بجلی کمپنیوں نے قومی خزانے کو 5 ہزار ارب کا ٹیکہ لگایا میاں منشاء، میاں بابر، جہانگیر ترین، خسرو بختیاراور شریف فیملی کی کمپنیاں بھی شامل

سینئر تجزیہ کار فرخ سلیم نے کہا ہے کہ بجلی کمپنیوں نے قومی خزانے کو 5 ہزار 823ارب کا ٹیکہ لگایا، ہر بجلی صارف سے اڑھائی لاکھ اضافی وصول کیے گئے، ٹیکہ لگانے والوں میں میاں منشاء ،میاں بابر ،جہانگیرترین،خسروبختیاراور شریف فیملی کی چنیوٹ کمپنی شامل ہے۔ انہوں نے اپنے پاورسیکٹر کی انکوائری رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے دسمبر2018ء میں وزیراعظم کو بجلی منصوبوں پر بڑی تفصیلی بریفنگ دی تھی ،2019ء میں وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی، جس میں آئی ایس آئی کا بھی ممبر شامل تھا،اس کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی ہے
اس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں دو چیزیں بڑی واضح بتائی گئی ہیں، نمبر ایک کہ ٹیکے کی رقم کتنی ہے؟اور نمبر دو کہ ٹیکہ کس کس نے لگایا؟ ٹیکے کی رقم میں چار انفرادی ٹیکے ہیں۔

جس کے تحت کرنسی کی قدر میں کمی کرکے قومی خزانے کو4 ہزار726 ارب کا ٹیکہ لگایا گیا۔ اضافی ایندھن کی مد میں209 ارب، آئی آر آر کے غلط حساب کی مد میں565 ارب اور مزید سیٹ اپ کی مد میں323ارب کا ٹیکہ لگایا گیا۔

کل ٹیکہ 5ہزار 823 ارب کا لگایا گیا۔دو ٹیکے اور ہیں، ان میں 2007 سے 2019ء تک بجٹ میں3200 کی سپورٹ دی گئی۔گردشی قرضوں کی مد میں 2 ہزار کا ٹیکہ لگایا گیا۔ فرخ سلیم نے بتایا کہ یہ ٹیکہ کس کس نے لگایا، اس رپورٹ میں میاں منشاء کا نشاط کمپنی کے حوالے سے 23 بار ذکر کیا گیا ہے۔جس نے 9ارب کا منافع کمایا۔ میاں بابر کی اورینٹ کمپنی ہے، اس کا 22بار ذکر کیا گیا ہے، منافع ایک ارب کمایا۔
جہانگیرترین کی جے ڈی ڈبلیو ہے، اس کا 41 بار ذکر ہے، جہانگیرترین کو 2ارب کا منافع دیا گیا۔خسروبختیار کی کمپنی آر وائی کے ہے،اس کا 15 بار ذکر ہے۔اس نے ایک ارب منافع کمایا۔شریف فیملی کی چنیوٹ کمپنی کا 10بار ذکر کیا گیا، اور ایک ارب منافع کمایا۔یہ سارا ٹیکہ گٹھ جوڑ کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، اس میں بزنس مین ، سیاستدان اور بیوروکریٹ شامل ہیں۔اس میں پاکستان کے ہر بجلی صارف کو اڑھائی لاکھ کا ٹیکہ لگایا گیا ہے