64 فیصد پاکستانی اپنے بھروسے پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔کرونا کے بعد ایک سروے رپورٹ کے تلخ حقائق سامنے آگئے

کرونا وائرس پھیلنے کے بعد ملک میں پیدا شدہ صورتحال کے حوالے سے کیے گئے ایک منجی سروے رپورٹ کے تلخ حقائق سامنے آئے ہیں جن کا تجزیہ کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ نگار سید طلعت حسین نے بتایا ہے کہ اس سروے کے مطابق 93 فیصد پاکستانیوں کو اس وبا کے بارے میں معلومات ہے اور لوگ جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہے پیغام ان تک پہنچ چکا ہے

اور اس کے ذریعے مسائل پیدا ہو رہے ہیں خود کو بچانا ہے لیکن یہ معلومات حاصل ہونے کے باوجود لوگوں پر اثر زیادہ نہیں ہوا 56 فیصد پاکستانی ابھی بھی پرہجوم جگہوں پر جانے سے باز نہیں آرہے پورے ملک میں حکومت کی طرف سے جزوی لاک ڈاؤن کی پالیسی اس کی بڑی وجہ بتائی گئی ہے حکومت کی طرف سے مکمل آگاہ نہیں کیا گیا ۔مکمل لاکھ ڈاؤن نہیں کیا گیا سختی نہیں کی گئی ہر دس میں سے سات پاکستانی سمجھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہے بھی اور نہیں بھی ۔ایک عجیب صورتحال ہے غیر یقینی صورتحال بھی ہے پریشانی بھی ہے مجبوری بھی ہے

۔سید طلعت حسین نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ پنجاب میں جوزوی لاک ڈاؤن زیادہ رہا ہے سندھ میں سینتیس فیصد لوگ مکمل لاگ ڈاؤن سمجھتے ہیں اور اس کا اصل لے رہے ہیں سروے کے مطابق 96 فیصد لوگوں نے بتایا ہے کے ان کا رابطہ ان کے ایم این اے اور ایم پی اے سے اس دوران نہیں ہوا ۔مقامی طور پر اگر لوگوں کا کسی سے رابطہ ہوا ہے تو وہ لوکل باڈیز کے وہ نمائندے ہیں جنہیں حکومت نے غیر فعال رکھا اور انہیں فرض نہیں دیئے گئے جبکہ بڑے بڑے سیاستدان اپنے حلقوں میں لوگوں سے رابطے میں نہیں رہے سروے کے مطابق 64 فیصد لوگ اپنے بھروسے پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے حکومت کی امداد اور راشن پر انحصار نہیں کیا جیسے تیسے ہو سکا اپنا انتظام کرلیا جبکہ 9 فیصد لوگ راشن کا انتظار کرتے رہے ان کے پاس راشن پہنچا بھی کچھ سرکاری طور پر کچھ نجی طور پر کئی لوگوں نے قرضہ لے کر ادھر لے کر گزارہ کیا ہے لوگوں کی بڑی تعداد سمجھتی ہے کہ چھ مہینے میں بہت بڑے پیمانے پر نوکریاں چلی جانے کا خدشہ ہے بےروزگاری بڑےگی کی اون فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ بےروزگاری کا خطرہ سر پر ہے یہ حالات میں حکومت کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ لوگوں کا اعتماد بحال کرائے اور ان کی مدد کرے سروے رپورٹ کے مطابق معاشرے میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی عزت اور قدر میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مذہبی نقطہ نظر سے 82 فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ نماز تراویح پہلے کی طرح مساجد میں ہونی چاہیے جبکہ حکومت کی اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی دیگر ملکوں میں اعلانات ہو چکے ہیں یہاں عوام پر فیصلہ چھوڑ دیا گیا ہے