پاکستان میں مختلف ادوار میں مارشل لاء لگانے والے فوجی حکمرانوں نے بالآخر صدر بننا ہی کیوں پسند کیا یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکمران Absolute power انجوائے کرنے کے عادی اور شوقین ہوتے ہیں

پاکستان میں مختلف ادوار میں مارشل لاء لگانے والے فوجی حکمرانوں نے بالآخر صدر بننا ہی کیوں پسند کیا یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکمران Absolute power انجوائے کرنے کے عادی اور شوقین ہوتے ہیں اور آئین میں صدارتی اختیارات کو وسعت دے کر انہوں نے صدر بننا ہی پسند کیا ویسے بھی صدر کسی کو جواب دے نہیں ہوتا اگر وزیراعظم کا عہدہ لیا جائے تو پارلیمنٹ کے سامنے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مختلف ادوار میں یہ بحث چلتی رہی ہے کہ کیا پاکستان میں پارلیمانی نظام کی بساط ہمیشہ کے لئے لپیٹ کر صدارتی نظام نافذ کردینا چاہیے کیا انتخابی ایوانوں میں فوج کو مستقل نمائندگی دے دینی چاہیے یا تھائی لینڈ یاڈ نمارک جیسا کوئی ماڈل لایا جائے بعض دانشوروں نے امریکی صدارتی نظام اور دیگر یورپی ملکوں کو کاپی کرنے کی بات بھی کی ۔پاکستان کا موجودہ نظام رہا ہے جہاں وزیراعظم منتخب حکومت کا سربراہ ہوتا ہے لیکن ماضی میں مختلف صدور ہمارے وزیراعظم کو گھر بھیجتے رہے ہیں سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ آئین میں وزیراعظم ہی ملک کا چیف ایگزیکٹو آفیسر ہے اور صدر کی حیثیت محض رسمی ہے اگر آج صدر کے اختیارات کو بڑھانے یا پارلیمانی نظام کی جگہ کوئی دوسرا نظام لانے کی ضرورت محسوس کی جائے تو اس کے لئے موجودہ آئین کو فارغ کرنا پڑے گا