لڑکی بن کر فیس بک اکاؤنٹ چلانے والا شخص گرفتار، اکاؤنٹ پر اصل تصویر پوسٹ

نئی دہلی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر لڑکی کے نام سے اکاؤنٹ بنانے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کرلیا، پولیس نے اس کے اکاؤنٹ پر اصل تصویر بھی پوسٹ کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نشا جندال نامی یہ اکاؤنٹ ایک مرد چلا رہا تھا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، اکاؤنٹ کے 10 ہزار سے زائد فالوورز اور 4 ہزار دوست تھے اور اکاؤنٹ پر روزانہ کی بنیاد پر پوسٹس کی جاتی تھیں جن میں سے اکثر اشتعال انگیزی پر مبنی ہوتیں۔

یہ اکاؤنٹ کامیابی سے چل رہا ہوتا اگر اس پر کرونا وائرس کے حوالے غلط معلومات پوسٹ نہ کی جاتیں۔

نشا جندال کے پیچھے اصل شخص روی پوجر نے ایک دن اپنی پوسٹ میں لکھا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھارت کو 10 ہزار وینٹی لیٹرز دے گا، اس پوسٹ کے بعد پولیس حرکت میں آگئی

ایڈیشنل سپرٹینڈنٹ پولیس پنکاج چاندرا کا کہنا ہے کہ ہم نے گذشتہ مہینے سے ہی اس پروفائل پر نظر رکھی ہوئی تھی، ڈبلیو ایچ او سے متعلق پوسٹ دیکھ کر ہم حیران ہوئے کہ یہ آخر کون ہے۔ ہم نے فیس بک کو بھی اس کے متعلق لکھا مگر ہمیں جواب نہیں ملا جس کے بعد ہم نے سائبر ماہرین کی مدد سے اسے ڈھونڈ لیا۔

پولیس حکام کے مطابق پوجر ایسی معلومات شیئر کرتے تھے جن سے یہ تاثر جاتا تھا کہ وہ ڈبلیو ایچ او یا اقوام متحدہ جیسے کسی بڑے ادارے سے منسلک ہیں، پوجر نے سنہ 2009 میں انجینیئرنگ کا امتحان دیا تھا جسے وہ پاس نہیں کر سکے تھے۔

پوجر نے پولیس کی حراست میں بتایا کہ میں نے یہ سب صرف تفریح کے لیے کیا، اگر میں اپنی اصل شناخت کے ساتھ کرتا تو لوگ کبھی بھی میری ذہانت کو نہ سراہتے اس لیے میں نے خود کو عورت ظاہر کر کے پوسٹ کرنا شروع کیا۔

پولیس نے پوجر کو گرفتار کرنے کے بعد اس کی اصل تصویر بھی نشا جندال کے اکاؤنٹ پر پوسٹ کردی ہے، نشا کی پروفائل میں اب ایک ادھیڑ عمر شخص کی تصویر اس کیپشن کے ساتھ موجود ہے، ’میں پولیس کی حراست میں ہوں، میں نشا جندال ہوں‘