لندن:تیسرا پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کوروناسے متاثر ہو کر زندگی ہار بیٹھا

ایک تیسرا برٹش پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور برطانیہ میں کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد میں اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ وہ جان لیوا وائرس کی زد میں اس وقت آیا جب اس نے برطانیہ میں لاک ڈائون کے آغاز سے محض چند گھنٹے قبل ہیتھرو ایئر پورٹ سے وسطی لندن جانے والے ایک اطالوی مسافر کو اپنی کار میں سوار کیا۔ زاہد پرویز نارتھ ویسٹ لندن کے ایک ٹائون وائی کومب میں رہتا تھا مگر لندن میں پرائیویٹ ہائر اوبر ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ زاہد پرویز کی موت سے اس کی فیملی بکھر کر رہ گئی۔ اس کا انتقال ایک مقامی ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ایک ہفتہ تک زیر علاج رہنے کے بعد ہوا۔ 50 سالہ زاہد پرویز نے جان لیوا وائرس کے خلاف جدوجہد اپنے گھر میں کی، اسے ہسپتال میں اس وقت داخل کرایا گیا جب اس کی حالت زیادہ بگڑی۔ زاہد پرویز کے ایک قریبی دوست وائی کومب کے بزنس مین راشد ارشد نے جنگ اور جیو کو بتایا کہ زاہد پرویز ایک محنتی اور مخلص انسان تھا جو اپنی فیملی کا سہارا تھا، وہ اپنے بچوں کو ایک بہتر مستقبل دینا چاہتا تھا۔ راشد ارشد نے بتایا کہ زاہد پرویز اپنی کمیونٹی میں مقبول تھا جو کہ ہر شخص کی ضرورت پر کام آتا تھا۔ زاہد لاک ڈائون کے چند روز بعد بیمارہوا، اس نے مجھے فون پر بتایا کہ اس نے ہیتھرو ایئر پورٹ سے وسطی لندن جانے والے ایک اطالوی مسافر کو اٹھایا تھا اور سفر کے دوران ہی شبہ ہوگیا تھا کہ وائرس سے متاثر ہوگیا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے 10 مئی سے اعتکاف میں بیٹھنے کا پروگرام بنایا تھا اور میں نے ٹکٹس بھی خرید لئے تھے۔ زاہد پرویز نے ٹکٹس اور انتظامات کی ادائیگی کر دی تھی اور وہ عمرہ ادا کرنے کا انتظار کر رہا تھا۔ راشد ارشد نے بتایا کہ اس نے گزشتہ ہفتہ زاہد سے فون پر رابطہ کی کوشش کی مگر کئی دن تک اس نے فون ہی نہیں اٹھایا مگر بعد میں فون بند ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل زاہد پرویز کی خیریت معلوم کرنے اس کے گھر گیا تو دروازہ اس کے بیٹے نے کھولا اور بتایا کہ اس کے والد کا کوویڈ۔19 میں مبتلا ہو کر ایک ہفتہ ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد جمعہ کے روز انتقال ہو گیا۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کو اہم ورکر تسلیم نہیں کیا جاتا مگر ٹرانسپورٹ فار لندن نے ان کیلئے کوئی حفاظتی انتظامات کئے بغیرپرائیویٹ ہائر اور ٹیکسی ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ نیدرلینڈ میں حکومت نے ٹیکسی ڈرائیور اور مسافروں کے درمیان ایک پارٹیشن فراہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وائرس کی منتقلی سے تحفظ مل جاتا ہے۔ برطانیہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے ہیلتھ اور سیفٹی قوانین کے باعث انہیں ایک پارٹیشن سکرین نصب کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ناٹنگھم ایسٹ سے لیبر رکن پارلیمنٹ نادیہ ویتھم نے کہا ہے کہ اوبر اور پرائیویٹ ہائر ڈرائیوروں کو ذاتی حفاظتی آلات فراہم نہیں کئے گئے، حتیٰ کہ انہیں ہاتھ پر ایک بوند سنیٹائزر بھی نہیں دیا گیا، حالانکہ وہ این ایچ ایس سٹاف کو لازمی سروس فراہم کر رہے ہیں۔ وہ مر رہے ہیں، حکومت کو ایسی مزید کسی موت کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں 11500 پاکستانی نژاد ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ قبل ازیں یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ سیاہ فام اور نسلی اقلیتی (بی اے ایم ای) افراد کورونا وائرس کیسز کی مجموعی تعداد میں متناسب نمائندگی کرتے ہیں۔ سیاہ فام اور نسلی اقلیتی ڈاکٹروں اور نرسوں کو سہولت فراہم کی گئی ہے مگر ٹیکسی ڈرائیوروں کو ذاتی حفاظتی آلات یا کسی مدد کی فراہمی میں نظرانداز کر دیا گیا۔ قبل ازیں ایک مکمل صحت مند 33 سالہ ٹیکسی ڈرائیور ایوب اختر وائرس کے خلاف مزاحمت میں زندگی کھو بیٹھا۔ اس کی فیملی نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے وائرس اس وقت لگا جب اس کی ٹیکسی میں بیٹھا مسافر مسلسل کھانس رہا تھا۔ یونائٹیڈ پرائیویٹ ہائر ڈرائیورز کے جنرل سیکرٹری یاسین اسلم نے کہا ہے کہ کسی سپورٹ یا گائیڈ لائن کے بغیر ٹیکسی، منی کیب ڈرائیوروں کو اضافی خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ صحت اور میئر لندن کو بھی خط لکھے مگر اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔لندن
(مرتضیٰ علی شاہ)jang