان کو ادا کرنے ہیں.
انہوں نے کہا کہ چاہے شوگرملز یا فلاور ملز ایسوسی ایشن ہوں یا خوراک سے جڑے ادارے ہیں انہوں نے ان فیصلوں کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناع لیا اور یہ 11، 11 سالوں سے زیر التوا ہیں‘انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی تنظیم، شخصیت کو عوام کو یرغمال بنانے کی کوئی بھی سازش کی حوصلہ شکنی کی جائے گی. انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کو مزید بااختیار بنانا جائے گا تاکہ یہ عوام کی حقوق کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کا نگہبان بنے‘کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایپلیٹ ٹریبیونل کی اسامیوں کو ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس ادارے کو فعال بنایا جائے.
معاون خصوصی نے کہاکہ کابینہ میں دوسری تجویز یہ دی گئی کہ وہ لوگ جو برسوں سے عہدے پر براجمان ہیں اور کئی برسوں سے میچ فکس کرکے ایسوی ایشن کے نمائندگان اور ملز مالکان کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہیں انہیں فی الفور ہٹایا جائے انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس کے اہم ایجنڈا نمبر 3 میں کابینہ نے بہت اہم ترامیم کی منظوری دی ہے. ان ترامیم سے متعلق انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین جنہیں سرکاری رہائش کی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں، ان میں ایک سہولت ان کو وزارت ہاﺅسنگ جبکہ ایک وزارت خزانہ کی طرف سے 1991 کے حکم نامے کی صورت میں موجود تھی‘انہوں نے کہا کہ اس کے تحت وزارت خزانہ تمام سرکاری ملازموں کو سہولت دیتی تھی کہ وہ 25 سال کی نوکری کے بعد 5 سال اضافی کرکے 30 سال کے لیے اس رہائش گاہ کو برقرار رکھ سکتے ہیں جبکہ 30 سال کی نوکری کے بعد اس سرکاری گھر کو 60 سال کی عمر اور مزید 6 ماہ تک رکھ سکتے ہیں، تاہم کابینہ نے آج 1991 کے اس حکم نامے کو واپس لے لیا ہے.
انہوں نے کہا کہ وزارت ہاﺅسنگ کا ہاﺅسنگ پالیسی کا ایک ضابطہ اخلاق کی توثیق کی ہے تاکہ تمام سرکاری ملازمین کی رہائشگاہ کے حوالے سے یکساں پالیسی کا اطلاق ہو‘فردوس عاشق اعوان کے مطابق 60سال کی عمر میں جو سرکاری ملازم ریٹائر ہوگا تو وہ صرف 6 ماہ اضافی اس گھر کو رکھنے کا مجاز ہوگا، اس کے علاوہ 1991 کے قانون سے جڑے جو بھی فائدے تھے وہ سب ختم کردیے گئے انہوں نے کہا کہ ایجنڈہ 4 کے تحت قومی اقلیتی کمیشن کی تشکیل نو کی گئی ہے اور کابینہ نے باضابطہ طور پر اس کی منظوری دی ہے.
فردوس عاشق اعوان نے کابینہ کے مزید فیصلوں کے بارے میں بتایا کہ کابینہ نے تعمیراتی شعبے سے متعلق تمام سروسز میں آئی سی سی آرڈیننس 2001 کے تحت ترامیم اور استثنیٰ کی منظوری دی گئی ہے‘انہوں نے کہا کہ اس کے تحت تعمیراتی سروسز پر موجودہ 5فیصد ٹیکس کو صفر کردیا گیا ہے جبکہ پراپرٹری ڈیولپرز اور پروموٹرز کی جانب سے فراہم کردہ سروسز پر ان کے اوپر ٹیکس کو بھی صفر کردیا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبے کے تحت تعمیر کیے جانے والے گھروں پر بھی پراپرٹی ڈیویلپمنٹ سروسز کو صفر کردیا گیا ہے‘فردوس عاشق اعوان کے مطابق تمام پلمبرز، الیکٹریشنز، لیبرز اور انویسٹرز کا اس قانونی ترامیم کے تحت تحفظ کیا جائے گا‘وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ جب صنعت کا پہیہ چلے گا تو غریب کے گھر کا چولہا چلے گا، اسی سلسلے میں ٹیکس میں چھوٹ دی گئی