کامران خان – میدان صحافت سے پولیٹیکل انٹیلیجنس کمینٹیٹر بننے تک کا سفر ۔کب کہاں کیسے ؟

دنیائے صحافت میں پاکستان کی پہچان بننے والے کامران خان تحقیق پر مبنی جرات مندانہ صحافت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔قسمت کی دیوی ان پر بہت مہربان نظر آتی ہے ۔وہ کامیابی اور شہرت کے زینے پر مسلسل اور بغیر کسی وقفے کے آگے بڑھتے گئے ۔ان کا کیریئر نئے سنگ میل عبور کرتا ہوا نظر آیا ۔یہ بات واقعی قابل داد ہے کہ وہ اپنے تین دہائیوں سے بڑے پروفیشنل کیریئر میں دوسروں کے اس سکینڈل تو بے نقاب کرتے رہے لیکن خود ان کا کوئی اسکینڈل منظر عام پر نہیں آسکا ۔حالانکہ ان کے مخالفین اور متاثرین ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے کہ کسی طرح انہیں بد نام کریں ۔ان کا اعتبار ختم کرائیں اور ان کی حیثیت کو متنازعہ بنائیں ۔لیکن ایسی کوئی بھی سازش آج تک ان کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کامران خان نے اپنے پورے کیرئیر کے دوران انتہائی پروفیشنل انداز میں اپنا کام کیا اور خود کو کسی بھی اسکینڈل اور Scam کا حصہ نہیں بننے دیا .یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔
2 اپریل 1967 کو پیدا ہونے والے کا کامران خان کی زندگی کا بڑا حصہ کراچی میں گزرا ۔انہیں اپنے شہر اور ملک سے بے حد پیار ہے وہ بہت سے شہر اور ملک دیکھ چکے ہیں انتہائی پرسکون اور خوشگوار شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں ان کی اہلیہ اور بچے ان کے خیریت اور ان کی شخصیت پر ناز کرتے ہیں ۔

خود کامران خان نے اپنے کیریئر کے دوران اپنی فیملی لائف کو پبلک کرنے سے ہمیشہ گریز کیا اور محتاط رویہ اختیار کیا ۔

صحافت میں ان کی اصل پہچان جنگ گروپ ہے اور میر خاندان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق رہا ہے ۔

پرنٹ میڈیا سے لے کر الیکٹرونک میڈیا تک ان کے سفر ،ان کی شخصیت اور ان کی شہرت کا سارا دارومدار جنگ گروپ پر رہا ۔اگرچہ انہوں نے جنگ اور جیو گروپ کو چھوڑنے کے بعد پہلے بول گروپ اور پھر دنیا گروپ کے ساتھ وابستگی اختیار کر کے اپنی الگ حیثیت کو برقرار رکھا ہوا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ وہ جنگ اور جیو کے بغیر آج یہاں نہیں پہنچ سکتے تھے جہاں آج وہ کھڑے ہیں ۔
جنگ گروپ میں شام کے اخبار ڈیلی نیوز میں ان کی سٹوریاں چھپا کرتی تھی بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کی اسٹوری ان کے نام سے چھاپی جاتی تھیں۔ یہ ان کے سینئرز کا کمال تھا جن میں واجد شمس الحسن جیسے لوگ نمایاں تھے ۔یہ انیس سو اسی کی دہائی کا ذکر ہے ۔پھر انیس سو نوے کی دہائی میں انگریزی میں صبح کا روزنامہ اخبار دی نیوز شروع کرنے کا فیصلہ ہوا تو جنگ گروپ کے میر خاندان نے کامران خان کو اہم ذمہ داری سونپی دی نیوز کی اشاعت کے ساتھ ہی ایک نئے کامران خان کا تعارف ہوا وہ نیوز انٹیلی جنس یونٹ NIU کے سربراہ کی حیثیت سے سامنے آئے اور انہوں نے تہلکہ مچا دیا ۔ایک کے بعد ایک انتہائی تحقیقی اور چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آتی گئی اور پوری میڈیا انڈسٹری میں ایک کھلبلی مچ گئی جبکہ طاقتور حلقوں سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نیندیں حرام ہو گئی بڑے بڑے بزنس مین اور بزنس گروپ ہل کر رہ گئے ۔پاکستان میں ایسی تحقیقی اور انویسٹیگیٹو جرنلزم کی ماضی میں مثال نہیں ملتی تھی ۔
جنرل مشرف کے دور میں جب پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو اجازت ملی اور جیو ٹی وی شروع ہوا تو یہاں سے کامران خان کے ایک کیریئر کے نئے حصے کا آغاز ہوا وہ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا میں آگئے جنگ گروپ کے ساتھ پرنٹ میڈیا میں بیس سالہ سفر کرنے کے بعد انہوں نے الیکٹرونک میڈیا میں اپنی نئی اننگ شروع کی بطور اینکر ان کا پہلا پروگرام فرنٹ لائن تھا لیکن انہیں اصل شہرت آج کامران خان کے ساتھ ۔پروگرام سے ملی۔اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے پاکستانی ناظرین کو مختلف قومی علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات پر انتہائی معلوماتی تجزیہ اور چونکا دینے والی رپورٹس پیش کیں ان کے ناظرین عش عش کر اٹھے انہیں متعدد پروگراموں پر بے حد داد ملی ان کے انداز ان کی تحقیق مہمانوں کے انتخاب موضوعات سوالات اور تجزیوں کو بے حد پسندیدگی حاصل رہی وہ بلا شبہ پاکستان کے مقبول ترین ٹی وی اینکرز میں چھائے رہے ۔یہ مقام حاصل کرنا اور اس مقام پر اپنی پوزیشن کو سالوں تک برقرار رکھنا یقینی طور پر بچوں کا کھیل نہیں اس شاندار کامیابی کیلئے انہوں نے انتھک محنت کی دن رات ایک کر دیا ان کی کامیابی میں ان کی پوری ٹیم کا ساتھ رہا ان کے گھر والوں نے بھی ان کا پورا ساتھ دیا انہوں نے بہت سے خطرات مول لئے انتہائی طاقتور گروپوں اور معافی آتش سے ٹکر لی بے خوف وخطر انہوں نے ہر چیلنج قبول کیا اور کامیابی حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے ۔
کامران خان نے انگریزی میگزین ہیرالڈ ۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور سنڈے ٹائمز میں بھی لکھا وہاں پر بھی ان کی تحریروں اور انداز کو بے حد پسند کیا گیا ۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق عمران خان اپنی پرسنل لائف کے بارے میں بات کرنے سے جان بوجھ کر گریز کرتے رہے ۔ٹی وی پر انہیں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے اغوا کی بہترین رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے شہرت ملی عالمی سطح پر ان کے پروگراموں کو پذیرائی ملی اس کے علاوہ نائن الیون کے واقعے کی فل ڈے کوریج بھی جس انداز سے انہوں نے کئی اور لوگوں کو معلومات فراہم کیں وہاں سے بھی ان کو اچھا خاصا فائدہ ہوا القاعدہ کے بارے میں ان کے خیالات اور تجزیہ بہت پسندیدگی سے دیکھے جاتے تھے وہ بتاتے رہے کہ القاعدہ کے لوگوں کے نزدیک بارڈرز کی کوئی اہمیت نہیں جبکہ وہ ناظرین کو بتاتے رہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔کراچی کے خراب حالات کے پیچھے وہ ہمیشہ انٹرنیشنل پلیئرز کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ۔ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ کامران خان کی بڑی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں میں کمپرومائز نہیں کیا بیس سال جنگ گروپ میں تین ہزار سے زیادہ انویسٹیگیٹو سٹوری اچھا پی اور بارہ سال جیو ٹی وی پر اپنا شو کامیابی سے کیا ۔

اسلام آباد کے بعد صحافیوں کا بتانا ہے کہ سپریم کورٹ کے احاطے میں کرنل خالد نے ایک مرتبہ صحافیوں کے سامنے الزام لگایا تھا کہ کامران خان کو ملک ریاض نے دبئی میں بہت بڑا گھر تحفے میں دیا ہے ۔اس طرح کے بعض علامات سوشل میڈیا پر بھی لگائے جاتے رہے لیکن ان کی کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی ۔
باز ناقدین کا کہنا ہے کہ کامران خان نے جنگ اور جیو گروپ کے ساتھ انتہائی مشکل وقت میں بے وفائی کی ۔جب حامد میر پر حملہ ہوا اور ان کے بھائی عامر میر نے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ پر الزام لگایا جس کے بعد جیو کے خلاف گھیرا تنگ ہوا اور ان حالات میں کامران خان بھی جنگ اور جیو کا ساتھ چھوڑ کر بول میں چلے گئے ۔اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت تک عمران خان کو پریشر کا سامنا کرتے ہوئے جنگ اور جیو گروپ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنا تھا لیکن انہوں نے جنگ اور جیو گروپ کے ساتھ اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔کامران خان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ کامران خان نے ایک درست فیصلہ کیا ۔
پاکستان میں صحافت کے میدان میں قدم رکھنے والوں کے لیے ایک عمران خان ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا کیریئر شاندار کامیابیوں سے عبارت ہے انویسٹیگیٹو جرنلزم اور ٹی وی شوز میں اینکر بننے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے وہ ایک مشعل راہ ہیں ۔
انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے کامران خان سے بھی اپنی زندگی اور کیرئیر میں کچھ غلطیاں ہوسکتا ہے ہوئی ہو ں۔ بلکہ یقینا ہوئی ہوں گی۔جہاں ایک دنیا ان کی قدردان ہے وہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے جذبات کو انہوں نے ٹھیس پہنچائی یا انہیں ناراض کیا یا انہیں اپنا مخالف بنا لیا ۔
صحافت کے شعبہ میں آپ سب کو اپنا دوست نہیں بنا سکتے ۔آپ کو ہر وقت ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار رکھنا پڑتا ہے ۔کامران خان اپنے کیرئیر میں کس حد تک اپنے شعبے ذمہ داریوں اور فرائض سے انصاف کرتے آئے ہیں اس کا بہترین فیصلہ تو ان کے ناظرین اور ان کے قارئین کر سکتے ہیں جو ان کی تحریریں پڑھتے اور ان کے ٹی وی شوز دیکھتے آئے ہیں ۔

Salik.Majeed.for .jeeveypakistan.com