جنرل حمید گل کے خاندان کے خلاف عمران خان کی حکومت کا ایکشن کیوں ؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کے حوالے سے یہ خبریں سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں کہ ان کے خاندان کے خلاف وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ایکشن لے لیا ہے ۔ان خبروں میں کتنی صداقت ہے اور اصل معاملہ کیا ہے اس پر مختلف علاقوں میں مختلف رائے سامنے آ رہی تھی ۔

سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جو ریسرچ کی ہے اس کے مطابق حکو مت کا ایکشن درست ہے اور اصل پس منظر مختلف ہے ۔مبشر لقمان کے مطابق یوسف صاحب جو جنرل حمید گل کے داماد اور ائیرفورس میں ہوتے تھے وہ ایک زمانے میں نواز شریف کے آئی ڈی سی بھی تھے ایک اے ڈی سی کیپٹن صفدر تھے اور دوسرے ایئر فورس کی طرف سے یوسف صاحب ۔پھر کسی وجہ سے یوسف نے ائیرفورس چھوڑ دیں یا ان سے ایئر فورس چھڑوا دی گئی

یہ الگ بحث ہے ۔میاں صاحب نے خوش ہو کر راولپنڈی کا جنرل بس اسٹینڈ ان کو غیرمعینہ مدت کے لیے لیز پر دے دیا ظاہر ہیں وہ بادشاہ سلامت تھے جو دل کرتا تھا وہی کرتے تھے اس زمین پر ایک بس سروس شروع کی گئی قرضے بھی لیے گئے لیکن 2005 میں وہ بس سروس بند ہو گئی لیکن لیس پر 35 کنال اراضی لی گئی تھی وہاں پر قبضہ نہیں چھوڑا گیا بس سروس بند ہونے کے بعد وہاں غیر قانونی طور پر پٹرول پمپ اور جیولری شاپ پر دفاتر کھول دیے گئے سینئر صحافی افتخار احمد جیو پروگرام جواب دے کیا کرتے تھے اپنے پروگرام میں انہوں نے جنرل حمیدگل سے واران بس سروس کے بارے میں پوچھا جنرل حمید گل نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ویسے بھی جو کام کرنے لے کر سود پر کیا جائے میں اسے پسند نہیں کرتا مجھ سے اس بارے میں بات نہ کریں ۔

مبشرلقمان کہتے ہیں اب ہوا کچھ یوں کہ غیرقانونی کام زمین پر ہو رہے تھے کرونا وائرس پھیلنے کے بعد راولپنڈی میں حکومت کو کر قرنطینہ سینٹر بنانے کے لیے جگہ درکار تھی حکومت نے عازمین کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا اس دوران حمیدگل کی بیٹی نے کوئی اسٹے آرڈر لے رکھا تھا لیکن قانونی طور پر یہ زمین حکومت کی ملکیت ہے جب یہاں بس سروس نہیں چل رہی تھی دوسرے کام ہو رہے تھے تو وہ غلط تھا اب یہ لوگ جنرل حمید گل کا نام استعمال کر رہے ہیں یوسف صاحب اپنے سسر کا نام استعمال کر رہے تھے جنرل حمید گل کی فلاسفی سے کوئی اتفاق یا اختلاف کرسکتا ہے لیکن یہ بات سب مانتے ہیں کہ وہ ایک بہت بڑے جرنیل تھے جہادی تھے پاکستانی سے اور یہ جو تاثر دیا جاتا ہے کہ اسماء بی بی نے ان کی بیٹی نے جو اسپتال بنایا ہے یہ بھی تاثرغلط ہے دراصل یہ اسپتال جنرل حمید گل نے اپنے اثاثوں سے اور ان کی اہلیہ نے اپنی جیولری بیچ کر اور سامان بیچ کر بنایا اور چلایا تھا اب یہ جوب ویلا مچارہے ہیں کہ حکومت نے جگہ لے لی ہے یہ جگہ حکومت کی ہی تھی عمران خان کی حکومت نے میرے لحاظ سے بالکل ٹھیک اقدام اٹھایا ہے یہ لوگ وہاں پہنچ گئے اور شراب اور واویلا کیا اور پولیس نے ایکشن لیا دیکھنا یہ چاہیے کہ جس مقصد کے لئے زمین لی گئی تھی اب وہ کام وہاں نہیں ہو رہا بس سروس انہوں نے 2005 سے بند کر رکھی ہے اور سال 2020 تک پیٹرول پمپ جولری شوپس بخاطر چلا رہے ہیں میرے لحاظ سے تو حکومت نے اچھا کیا زمین واپس لے لی مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ داماد اور بیٹی نے جنرل حمید گل کا نام لے لیا حالانکہ جنرل حمید گل نے کبھی کسی کی زمینوں پر قبضہ نہیں کیا تھا باعزت طریقے سے زندگی گزاری ان کے مخالفین بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔


مبشر لقمان نے کہا کہ جو صاحب کو یاد کرنا چاہیے جب نوازشریف نے زمین دی تھی اگر ان کی کیپٹن صفدر سے دوستی تھی اور آپ کی بیگم بھی مریم نواز کی اسسٹنٹ بن جانے کی وجہ سے دوستی تھی آپ کے خاندان کی نواز شریف سے کافی پربت رہی ہے اگر اس وجہ سے عمران خان کو برا کہہ رہے ہیں تو اور بات ہے ورنہ آپ کو مرحومین کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے مبشر لقمان نے کہا میرے لحاظ سے تو حکومت کو چاہیے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور اتنے سال جو انہوں نے سرکاری زمین غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھیں اور کام کرتے رہے اس پر ٹیکس بھی لینا چاہیے