ڈاکٹر اور نرس مشکل میں!

ملک میں کورونا وائرس کے باعث اِس وقت میڈیکل ایمرجنسی نافذ ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے جو لوگ سب سے اہم کردار ادا کررہے ہیں وہ ڈاکٹر، نرسیں اور دوسرا طبی عملہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میڈیکل ایمرجنسی کے پیشِ نظر صفِ اول میں رہ کر کورونا وائرس سے لڑنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو انسانیت کی اس اہم خدمت کیلئے حتیٰ الامکان تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جاتیں لیکن بدقسمتی سے صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اِس حکومتی رویے کے خلاف لاہور میں چار روز سے ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے۔ چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر سلیمان حسیب کے بقول کورونا سے متاثرہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تنخواہیں دگنی کرنے کا حکومتی دعویٰ بھی قطعی بےبنیاد ہے۔ سروسز اسپتال کی نرسنگ ایسوسی ایشن کی صدر نصرت چیمہ نے بھی نرسوں کیلئے حفاظتی کٹس کی عدم فراہمی کو متعلقہ حکام کی بےحسی قرار دیا ہے۔ ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے رہنمائوں نے بھی کہا ہے کہ محکمہ صحت ہوش میں آئے ورنہ نرسنگ اسٹاف کام چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل آواز اٹھانے کے باوجود زیادتیاں کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں۔ جو حفاظتی سامان نرسوں، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ملنا چاہئے تھا وہ مبینہ طور پر بیورو کریسی اور سیاست دانوں کی نذر ہو گیا ہے۔ عام حالات میں سہولیات اور مراعات کی عدم فراہمی برداشت کی جا سکتی ہے لیکن میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں ایسا رویہ کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں سمیت تمام طبی کارکن اِس وقت کورونا وائرس سے جنگ میں ہمارے فرنٹ لائن سپاہی ہیں، مریضوں کی مناسب دیکھ بھال کیلئے انہیں تمام ممکن سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کا مناسب اور ضروری سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ سو فیصد جائز ہے لیکن اسے منوانے کیلئے اسپتالوں میں ہڑتالیں نہیں کی جانی چاہئیں تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال متاثر نہ ہو۔

Courtesy Jang