جب پاکستان کے نامور صحافی ارشد شریف کے بھائی کو والد کے جنازے میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے شہید کر دیا گیا ۔سچی مگر تلخ یادیں

ارشد شریف کا شمار پاکستان کے ذہین قابل اور کامیاب صحافیوں میں ہوتا ہے انہوں نے انویسٹیگیٹو جرنلزم کے دوران متعدد خطرات مول لئے لیکن اپنے بہادر باپ اور نڈر بھائی کی طرح انہوں نے بھی کبھی کسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے ۔
ارشد شریف کے والد محمد شریف پاکستان نیوی میں کمانڈر تھے انہیں اپنی بہادری اور شاندار کارکردگی کی وجہ سے تمغا امتیاز ملا تھا 2011 میں وہ حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئے ان کی عمر 79 برس تھی ۔
والد کے انتقال کی خبر سن کر ارشد شریف کے بھائی اشرف شریف جو پاکستان آرمی میں میجر تھے بنوں کنٹونمنٹ سے بغیر اسکاٹ کے روانہ ہوگئے جب وہ غرق پہنچے تو ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا اور وہ طالبان کی جانب سے کیے گئے حملے میں شہید ہوگئے میجر اشرف شرایف کی عمر محض 35 پینتیس سال تھی ۔میجر اشرف شریف کو والد ہے جنازے کو کندھا دینے سے پہلے ہی شہید کر دیا گیا ۔ایک گھر میں دو جنازے اٹھے ۔میجر اشرف شریف کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ملٹری قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت حکومتی شخصیات نے ارشد شریف کے گھر آنے سے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔

خود ارشد شریف 22 فروری1973 کو کراچی میں پیدا ہوئے جبکہ راولپنڈی کے گولڈن کالج سے بی اے اور قائداعظم یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔۔پڑھائی کے دنوں میں ہی فری لانس جرنلسٹ بن گئے اور اس کے بعد عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہوئے انہوں نے روئٹرز ڈان نیوز اور آج نیوز اور اس کے بعد دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ رہ کر بطور صحافی اور اینکر پرسن اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا دنیا نیوز پر انہوں نے اپنا پروگرام کیوں شروع کیا لیکن اصل شہرت نے اے آر وائی پر ان کے پروگرام پاور پلے کے ذریعے ملی سال 2019 میں حکومت پاکستان نے ان کو پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا اس کے علاوہ وہ انٹرنیشنل سطح پر آگاہی ایوارڈ ۔ایشین انویسٹیگیٹو میڈیا ایوارڈ اور وار کور سپو نڈنٹ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات حاصل کر چکے ہیں وہ خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں ۔

ارشد شریف پاکستان کے علاوہ لندن پیرس اسٹراسبورگ اور کیل سے بھی رپورٹنگ کر چکے ہیں ۔انہیں علاقائی مشکلات اور انٹرنیشنل چیلنجوں کے بارے میں پوری طرح ادراک ہے اور وہ ہر طرح کے حالات میں بہترین کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں ۔
ویسے تو اس شریف کے کریڈٹ پر بے شمار سنسنی خیز اور چونکا دینے والی اسٹوریاں ہیں لیکن خاص طور پر جب انہوں نے موٹروے کے ایک منصوبے اور سابق سربراہ احتساب بیورو سیف الرحمان کے حوالے سے اسٹوری کی تو ان کو خاصی شہرت حاصل ہوئی ۔اس کے علاوہ جب انہوں نے مسلم کمرشل بینک اور میاں منشاء کے نشاط گروپ کے حوالے سے اسٹوریز کرنا شروع کی تو وہ توجہ کا مرکز رہے ۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں ہونے والے مختلف اقدامات پر انہوں نے تحقیقاتی سٹوریاں کی اس کے علاوہ سینٹ جیمز ہوٹل لندن کی خریداری میں نشاط گروپ کے حوالے سے ان کی اسٹوری کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی ۔
ارشد شریف کسی ایک خاص سیاسی گروپ یا سیاسی جماعت کے حامی نہیں ہیں انہوں نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں حکومتوں اداروں اور شخصیات کے حوالے سے جو شاندار رپورٹنگ اور تحقیقاتی اسٹوریا میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائیں وہ پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا ایک حصہ بن چکی ہیں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے اہم مقدمات میں ارشد شریف کے پروگراموں اور تحقیقاتی رپورٹس کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ارشد شریف بنیادی طور پر دھیمے لہجے میں بات کرنے کے عادی ہیں اور دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں

وہ دیگر اینکرز کی طرح اسکرین پر آکر نہ تو آواز اونچی کرتے ہیں نہ شور مچاتے ہیں نہ ان کا انداز مار دھاڑ کرنے والا ہے ۔ارشد شریف کو پسند کرنے کی ایک بڑی وجہ ان کا قیمہ لہجہ اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بات کرنا ہے ان کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کا ہوم ورک بتایا جاتا ہے ۔

ارشد شریف کی بعض رپورٹوں اور پروگراموں سے یقین طور پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر کافی طوفان بدتمیزی بھی مچایا گیا جس کا انہوں نے منہ توڑ جواب بھی دیا اسلام آباد کے صحافی بالخصوص اور ملک بھر کے میڈیا انڈسٹری میں ان کی حمایت میں آوازیں بلند ہوئیں ۔ارشد شریف اپنے مخالفین کی تنقید اور منفی پروپیگنڈے کو خاطر میں لائے بغیر اپنا کام پوری محنت اور انہماک سے کرتے جا رہے ہیں ان کا خیریت بہترین اور شاندار کامیابیوں سے عبارت ہے ۔

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com