“نیب کا ایمان – کرپشن فری پاکستان”

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑہے۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوگوںکی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروانے کے علاوہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے ادارے میںبہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیںجن کی وجہ سے آج نیب ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ نیب کوسال 2019 میں مجموعی طور پر51591 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 46123 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیاجبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کاروائی کی جارہی ہے ۔ نیب نے سال 2019 میں 1464 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 1362شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ اس وقت 770 شکایات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں ۔ نیب نے سال 2019 میں 574 انکوائریوں کی منظوری دی جبکہ658 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔ اس وقت 859 انکوائریوں پر قانون کے مطابق تحقیقات جارہی ہیں۔ اسی طرح نیب نے سال 2019 میں221 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 217 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔ اس وقت 335 انوسٹی گیشنزپر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں ۔ نیب نے سال 2019 میںبدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طو ر پر 150 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 101 بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتسا ب عدالتوں میں دائر کئے ہیں جبکہ 46 ریفرنسز کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا ہے۔ اس وقت 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 13 انکوائریوںاور 19 انوسٹی گیشزتکمیل کے مراحل میں ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے بلاواسطہ اور بلواسطہ طور پر178 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے ۔ جبکہ اس وقت ملک کی 25معز ز احتساب عدالتوں میں نیب کے 1275بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جنکی کل مالیت تقریباََ 943ارب روپے سے زائد ہے۔

نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کو مزید موئژ بنا نے کے لئے سی آئی ٹی کا نظام قائم کیا گیا ہے ۔ اس نظام کے تحت سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی کا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔ نیب نے اپنے کام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میںقانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا جو کہ وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نیب کی سنجیدہ کاوشوں کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ چیئر مین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ہے ۔ چیئر مین نیب ہر ماہ کی آخری جمعرات کو عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات کو ذاتی طور پر سنتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کیچیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے مزید بر آںنیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے۔ موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے جس کے بڑے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کو مضاربہ /مشارکہ سیکنڈل جس میں ہزاروں افراد نے بعض افراد کے جھانسے میں آ کر اپنی رقوم ڈبل کرنے کے چکر میں دھوکہ کھایا۔نیب نے قانون کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے اب تک مضاربہ/ مشارکہ سیکنڈل میں مبینہ طور پر ملوث45 افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان سے لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے سنجیدہ کوششیں کرتے ہوئے اب تک مضاربہ /مشارکہ سیکنڈل میں 32ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیے ہیں جن میں سے کچھ ریفرنسز کا فیصلہ نیب کے حق میں ہو چکا ہے ۔نیب بدعنوان عناصر سے عوام کی لوٹی ہوئی رقوم ملزمان سے ریکور کرکے متاثرین کو واپس کرنے کے لئے دن رات کوشا ں ہے اور وہ دن دور نہیں جب مضاربہ /مشارکہ سیکنڈ ل کے تما م متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقوم واپس کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔ قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت غیر قانونی ہائوسنگ سوسا ئیٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوںکے افراد سے نیب نے عوام کی اربوں روپے کی لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کی گئیں تو انہوں نے چیئر مین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا جو کہ نیب کے افسران کے بد عنوانی کے خاتمہ کے جذبہ کو مزید تقویت دیتا ہے۔تاہم نیب عوام سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی عمر بھر کی جمع پونجی قانونی ہائوسنگ سوسا ئیٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوں میں سرمایہ کاری کریں ۔اس کے علاوہ نیب سی ڈی اے ، آر ڈی اے ، ایل ڈی اے ، کیو ڈی اے ، کے ڈی اے،ایم ڈی اے ، ایس بی سی ، پی ڈی اے اور آئی سی ٹی وغیرہ جیسے حکومت کے اداروں کو بھی متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں غیر قانونی ہائوسنگ سوسا ئیٹیوں/کو آپریٹو سوسا ئیٹیوں کے قیام کو بروقت روکیں اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی قانون کے مطابق عمل میں لائیں۔

نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے ۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے ایک تو وقت کی بچت ہوتی ہے دوسری تحقیقات کے معیار میں بہتری ،ٹھوس شواہد کے حصول میں مدد اور سکریسی برقرار رہتی ہے۔قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے جس کا نیب اس وقت چئیرمین ہے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بد عنوانی کے کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے جو کہ نیب سمیت پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے چین کے ساتھ انسداد بدعنوانی کے سلسلہ میں ایک ایم او یو سائن کیا ہے تاکہ دونوں ممالک انسداد بد عنوانی کے شعبہ میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ نیب دنیا میں واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے انسداد بد عنوانی کا معاہدہ کیا ہے ۔ قومی احتساب بیورو عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی کے لئے بھر پو مہم چلارہا ہے جس کے بڑے دور رس نتائج ؓبرآمد ہورہے ہیں قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کیلئے کسی ایک فرد ، ادارے کی زمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی زمہ داری ہے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئیَ میڈیا ، سول سوسائٹی اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیںاور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں جس کی وجہ سے نیب کے افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جنا ب جسٹس جاوید اقبال میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیںاور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتمادقومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جس کا بر ملا اظہارٹرانسپرنسی انٹر نیشنل،ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے آذادانہ اداروں نے کیا ہے ۔مزید بر آں گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے تحت ملک بھر کے 59فیصد لوگوں نے نیب پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کی بدولت قومی احتساب بیورو کے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے کام کو مزیدتقویت ملتی ہے۔ قومی احتساب بیورچیئر مین نیب جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میںملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیئے اپنی بھر پور کوششیں کر رہا ہے تا کہ ملک سے بد عنوانی کے خاتمے کے خواب کوشرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔

Asim-Ali-Nawaiwaqt