برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن کے جھگڑے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے

یاسمین طہٰ


اس وقت ساری دنیاکرونا سے نمٹنے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے کی کوششوں میں مصروف ہے،پاکستان ایک عجیب صورتحال کا شکار ہے جہاں برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن کے جھگڑے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔اس وقت پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کرونا پر اپنے سیاست چمکانے میں مصروف ہے۔سندھ حکومت نے طے کرلیا ہے کہ اس نے وفاق کی ایک نہیں سننی اور پی ٹی آئی نے ٹھان لیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کے ہر اقدام کی مخالفت کرے گی۔اسی پر بس نہیں لاک ڈاؤن جزوی طور پر کھولنے کے مسئلے پر سندھ حکومت کے موقف پر شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت عوام کی بھلائی کے لئے نہیں بلکہ مرادعلی شاہ اپنی پارٹی کے قائدین کو خوش کرنے کے لاک ڈاؤن پر بضد ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے اسٹیبلشمینٹ کراچی کھولنا چاہتی ہے تاکی ملکی معیشت کو سہارہ مل سکے لیکن پی پی پی مبینہ طور پر کراچی کھولنے کے لئے اپنے کچھ شرائط منوانا چاہتی ہے۔اسی لئے سندھ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے گورنر راج کا شوشہ بھی چھوڑا گیا اور مبینہ طور پر اسٹیبلشمینٹ کی پشت پناہی پر ہی فیصل واوڈا اور علی زیدی نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کراچی کا لاک ڈاون ختم کرنا چاہ رہی ہے، اسٹبلشمنٹ کے مطابق کراچی کی بندش سے پورے پاکستان کی پہلے سے ہی تباہ حال معیشت اب مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔ملکی معیشت کی بہتری کے لئیکراچی کے لاک ڈاون کو جزوی طور پر ختم کرنا ناگزیر ہے۔ لاک ڈاون کے خاتمے سے اگر کراچی کے شہری ابتر صورتحال کا شکار ہوتے ہیں تو یہ سودا معیشت کی تباہ حالی سے مہنگا نہیں ہے چاہے اس کیلے سندھ میں گورنر راج لگانا پڑھے۔دوسری طرف سندھ کے حکمرانوں نے مبینہ طور پر لاک ڈاون ختم کرنے کے لئے آصف زرداری اور پی پی پی رہنماوں کے نیب کیس ختم کرنے اور پنجاب میں پی پی کی ساکھ بحال کرنے کی شرط رکھی ہے۔کہا جاتا ہے کہ سندھ حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا مطالبہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاک داؤن میں اضافے سے بزنس کمیونیٹی کو عذاب میں مبتلا کرکے ان کا کاروبار اونے پونے داموں میں خریدنے کے لئے بھی پی پی پی اپنا ہوم ورک کررہی ہے،اور گذشتہ دنوں کراچی کی صنعتوں کو سیل کرنا اسی منصوبے کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔ کراچی کی عوام کے مفاد اور تحفظ کی بھلا کسے پرواہ ہے اسی لئے وزیر اعلی کی پریس کانفرنس کے دوران گریا زاری کو بھی مبصرین مگر مچھ کے آنسو قرار دے رہے ہیں۔اور ان کا کہنا ہے جو حکومت کتے کے کاٹے کی ویکسین فراہم نہ کرسکی اور تھر میں بچوں کو خوراک کی کمی سے ہونے والی اموات پر قابو نہ پاسکی اسے اچانک کراچی کے عوام کی فکر کیوں ستانے لگی ۔راشن تقسیم کے نظام پر سپریم کورٹ کے ریمارکس بھی سب کو یاد ہیں۔اندرون سندھ مبینہ طور پر سیاسی وابستگی کی بنیاد پر راشن تقسیم کیا گیا کہ جو ان کا حلقہ انتخاب ہے۔بھلا کراچی سے ان کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جو ان کا حلقہ انتخاب ہی نہیں۔ایک طویل عرصہ سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر کراچی کے عوام خون کے آنسو رورہے ہیں اور حاکم اعلیٰ اب آنسو بہا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کہ اگلے 2 ہفتے مزید سخت لاک ڈاؤن کیا جائے گا، یہ سمجھنا غلط ہے کہ ملک میں کورونا کیسز کی شرح دوسرے ملکوں سے کم ہے۔وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں ٹیسٹنگ کی استعداد 1500 تک لے آئے ہیں، تاہم 10 فیصد کورونا پازیٹو آ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچھ ایسی اموات بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہو رہیں، 100 کے قریب اموات ایسی ہیں جن پر کورونا کا شبہ ہے۔اس پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہا جارہا ہے کہ کراچی کے عوام میں خوف کی فضا قائم کرنے کے لئے باقائدہ حکمت عملی کے تحت کراچی میں پراسرار اموات کی خبریں چلائی گئی اور کرونا سے ان اموات کا تعلق جوڑنے کی کوشش کی گئی جب کہ جب کہ جناح اسپتال کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا ہے کہ گزشتہ ۵۱ دنوں میں ۰۲۲ افراد کا اسپتال میں انتقال ہوا اور ان میں ایک بھی مریض کرونا کا نہین تھا ۔کہا جاتا ہے کہ کراچی کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی کے باوجود حکومت سندھ نے کراچی کی 8 یونین کونسلوں میں مکمل اور 11 یونین کونسلوں میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن کیا ہو ا ہے‘ کراچی پولیس کے ایمرجنسی ریسپانس اینڈ کرائسز مینجمنٹ سینٹر کی 14 اپریل کو تیار کی جانے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی کے اسپتالوں میں داخل ہونے والے نئے مریضوں کی تعداد 15 تھی جبکہ 13 اپریل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز 19 نئے مریض کراچی کے اسپتالوں میں علاج کے لیے داخل کیے گئے تھے۔ اس طرح سے نئے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ کراچی پولیس کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اس وقت کراچی کے اسپتالوں میں 172 کورونا کے مریض داخل ہیں جس میں ڈاؤ اسپتال اوجھا میں 11مریض، آغاخان اسپتال میں 15، جناح اسپتال میں 11، انڈس اسپتال میں 20، ایس آئی یو ٹی میں 18، سول اسپتال میں 17، گڈاپ اسپتال میں 40اور ایکسپو میں قائم خصوصی مرکز برائے کورونا میں 40 مریض داخل ہیں۔ مسائل کے شکار کئی افراد کے بیانات سامنے آچکے ہیں کہ انہیں حکومتی خیرات درکار نہیں بس انہیں روزی کمانے کی اجازت دیجائے، لیکن سندھ حکومت نے عوام کے مسائل و مشکلات سمجھنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی۔