یہ وبا 14ویں صدی کی طاعون کی وبا (کالی موت) یا 20ویں صدی کی ابتدا میں اسپینش فلو والی وبا جیسے نقصانات سے دوچار نہیں کرے گی

کورونا وائرس کی عالمی وبا کا دنیا پر سب سے زیادہ خطرناک اثر یہ ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے ہر خطے، علاقے اور ملک کے لوگ مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ کورونا سے متاثرہ مریضوں اور ایک مخصوص شرح کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معیشت کو ہونے والے نقصانات کی خبریں مزید گھبراہٹ پیدا کرتی ہیں۔ سماجی میل جول کے خاتمے اور گھروں میں قید رہنے سے بھی زندگی سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے۔ سب سے زیادہ مایوس کن سوچ یہ پیدا ہو رہی ہے کہ یہ حالات طوالت اختیار کر سکتے ہیں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ جن اسباب اور حالات کی بنیاد پر لوگ مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں، وہ عارضی ہیں۔ تاریخ میں ایسے حالات کئی بار پیدا ہوئے، جن سے انسان نہ صرف نکلا ہے بلکہ پہلے سے بہتر حالات کے ساتھ زندگی رواں دواں ہوئی ہے۔ انسان زیادہ امید اور توانائی کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔ انسانی سماج نے صدیوں اور عشروں کی فرسودہ روایات، تھکان، طاقت کے ظالمانہ توازن، ذہنی جکڑ بندی والے عقائد و نظریات، محدود مواقع، استحصالی معاشی نظام اور کھوکھلے نعروں والی سیاست سے نجات حاصل کی ہے اور ایک نئی دنیا تخلیق کی ہے۔ ایسے ہی مایوس کن حالات کے بارے میں فیض احمد فیضؔ کا یہ آفاقی شعر صادق آتا ہے۔

رات کا گرم لہو اور بھی بہہ جانے دو

یہی تاریکی تو ہے غازۂ رخسارِ سحر

اس عالمی وبا کے بعد کیسی دنیا نمودار ہو گی، اس کے بعد کے خدوخال ابھی واضح ہو رہے ہیں لیکن بقول کسے ’’اس آئینے میں تیرے خدوخال سے کچھ ہیں‘‘ تاریخ ہی اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ نئی دنیا پہلے سے بہتر ہو گی۔ اس پر سب متفق ہیں کہ کورونا کے بعد والی دنیا پہلے سے بہت مختلف ہو گی۔ انسان بہت آگے کا سفر کر چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ وبا 14ویں صدی کی طاعون کی وبا (کالی موت) یا 20ویں صدی کی ابتدا میں اسپینش فلو والی وبا جیسے نقصانات سے دوچار نہیں کرے گی۔ انسان اس کورونا وائرس کے بارے میں بہت جلدی آگاہ ہو چکا ہے اور اس سے بچاؤ کی اس نے ترکیبیں کر لی ہیں۔ انسان آج اس قدر ترقی یافتہ، اطلاعات تک فوری رسائی حاصل کرنے والا اور شعوری طور پر اس قدر منظم نہ ہوتا تو شاید اس وبا کی تباہ کاریاں انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوتیں۔ یہ ایک امید افزا بات ہے، دوسری امید افزا بات یہ ہے کہ انسان اس وائرس کا علاج بھی جلد ڈھونڈ لے گا۔ اس سے زیادہ امید افزا بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد لازمی طور پر ایک نئی اور بہتر دنیا نمودار ہو گی۔ اس کے کئی اسباب ہیں کرۂ ارض پر طاقت کا توازن تبدیل ہو گا اور طاقت کے کئی نئے مراکز جنم لیں گے۔ پرانی صف بندیاں بھی نہیں رہیں گے، نئی صف بندیاں ہوں گی۔ سامراجی اور بڑی طاقتوں کو اپنا روایتی استبدادی اور استحصالی طریقہ کار بدلنا ہو گا کیونکہ ان کی پرانی حکمت عملیوں کی سیاسی اور معاشی بنیادیں منہدم ہو رہی ہیں۔ بالفرض انہوں نے پہلے والا طرزِ عمل جاری رکھا یا اسے مزید آمرانہ، استبدادی اور مطلق العنان بنانے کی کوشش کی تو کورونا کے بعد کی دنیا میں اس کے خلاف زیادہ خوفناک ردعمل آئے گا۔ ظلم و استحصال کے خلاف تاریخ میں امید و یاس والی مگر زیادہ بھرپور جدوجہد کا آغاز ہوگا۔ کورونا کی تباہ کاریوں نے عالمی سطح پر ایسی عالمی تحریک کے حالات پیدا کر دیے ہیں۔

ریاستوں اور مملکتوں میں غیر سیاسی ہتھکنڈے اور سیاست کے انداز بھی بدل جائیں گے۔ آمرانہ اور جمہوری قوتوں کے درمیان لڑائی کے پرانے اور نام نہاد ضابطے بھی پہلے سے یکسر مختلف ہوں گے۔ ترقی پسند اور رجعتی قوتوں کے مابین کھینچا تانی بھی پہلے جیسی نہیں ہو گی۔ ظالم اور مظلوم قوموں یا گروہوں کے درمیان جنگ کے معیارات بھی تبدیل ہو جائیں گے۔ طبقاتی تضادات کی نوعیت بھی پہلے جیسی نہیں ہو گی۔ ان سب تبدیلیوں کے اسباب بھی کورونا کی تباہ کاریوں خصوصاً معاشی تباہ کاریوں نے پیدا کر دیے ہیں۔ اب طاقتور اور غالب قوتوں نے معاشی پالیسیوں میں اپنی ترجیحات تبدیل نہ کیں یا مالیاتی وسائل کا رخ صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی سمیت سماجی شعبوں کی طرف نہ موڑا اور عوام کو ریلیف نہ دیا تو وہ ایک غیر متوقع ردعمل کے لئے تیار رہیں کیونکہ کورونا کی تباہ کاریوں نے انسان کو ذہنی جکڑ بندی والے کئی عقائد اور نظریات سے نجات دلا دی ہے، انہیں کو پرکھنے کی کسوٹی تبدیل کر دی ہے۔ اگرچہ عالمی طاقتوں کی طرح ریاستوں اور مملکتوں کے اندر بھی استبدادی اور استحصالی طاقتیں اپنے عالمی سرپرستوں کی پشت پناہی سے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ مطلق العنانیت کی طرف جانے کی کوشش کریں گی لیکن ان کی توقع سے زیادہ ردعمل کا انہیں سامنا کرنا ہو گا کیونکہ انسان بے روزگاری، بیماری، بے بسی اور مایوسی سے اس طرح نکل رہا ہو گا، جس طرح بلندی سے گہرے پانی میں گرنے والا کوئی شخص پانی کی اتھاہ گہرائی میں جا کر اوپر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمی تحریک کی طرح ملکوں کے اندر بھی تحریکیں مدو جزر سے گزر کر نئی دنیا تخلیق کر رہی ہوں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی بقا، فلاح اور تسخیر کائنات کی جدوجہد کو فطرت سے آہنگ کرے گا۔ ماحولیات کے تحفظ پر زیادہ حساس ہوگا۔ اس تاریکی میں ایک نئی صبح ابھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ انقلابات کے ساتھ ساتھ سیاسی، معاشی، سماجی، نظریاتی کایا پلٹ والی نئی دنیا نمودار ہوتی دیکھ رہا ہوں۔ انسان کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

صبح ہونے ہی کو ہے اے دلِ بیتاب ٹھہر!

Nafees-Siddiqi-jang